عالیہ بھٹ کے اشتہار پر انڈیا میں سوشل میڈیا پر بحث

انڈیا میں آجکل ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر دو اشتہار چھائے ہوئے ہیں، ان میں سے ایک کپڑوں کے برانڈ 'مانیہ ور موہو' کا اشتہار ہے جس میں اداکارہ عالیہ بھٹ دلہن کے روپ میں نظر آرہی ہیں۔

دوسرا اشتہار کیڈبری چاکلیٹس کا ہے جس میں چنئی سے تعلق رکھنے والی تیراک اور اداکارہ کاویہ رامچندرن ایک کرکٹر کے کردار میں ہیں۔

ایک اشتہار انڈین معاشرے میں رائج روایات اور رسم و رواج پر سوال اٹھاتا ہے تو دوسرا ایسا لگتا ہے کہ صنف کے حوالے سے دقیانوسی تصورات یا قدامت پسند نظریے کو چیلنج کرتا نظر آتا ہے۔

مانیہ ور موہو کپڑوں کا ایک برانڈ ہے۔ عالیہ بھٹ اس اشتہار میں دلہن کے کردار میں شادی کے منڈپ میں بیٹھی ہیں اور رسم و رواج کی زنجیروں میں پھنسی لڑکی کے ذہن میں آنے والے سوالات کو اٹھا رہی ہیں۔

’بیٹی پرایا دھن کیوں ہے، وہ کیوں کسی اور کی امانت ہوتی ہے؟ اسی کا کنیا دان کیوں ہوتا ہے؟‘

اس اشتہار کے آخر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لڑکے کے والدین اپنے بیٹے کا ہاتھ آگے بڑھاتے ہیں اور عالیہ کہتی ہیں 'نیا آئیڈیا کنیا مان' یعنی ’بیٹی کی قدر'۔

سوشل میڈیا پر اس اشتہار کی جہاں تعریف ہو رہی ہے وہیں اسے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔

ایک صارف انوپما راٹھی لکھتی ہیں' کہ یہ ترقی پسند پیغام مساوات کو فروغ دیتا ہے۔ صرف بیٹیاں ہی کیوں دی جاتی ہیں؟ وہی روایات لیکن نئے نظریے کے ساتھ'۔

ایک اور صارف دی موہت ورما لکھتے ہیں 'یہ اشتہار ہندوؤں کے جزبات کی نفی کرتا ہے، پہلے 'کنیا دان ' کا مطلب سمجھیے اور ہندووں اور انکی رسموں کی مخالفت بند کیجیے'۔

لڑکی شناخت کا سوال

'مانیہ ور موہو' کے اشتہار کو کافی حد تک ایک تحریک سمجھنے والی ڈاکٹر ایشیتا اگروال کہتی ہیں کہ ’یہ اشتہار انڈین معاشرے میں رچے بسے ایک خیال یا عقیدے کو چیلنج کرتا ہے کہ کنیا دان کا تصور کیا ہے۔ کیا لڑکی آپ کی جاگیر ہے یا آپ اس کے مالک ہیں کہ اس کا عطیہ دے سکیں اور دان یا عطیے کا مطلب ہے کہ ایک چیز کو ایک مالک کا دوسرے مالک کو دینا، تو آپ اس رواج کی پیروی کرتے ہوئے لڑکی کی شناخت کو ہی کم کر رہے ہیں۔‘

بی بی سی کے ساتھ گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اپنی شادی میں اپنے والد کو 'کنیا دان' کی رسم ادا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

ڈاکٹر ایشیتا مارکیٹنگ پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کنزیومر انسائیٹ کنسلٹنٹ بھی ہیں۔ ان کے مطابق 'کوئی بھی چیز ٹرول تب ہوتی ہے جب وہ لوگوں کے دل پر لگتی ہے۔ جب وہ جرم یا احساسِ جرم محسوس کرتے ہیں تو اس کا جواز پیش کرنا چاہتے ہیں'۔

وہ کہتی ہیں 'جب انھوں نے لِنکڈ اِن پر ان دونوں اشتہارات پر لکھا تو بہت سے پڑھے لکھے لوگوں نے مانیہ ور موہو کے اشتہار کو خواتین کی حفاظت سے جوڑا اور کہا کہ ایک باپ اپنی بیٹی کی حفاظت کے لیے دوسرے کو دے رہا ہے۔ لیکن یہاں حفاظت کا کیا مطلب ہے؟ خواتین خود بھی مالی طور پر با اختیار ہو رہی ہیں اور معاشرے میں بھی اپنی شناخت بنا رہی ہیں۔ خواتین آج کی تاریخ میں اپنے بچوں اور خاندان کی ذمہ داری اٹھا رہی ہیں، جبکہ آپ اس کی جنس کو کمتر دکھا رہے ہیں۔‘

شاردا
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر اے ایل شاردا

ڈاکٹر شاردا کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ہر اس چیز سے الجھتے ہیں جو ان کے مطابق ثقافت اور مذہبی روایات پر سوال اٹھانا یا چیلنج کرنا ہے۔

خواتین کا کردار بدل گیا ہے

انڈیا میں اشتہاری معیارات سے متعلق ادارے کی کنزیومر کمپلینٹ کونسل (سی سی سی) کی رکن پی این وسنتی کا کہنا ہے کہ اشتہارات کی دنیا بہت آگے آچکی ہے اور اس میں خواتین کا کردار بھی بدل گیا ہے۔

وہ کہتی ہیں 'ایک زمانے میں عورتوں کا اعتراض ہوتا تھا کہ قلم ہو یا ٹائر کا اشتہار اس میں ایک خوبصورت لڑکی کو نیم عریانی کے ساتھ دکھایا جاتا تھا۔ یہ سب وقت کے ساتھ بدل گیا ہے۔‘

