عالمی ادارہ صحت کی تحقیق: زیادہ دیر تک کام کرنا موت کی وجہ بن سکتا ہے

عالمی ادارہ صحت ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن( ڈبلیو ایچ او) کی ایک نئی تحقیق کے مطابق سالانہ کام کرنے کے طویل اوقعات کے باعث لاکھوں افراد کی ہلاکت ہو رہی ہے۔

عالمی سطح پر اپنی نوعیت کی ایک پہلی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سنہ 2016 میں طویل دفتری اوقات کے باعث 745000 افراد دل کے دورہ پڑنے یا فالج ہونے سے ہلاک ہوئے تھے۔

رپورٹ سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا اور مغربی بحر الکاحل میں رہنے والے افراد سب سے زیادہ متاثرہ تھے۔ عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ کورونا کی وبا کے باعث اس رحجان میں مزید تیزی آسکتی ہے۔

تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ہفتے میں 55 گھنٹے یا اس سے زیادہ کام کرنے والے لوگوں میں فالج کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اور دل کی بیماری کی وجہ سے موت واقع ہونے کی شرح 40-35 گھنٹے کام کرنے والوں کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہوتی ہے۔

یہ تحقیق مزدوروں کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے ساتھ مل کر کی گئی۔ اس سے مزید یہ پتا چلا کہ طویل اوقات کی وجہ سے اموات میں تین تہائی تعداد ان افراد کی تھی جو درمیانی عمر کے یا بڑی عمر کے تھے۔

دل کا دورہ

میں اب مزید سارا دن زوم پر نہیں گزاروں گا

پانچ ہفتے قبل، لِنکڈ ان کی ویب سائٹ پر 45 سالہ جوناتھن فروسٹک کو اس وقت شہرت ملی جب انھوں نے اپنی ایک پوسٹ میں یہ بتایا کہ کیسےانھیں کام کرنے کے طویل اوقات کے بارے میں سنجیدگی سے اندازہ ہوا۔

ایچ ایس بی سی بینک کے لیے کام کرنے والے جوناتھن اتوار کے روز اپنے آنے والے دنوں کا شیڈول تیار کر رہے تھے جب انھیں اچانک سینے میں درد ہوا اور ساتھ ہی ان کے گلے، بازو اور جبڑوں میں بھی درد شروع ہوگیا۔انھوں نے اپنی بیوی کو آواز دی جنھوں نے ایمبولنس بلائی۔

'میں بیڈروم میں جا کر لیٹنے لگا تھا اور میں نے اپنی بیوی کو یہ بتایا جس نے ایمبولینس کو فون ملایا۔'

جوناتھن نے دل کے دورے سے صحتیابی کے دوران اپنے کام کرنے کے طرز عمل کو بدلنا شروع کیا۔

'میں اب سارا دن زوم پر نہیں گزار رہا۔'

لنکڈان پر ان کی پوسٹ کو ہزاروں لوگوں نے سراہا اور سب نے اپنے طویل کام کرنے کے اوقعات کے بارے میں اور صحت پر اس کے اثرات کا ذکر کیا۔

جوناتھن کہتے ہیں کہ وہ اپنی کمپنی کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتے لیکن اس صارف نے ان کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ کمپنیاں اپنے ملازمین کی پرواہ کیے بغیر کام کے معاملے میں انھیں آخری حد تک دھکیل دیتی ہیں۔

ان کی کمپنی ایچ ایس بی سی نے کہا ہے کہ وہ جوناتھن کی جلد صحتیابی کی امید کرتے ہیں۔

ایچ ایس بی سی کا کہنا تھا کہ 'ہمیں پتا ہے کہ آپ کی صحت اور کام کے بیچ میں ایک اچھا توازن ہونا چاہیے۔ گزشتہ برس سے ہم نے ذاتی صحت پر بہت زیادہ زور دینا شروع کیا ہے۔ اس موضوع پر لوگوں کے جواب دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے بارے میں کس قدر سوچتے ہیں اور ہم سب کی اس حوالے سے حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ وہ اپنی صحت کو پہلی ترجیح بنائیں'۔

عالمی ادارہ صحت نے یہ تحقیق کورونا کی وبا سے پہلے کی ہے اس لیے وبا کے دوران کے اعداد و شمار اس میں شامل نہیں کیے گئے۔ تاہم حکام کا یہ ضرور کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھر سے کام کرنے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ اور اس سے طویل اوقات تک کام کرنے سے ہونے والے خطرات بھی بڑھیں گے۔

ڈبلیو اچ او کی ٹیکنیکل آفیسر فرینک پیگا کے مطابق: 'ہمارے پاس کچھ ایسے ثبوت ہیں جن سے یہ پتا چلتا ہے کہ جیسے ہی بہت سے ممالک نے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تو اس سے کام کرنے کے اوقات میں دس فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔'

کام کے طویل اوقات

محققین کے مطابق دو ایسے طریقے ہیں جن سے دیر تک کام کرنے کی وجہ سے صحت خراب ہوتی ہے۔ پہلا، کام کی وجہ سے ہونے والا ذہنی دباؤ یا پریشانی اور دوسرا یہ کہ زیادہ کام کرنے والے لوگ صحت کو نقصان پہنچانے والی چیزوں کا استعمال زیادہ کرتے ہیں جیسا کہ سگریٹ اور شراب۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی نیند بھی پوری نہیں ہوتی اور وہ ورزش بھی کم کرتے ہیں جبکہ ان کی خوراک بھی صحت مند نہیں ہوتی۔

32 برس کے اینڈریو فالز شمالی انگلینڈ کے شہر لیڈز میں ایک سروس اینجینیئر کے طور پر کام کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جس کمپنی میں وہ پہلے کام کر رہے تھے وہاں زیادہ دیر تک کام کرنے کی وجہ سے ان پر ذہنی اور جسمانی دباؤ میں اضافہ ہوا۔

'پچاس سے 55 گھنٹے کام کرنا بہت عام بات تھی، میں کئی کئی ہفتے گھر سے دور رہتا تھا۔ پریشانی، ڈپریشن اور اضطراب کے ایک گول دائرے میں پھنس کر رہ گیا تھا۔ میں ہر وقت تھکا تھکا رہنے لگا تھا۔'

پانچ برس کے بعد انھوں نے وہ کام چھوڑ کر ایک سافٹ ویئر اینجنیئر بننے کی تربیت حاصل کی۔

زیادہ دیر تک کام کرنے والے لوگوں کی تعداد میں کورونا وائرس سے پہلے ہی اضافہ ہو رہا تھا۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر کی آبادی میں یہ شرح نو فیصد تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: