Site icon Dunya Pakistan

عارف نظامی بھی رخصت ہوگئے!

میرے رب کا فرمان ہے کہ ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔یہ بات ہمارے ایمان کا جزو ہے کہ جو اس جہان میں آیا، اسے بالاخر رخصت ہوجانا ہے۔ اس کے باوجود جانے والوں کی رخصتی دل کو دکھی کر جاتی ہے۔ عید کے روز عارف نظامی صاحب کے انتقال کی اطلاع سے نہایت رنج پہنچا۔ کچھ عرصہ سے میں سیاسی اور صحافتی اطلاعات سے نسبتا بے نیاز رہتی ہوں۔ عارف صاحب کی رحلت کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ وہ کئی ہفتوں سے علیل تھے۔ غالبا ہسپتال میں زیر علا ج بھی۔ اپنی بے خبری پر مجھے افسوس ہوا۔ اگرچہ عارف صاحب سے میرا کچھ ذیادہ رابطہ نہ تھا۔ مگر احترام کا تعلق ضرور تھا۔ کچھ برس میں نے اس صحافتی ادارے میں کام بھی کیا، جس کی کمان ابتدا میں عارف صاحب کے سپرد تھی۔ اس ملازمت کو خیر آباد کہنے کے بعد بھی ان سے کبھی کبھار ملاقات یا رابطہ ہو جاتا۔ آخری مرتبہ میں نے انہیں اپنے شاگردوں کیلئے ایک خصوصی لیکچر دینے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے خوش دلی سے ہامی بھر لی۔ مگر کرونا آڑے آگیا اور یہ لیکچر نہ ہو سکا۔
برسوں قبل جامعہ پنجاب سے ایم۔اے کرنے کے بعد میں نے نوائے وقت گروپ جوائن کیا تھا۔ مجید نظامی صاحب کی خواہش تھی کہ ایک ایسا ٹیلی ویژن چینل شروع کیا جائے، جو اسلامی اقدار اور نظریہ پاکستان کا علمبردار ہو۔ ابھی چینل کا منصوبہ کاغذوں میں بھی پایہ تکمیل کو نہ پہنچا تھا کہ نظامی صاحب نے فرمائش کی کہ قائد اعظم او ر علامہ اقبال پر دستاویزی پروگرام تیار کروائے جائیں۔ نظامی صاحب نے امیدواروں کے باقاعدہ انٹرویو کئے۔میرا بھی انٹر ویو ہوا۔ اور یہ ذمہ داری میرے سپرد ہو گئی۔ یعنی میں تین چار افراد پر مشتمل اس ابتدائی ٹیم کا حصہ تھی جس نے آغاز میں وقت ٹی وی جوائن کیا تھا۔اگلے سال ڈیڑھ سال تک مزید کوئی بھرتی نہیں ہوئی۔ میرے سامنے وقت ٹی وی کی عمارت کی تعمیر شروع ہوئی۔ ایک ایک ڈیپارٹمنٹ کی منصوبہ بندی ہوئی۔ عارف نظامی صاحب اس پروجیکٹ کے سربراہ تھے۔ اللہ پاک عائشہ ہارون کی مغفرت فرمائے۔ وہ نیشن کی ریذیڈنٹ ایڈیٹر تھیں۔ وہ بھی وقت ٹیلی ویژن کے معاملات دیکھا کرتیں۔ کچھ عرصہ بعد ابصار عالم بھی وقت ٹی وی چلے آئے۔عارف صاحب وقتا فوقتا زیر تعمیر عمارت کے جائزے کے لئے تشریف لاتے۔اس وقت ایک دو کمرے ہی دستیاب تھے۔ ہم بھی وہیں بیٹھا کرتے، عارف صاحب بھی کبھی کبھار وہیں میٹنگ کر لیا کرتے۔ وہ اچھی خاصی رعب دار شخصیت کے مالک تھے۔ مگر نہایت دھیمے لہجے میں، تحمل اور بردباری سے گفتگو کرتے۔ ایک آدھ بار میں نے انہیں کسی کی ڈانٹ ڈپٹ کرتے بھی دیکھا۔ لیکن غصے میں بھی وہ تہذیب کا دامن تھامے رہتے۔ میں نے کبھی انہیں اخلاقیات سے گرے الفاظ بولتے نہیں سنا۔ اتفاق دیکھیے کہ بطور تجزیہ کار، وہ ایسے ٹیلی ویژن چینلوں کیساتھ منسلک رہے جو مخصوص سیاسی جھکاو کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ان چینلوں کی خبریں اور پروگرام بھی ایک تیکھے مزاج میں ڈھلے ہوتے ہیں۔ عارف صاحب نے ان ٹی وی چینلوں میں بھی اپنی شائستگی اور بردباری کو برقرار رکھا۔ صحافتی اخلاقیات سے گرا جملہ یا الفاظ ان کے منہ سے شاید ہی کبھی نکلا ہو۔ عارف صاحب سیاسی جھکاو رکھتے تھے۔ سنتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کیساتھ ان کا قریبی تعلق تھا۔ زرداری صاحب اور پیپلز پارٹی کے سرکردہ سیاستدانوں سے ان کی دوستی کا میں نے خود بھی مشاہدہ کیا۔ خوبی ان کی یہ تھی کہ وہ شعوری کوشش کیا کرتے کہ ان کا سیاسی جھکاو ان کے کالموں اور ٹیلی ویژن پروگراموں میں جھلکتا محسوس نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے تجزیوں تبصروں سے جانبداری کی بو نہیں آتی تھی۔
وقت ٹی وی میں ایک وقت وہ آیا جب مجید نظامی صاحب کی بیٹی رمیزہ نظامی نے چینل کی سربراہی سنبھال لی۔ عارف صاحب کا عمل دخل کم ہوتا چلا گیا۔ جتنے سال میں وقت ٹی وی میں رہی، پرائم ٹائم سیاسی پروگرام میرے ذمہ تھے۔ عارف صاحب سے وقتا فوقتا شرکت کی درخواست کرتی۔ شہر میں ہوتے تو ضرور تشریف لاتے۔ کسی مالک کی طرح نہیں۔ ایک صحافی اور تجزیہ کار کی طرح پروگرام میں شریک ہوتے اور رخصت ہو جاتے۔ اس زمانے میں میرا بھارتی صحافیوں سے رابطہ رہا کرتا تھا۔ ایک دن مجھے معلوم ہوا کہ کلدیپ نئیر پاکستان آرہے ہیں۔ میں نے کلدیپ نئیر کو فون کیا اور ایک پروگرام میں شرکت کا وعدہ لے لیا۔ پاکستان آنے سے ایک دن پہلے، انہوں نے معذرت خواہانہ انداز میں مجھے اطلاع دی کہ پاکستانی میڈیا میں بہت سے دوست انٹرویو کرنا چاہتے ہیں۔ تنگی وقت کی وجہ سے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی کو بھی انٹرویو نہیں دوں گا۔ آپ بھی معذرت قبول کیجئے۔ مجھے ایک خصوصی انٹرویو ہاتھ سے جاتا محسوس ہوا تو میں نے مصلحتا ایک کہا نی گھڑ لی۔ عرض کیا کہ اب تو میں تمام تیاری کئے بیٹھی ہوں۔ آپ کے ساتھ عارف نظامی کو بھی مدعو کر چکی ہوں۔ (اگرچہ عارف صاحب کو میں نے بعد میں دعوت دی تھی)۔ یہ سن کر کلدیپ نیئر کہنے لگے کہ اوہو پھر تو کوئی گنجائش نہیں بچتی۔ عارف صاحب کو منع کرنا کچھ اچھا معلوم نہیں ہوتا۔ اگلے دن عارف صاحب خود کلدیپ نئیر کو لے کر اسٹوڈیو چلے آئے۔ کلدیپ نئیر نے اس دورے میں صرف ہمارے چینل کو انٹرویو دیا اور واپس بھارت لوٹ گئے۔ اس قصے سے مجھے معلوم ہوا کہ پاکستان سے باہر بھی عارف صاحب کا نہایت عزت و احترام ہے۔

ان کی وفات پر ان کے دیرینہ ساتھیوں اوررفقاء نے نہایت عمدہ کالم تحریر کئے ہیں۔ بہت سوں نے ذکر کیا ہے کہ عارف صاحب کے ہر طرح کی شخصیات سے ذاتی تعلقات تھے۔ مگر انہوں نے کبھی اپنی ذاتی دوستیوں کو اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ مختلف کالموں میں لکھے یہ جملے پڑھ کر کچھ پرانے واقعات میری یاداشت میں تازہ ہو گئے۔
مجھے یاد ہے کہ ایک بار عارف صاحب نے کال کی کہ خواجہ آصف شہر میں موجود ہیں۔ میں نے انہیں پروگرام کیلئے مدعو کر لیا ہے۔ آپ آج رات کے پروگرام میں ان کو بطور مہمان لے لیں۔ خواجہ صاحب وقت مقررہ پر آن پہنچے۔ ہم نے ان کے ساتھ سیدہ عابدہ حسین کو بلوا رکھا تھا۔ خواجہ صاحب سیٹ پر بیٹھے تھے کہ عابدہ حسین چلی آئیں۔ خواجہ صاحب نے انہیں دیکھا۔ ان کے چہرے پر ناگوار تاثرات ابھرے اور وہ مائیک اتار کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ میں اور ٹیم کے ایک دو لوگ باہر لپکے کہ کیا مسئلہ ہے۔ یہ پرویز مشرف کا دور تھا۔ خواجہ صاحب تب بھی دھڑلے سے بات کیا کرتے تھے۔ اپنے مخصوص انداز میں کہنے لگے کہ میں آمروں کی جوتیوں میں بیٹھنے والوں کے ساتھ نہیں بیٹھوں گا۔بار بار سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والی کسی" لوٹی" کے ساتھ گفتگو نہیں کروں گا۔۔ ہم نے انہیں بہت قائل کیا مگر وہ ناراضی میں پروگرام چھوڑ کر چلے گئے۔ خواجہ آصف،عارف نظامی صاحب کے ذاتی دوست تھے۔ عارف صاحب ہی کی دعوت پر ہمارے پروگرام میں شرکت کیلئے آئے تھے۔ ان کے اس طرح چلے جانے سے مجھے خدشہ تھا کہ اب عارف صاحب نہایت خفا ہونگے۔ مجھے یہ خیال بھی آیا کہ مجھے عارف صاحب کو پروگرام کے دیگر مہمانوں کے متعلق پیشگی مطلع کر نا چاہیے تھا۔ لیکن عارف صاحب نے مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ چند دن بعد ملے تو اپنے مخصوص دھیمے انداز میں یہ قصہ دہرایا۔ کہنے لگے کہ خواجہ صاحب نہایت خفا ہو رہے تھے۔ آپ نے انہیں کس کے ساتھ بٹھا دیا تھا۔ اور بس۔۔۔۔پیپلز پارٹی کی وفاق میں حکومت تھی۔ ایک سیاسی پروگرام میں شیری رحمن کی وقت ٹی وی کے اینکر سے تلخ کلامی ہو گئی۔ شیری مائیک اتار کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔ جھگڑا کچھ بڑھ گیا۔ مجھے اطلاع ملی تو میں نے کولیگزسے کہا کہ شیری رحمن سے عارف صاحب کی دوستی ہے۔ اب یہ شکایت ان تک پہنچے گی۔ آپ عارف صاحب کی ڈانٹ ڈپٹ کے لئے تیار رہیں۔پھر یوں ہوا کہ عارف صاحب تک شکایت پہنچی بھی۔مگر انہوں نے پروگرام کی ٹیم کو کچھ نہیں کہا۔ ان کے اس طرز عمل سے احسا س مجھے یہ ہوا کہ وہ اپنے مالکانہ استحقاق اور ذاتی دوستیوں کو اپنے ادارے کے ملازمین پر زبردستی لاگو کرنے کے خلاف ہیں۔
عارف نظامی معتدل اور متوازن صحافت کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ نہ جانے ان کا خلا کیسے پر ہو گا۔ کالم لکھ رہی ہوں تو خیال آ رہا ہے کہ کیا مجید نظامی صاحب کے بعد اب عارف صاحب کی رخصتی سے نظامی خاندان کی صحافت کا باب بھی بند ہو جائے گا؟ مجھے یاد آ رہا ہے کہ مرحومہ عائشہ ہارون کہا کرتی تھیں کہ عارف صاحب کے چھوٹے بیٹے (غالبا یوسف نظامی) میں صحافت کے حوالے سے بہت سپارک ہے۔ اللہ کرئے کہ ان کے بیٹوں میں سے کوئی ضرو ر آگے بڑھے اور اپنے بزرگوں کی صحافتی میراث کو آگے بڑھائے۔ آمین

Exit mobile version