حال ہی میں انڈین جیولری برانڈ تنِشک کا ایک اشتہار آیا تھا۔ یہ اشتہار ایک شادی شدہ جوڑے سے متعلق تھا جو مختلف برادریوں سے تعلق رکھتا تھا اور اس میں ایک مسلمان خاندان میں ایک ہندو بہو کی گود بھرائی کی رسم دکھائی گئی تھی۔ تنِشک کو یہ متنازعہ اشتہار ہٹانا پڑا تھا۔

تنِشک
،تصویر کا کیپشنجیولری برانڈ تنِشک کے اشتہار پر خاصا ہنگامہ ہوا تھا

اشتہارات اور سوچ

ایک انڈین برانڈ سبھیتا کے اشتہار میں ایک ساس اپنی بہو کے ساتھ مل کر اپنے بیٹے سے کام کرواتی ہے۔

ڈاکٹر ایشیتا اگروال کا کہنا ہے کہ پچھلے 10 سے 12 برسوں میں بہت کچھ بدل گیا ہے اور اشتہارات کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، ترقی پسند اور تحریک دینے والے اشتہارات جو خواتین کی شناخت کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور یہاں وہ کیڈبری اشتہار کی مثال دیتے ہوئے اسے ترقی پسند زمرے میں ڈالتی ہیں۔

کیڈبری کا تازہ ترین اشتہار دراصل 27 سال پہلے آنے والے اشتہار کا اُلٹ ہے۔ اِس اشتہار کو کافی پذیرائی مل رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ لوگ اسے پرانی یادوں کو تازہ کرنے کی طرح محسوس کر رہے ہیں۔

یہ ایک مثبت ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جہاں ایک خاتون کرکٹ میچ میں ایک چھکا لگاتی ہے اور ایک پرجوش مرد اس کامیابی کا کھلے دل سے جشن منا رہا ہے۔ یہ اشتہار #ہیش ٹیگ 'گڈ لک گرلز' پر ختم ہوتا ہے۔

پدم شری ایوارڈ یافتہ اور اوگلاوی ایجنسی میں چیف کریٹیو افسر (ورلڈ وائیڈ) پیوش پانڈے کا کہنا ہے کہ 1994 میں بھی لوگ یہ نہیں سوچ سکتے تھے کہ کوئی لڑکی عوامی طور پر آزادانہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے میدان میں آ کر رقص کر سکتی ہے۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر ایشیتا اگروال

ان کے مطابق 'ہمارا مقصد لڑکوں کو نئے کرداروں میں دکھانا نہیں تھا بلکہ لڑکیاں جس طرح آگے بڑھ رہی ہیں اس کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ اور ہیش ٹیگ گڈ لک گرلز کے پیچھے ارادہ ان تمام لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو کچھ کر رہی ہیں اور یہ کہ وہ مزید بہتر کریں۔ میں اس اشتہار کی لمبی عمر دیکھ سکتا ہوں'۔

ویمن کرکٹ ورلڈ کپ سال 2022 میں کھیلا جانا ہے اور کیڈبری کا اشتہار خواتین کرکٹرز کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور پچھلے کئی برسوں میں ان کی بہترین کارکردگی دکھاتا ہے۔ اس کے ساتھ اولمپکس میں ان کی شاندار کارکردگی کی تصویر بھی پیش کرتا نظر آتا ہے۔

ڈاکٹر شاردا کہتی ہیں کہ اگرچہ ’ہم آج کی نسل کے بارے میں بات کریں تو وہ پوچھتے ہیں کہ اس اشتہار میں ایسا کیا ہے؟‘

اس سوال پر پیوش پانڈے کہتے ہیں 'کوئی بھی کسی مشہور چیز کو چھونے سے ڈرتا ہے لیکن ہم نے الٹا کیا۔ کیونکہ اس اشتہار کا ایک ورثہ ہے اور اسے ہر عمر کے لوگ پسند کر رہے ہیں۔ اور اب جب لڑکیاں بہت اچھا کھیل رہی ہیں تو وہاں کوئی رول الٹ کیوں نہیں ہو سکتا اور یہ کہیں نہ کہیں بدلتے ہوئے سماجی حالات کی عکاسی کرتا ہے۔‘

خواتین اپنے مقاصد حاصل کر رہی ہیں لیکن اب بھی بہت سی خواتین سماجی پابندیوں کی وجہ سے وہ سب کچھ حاصل نہیں کر پاتیں جو وہ کر سکتی تھیں اور مرد اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کرتے نظر نہیں آتے۔ ایسی صورتحال میں یہ اشتہار کئی ممنوعہ باتوں کو رد کرتا نظر آرہا ہے جو پہلے نہیں دیکھا گیا تھا۔

لیکن ان اشتہارات کا معاشرے پر کتنا اثر پڑتا ہے اور کیا یہ خواتین کو بااختیار بناتا ہے اس بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ آج کی نسل اس طرح کے اشتہارات سے متاثر ہوگی لیکن سکولوں، یونیورسٹیوں یا گھروں میں ان موضوعات پر گفتگو شروع کرنی ہوگی۔

ڈاکٹر ایشیتا اگروال کا کہنا ہے کہ چھوٹے قصبوں اور شہروں میں خواتین اب بھی یہ مانتی ہیں کہ مرد ان کی حفاظت کرتے ہیں اور وہ خود کو محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ ’لیکن جہاں شہروں میں اس سوچ کو بدلنے میں تقریباً 10 سال لگے جبکہ گاؤں اور دیہاتوں میں دو دہائیاں، لیکن اگلی نسل ضرور تبدیلی لائے گی۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *