عالمی سیاست کا منظر نامہ

"احمد علی کورار"
اس وقت اگر خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال پہ نگاہ ڈالی جائے تو عالمی سیاست کے محور پہ ہمیں دو چیزیں نظر آتی ہیں.

ایک طرف افغانستان سے امریکی فوجی انخلا اور دوسری جانب پاک بھارت تعلقات میں ثالثی کی کوشیش.

امریکہ یکم مئی سے اپنے فوجیوں کا افغانستان سے انخلا شروع کرنا چاہتا ہے.

بعض مبصرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ کا افغانستان سے اچانک فوجی انخلا منفی اثرات باعث بن سکتا ہے.

ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایسی صورتحال میں کیا امریکا طالبان اور افغان حکومت کسی معاہدے کا پابند ہوسکتے ہیں جس کے ساتھ وہ جڑے رہ سکیں.

پاکستان کی مدد کے بغیر افغانستان میں استحکام کا راستہ تلاش کرنا ناممکن ہے.

اب ایسے سمجھوتے کے لیے بھی پاکستان نے ہی اپنا حصہ ڈالنا ہے کیونکہ اس سارے امن پراسس میں پاکستان کا ایک بہتر کردار رہا ہے.

ذرا ماضی قریب میں جائیں تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ افغان امن عمل میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے.

پاکستان نے ان تینوں قوتوں کو قریب لانے میں بھر پور کوشیش کی ہیں.

ایسا سب کچھ پاکستان کے تعاون اور اشتراک کے بغیر ناممکن تھا.

پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں پائیدار امن واستحکام کی کوششوں کی مستقل حمایت اور ان میں سہولت کاری کی ہے.

امریکی ناظم الامور نے بھی خطے میں امن کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا ہے.

اس حقیقت سے مفر ممکن نہیں کہ افغانستان کے تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں اور افغان قیادت میں افغانوں کو قبول مذاکرات کے ذریعے سیاسی تصفیہ ہی افغانستان میں دائمی امن اور استحکام کے لیے اہم ہے.

اگر پاک بھارت تعلقات کی بات کی جائے تو پہلی بار سابق امریکی صدر نے پیشکش کی تھی جو ثمر بار نہ ہو سکی اس کی بنیادی وجہ ان کی سنجیدگی کا پائیدار ثابت نہ ہونا اور خود بھارتی حکومت اور بھارتی میڈیا نے بھی مبالغہ آرائیوں سے کام لیا.

ایک بار پھر پاک بھارت تعلقات میں ثالثی کے اشارے ملے ہیں اور اسے اماراتی سفیر نے بھی ایک مثبت اشارہ سے تعبیر کیا ہے.

اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ پاک بھارت تعلقات میں بہتری اور فعالیت کا تنازع مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ہے.

سوال یہاں پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری اور کشمیر میں ہونے والے مظالم کی روک تھام کو عالمی سیاست کس طرح پیشِ نظر رکھے گی.

کیا ایسا کرنے میں عالمی برادری کامیاب ہوگی؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *