طیارے کے پہیوں میں چھپا نوجوان ’11 گھنٹے طویل‘ پرواز کے بعد ایمسٹرڈیم پہنچ گیا

ڈچ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ہوائی جہاز کے پہیے والے حصے میں چھپ کر جنوبی افریقہ سے ایمسٹرڈیم آنے والا ’سٹو اوے‘ مسافر 22 سالہ کینیائی شہری ہے۔ یہ جہاز جنوبی افریقہ سے ایمسٹرڈیم کے سکیِپال ایئرپورٹ پہنچا تھا۔

کینیائی شہری کا ارادہ نیدرلینڈز میں سیاسی پناہ کی درخواست دینے کا ہے۔

یہ کارگو یا مال بردار پرواز جوہانسبرگ سے ایمسٹرڈیم کے لیے روانہ ہوئی تھی، اور 11 گھنٹے طویل یہ پرواز کچھ دیر کے لیے کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں رکی تھی۔

اتنی لمبی پرواز پر اس طرح سے چھپ کر سفر کرنے والے مسافروں (سٹو اویز) کا زندہ بچ جانا ایک غیر معمولی واقعہ ہے کیونکہ بلندی پر سخت ٹھنڈ ہوتی ہے اور ہوا میں آکسیجن بھی کم ہوتی ہے۔

حکام کے مطابق وہ شخص جہاز کے اگلے پہیے کے خانے میں چھپا ہوا تھا جہاں سے اسے مستحکم حالت میں ہسپتال لے جایا گیا۔

فلائٹ ڈیٹا کے مطابق اتوار کے روز کارگولکس کی صرف ایک پرواز نیروبی رکتے ہوئے جوہانسبرگ سے سکیِپال پہنچی تھی۔ ڈچ پولیس یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا وہ جنوبی افریقہ سے چڑھا یا کینیا سے۔

وہ شخص جہاز راں کمپنی کارگولکس کی فلائٹ پر تھا جو جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ سے چلی اور کینیا کے دارالحکومت نیروبی سے ہوتی ہوئی ڈچ دارالحکومت پہنچی تھی۔

ڈچ فوج کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’توقع ہے کہ وہ نیدرلینڈز میں پناہ کی درخواست دے گا، لیکن اس وقت ترجیح اس کا طبی علاج ہے۔‘

ترجمان کا کا کہنا تھا کہ ان حالات میں ’زندہ بچ جانا انتہائی غیر معمولی بات ہے۔‘

ڈچ براڈکاسٹر ایس او ایس کے مطابق مذکورہ شخص کے جسم کا درجۂ حرارت ایئرپورٹ پر ہی بڑھایا گیا اور ایمبولنس کے پہنچنے تک اس کے حواس اس قدر بحال ہو چکے تھے کہ وہ بنیادی سوالوں کے جواب دے سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.