عارضی جنگ بندی کیلئے حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان میں مفاہمت

پشاور: پاکستانی حکام کی ملک میں تقریباً 2 دہائیوں سے جاری عسکریت پسندی کے خاتمے کی غرض سے ایک وسیع تر امن معاہدہ کرنے کے لیے کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ عارضی مفاہمت ہوگئی ہے۔

 رپورٹ کے مطابق یہ بات اس پیش رفت سے واقف مختلف ذرائع نے ڈان کو بتائی۔

ذرائع نے بتایا کہ افغانستان کے جنوب مغربی صوبے خوست میں تقریباً دو ہفتوں سے دونوں فریقین کے درمیان براہ راست آمنے سامنے ہونے والی بات چیت جاری تھی۔

بات چیت کا نتیجہ ملک بھر میں جنگ بندی کا اعلان کرنے کے لیے ایک عارضی مفاہمت کی صورت میں نکلا جو اعتماد سازی کے لیے ٹی ٹی پی کے کچھ معمولی جنگجوؤں کی رہائی سے مشروط ہے۔

فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ پاکستان کی حراست میں موجود کتنے عسکریت پسندوں کو رہا کردیا جائے گا البتہ ذرائع کا کہنا تھا کہ ان کی تعداد 2 درجن سے زیادہ نہیں۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ’یہ معمولی جنگجو ہیں سینیئر یا درمیانی درجے کے کمانڈرز نہیں ہیں، ہم زمینی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور محتاط ہیں‘۔

ذرائع نے نام نہ بتانے کی شرط پر مزید کہا کہ ’جب زیر حراست افراد رہا ہوجائیں گے تو جنگ بندی عمل میں آئے گی‘۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا عارضی طور پر کی جانے والی ایک ماہ کی جنگ بندی میں توسیع اس بات پر منحصر ہے کہ مذاکرات کس طرح آگے بڑھتے ہیں۔

یہ بات بھی غیر واضح ہے کہ پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کس نے کیے۔

ذرائع نے بتایا کہ افغانستان کی طالبان حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے رہے ہیں اور دونوں فریقین کو آمنے سامنے بات چیت کے لیے ایک چھت تلے لے کر آئے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات براہِ راست سینیئر افسران اور ٹی ٹی پی کی سینیئر قیادت کے درمیان ہوئے، جس میں ٹی ٹی پی کے تمام گروہ شامل تھے، اس ضمن میں بہت سی تجاویز سامنے رکھی گئیں اور دونوں فریقین قابل عمل حل نکالنے کے لیے کام کررہے ہیں‘۔

ذرائع نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹی ٹی پی قیادت سے مذاکرات میں فی الوقت کسی قبائلی ثالث سے رابطہ نہیں کیا گیا، انہیں مناسب وقت پر شامل کیا جائے۔

یاد رہے کہ ایک ترک نیوز چینل کو گزشتہ ماہ انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ ان کی حکومت ٹی ٹی پی سے مذاکرات کررہی ہے تا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور معافی کے بدلے میں صلح کر کے عام شہریوں کی طرح زندگی گزار سکیں۔

تاہم ٹی ٹی پی نے عمران خان کی معافی کی پیشکش کو مسترد کر دیا تھا اور اس بات پر اصرار کیا تھا کہ ان کی جدوجہد پاکستان میں شریعت کے نفاذ کے لیے ہے۔

پاکستانی سیکیورٹی حکام ملک میں حملوں میں اضافے کا حوالے دیتے ہوئے افغان طالبان پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اپنے بین الاقوامی وعدوں کے مطابق اپنی سرزمین پر ٹی ٹی پی کے اڈے بند کر دیں۔

افغانستان کا اقتدار سنبھالنے سے کچھ ہی عرصہ قبل تحریک طالبان نے ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کر کے اسے پاکستان کے خلاف دشمنی بند کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے ایک تین رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیشن تشکیل دیا تھا۔

اس وقت باخبر ذرائع نے کہا تھا کہ افغان طالبان کی قیادت قبائلی وابستگیوں اور افغانستان میں غیر ملکی قبضے کے خلاف ان کی مشترکہ لڑائی اور قربانیوں کے باعث طاقت کے استعمال سے گریزاں تھی۔

اس کے بعد ان لوگوں کی جانب توجہ مبذول کی گئی جو مذاکرات کے قابل سمجھے جارہے تھے، جب کہ افغان طالبان سینئر پاکستانی ثالثوں کے ساتھ براہ راست، آمنے سامنے مذاکرات کے لیے ہچکچاہٹ کی شکار ٹی ٹی پی قیادت پر کام کرتے رہے۔

ذرائع کے مطابق کچھ حکومتی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ جہاں ٹی ٹی پی کے کچھ معمولی جنگجو اور دیگر افراد لڑائی اور جلا وطنی میں رہ کر تھک چکے ہیں اور معافی کی پیشکش سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں وہیں کچھ عسکری رہنما بشمول ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور لی اور جماعت الاحرار کے رہنما عمر خالد خراسانی ’شدید مشکل‘ ثابت ہوئے اور بات چیت کی مزاحمت کرتے رہے، تاہم اب سب مشاورت میں ہیں۔

ٹی ٹی پی نے ابھی تک بات چیت یا دونوں فریقوں کے درمیان طے پانے والی عارضی مفاہمت کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

error: