عام لب و لہجے کا خاص شاعر ظفر گورکھپوری

"مضمون نگار: طیب نعمانی"

اردو ادب میں ظفر گورکھپوری کسی تعارف کے محتاج نہیں۔آپ کی حیثیت ایسے مینارہ نور کی ہے جس کی روشنی میں آنے والی نسل اپنا ادبی سفر طے کرتی رہے گی۔آپ کی پیدائش 5 مئی 1935 کو قصبہ بیدلی بابو،تحصیل بانس گاؤں ضلع گورکھپو اتر پردیش میں ہوئی۔آپ کم عمری میں ہی اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہندوستان کی صنعتی راجدھانی ممبئی منتقل ہوگئے۔ممبئی میں ہی ذہنی و تعلیمی آبیاری ہوئی۔آپ حکومت مہاراشٹر کے محکمہئ تعلیم میں معلمی کے معزز پیشے سے منسلک رہے۔تقریباً 36 سالوں تک تعلیمی خدمات انجام دینے کے بعدیکم جون 1993 کو ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ ظفر گورکھپوری اپنے اسلوب سے پہچانے جانے والا شاعر یے۔ لفظوں کی نزاکت ان کے برتاؤ اور استعمال سے کماحقہ واقف تھے۔ اپنی بات کہنے اور دوسروں پر رعب ڈالنے کے لئے ادق غیر مانوس و بھاری بھرکم الفاظ کا سہارا نہیں لیتے۔منسکر المزاج شخصیت کے مالک تھے۔سادگی ان کی شخصیت کی پہچان تھی۔لباس بھی سادہ ہی پہنتے۔ان کے لباس اور طرز رہائس سے ان کی سادگی کا پتہ چلتا ہے۔آپ کو اپنے ملک و قوم لگاو تھا۔ہندوستانی تہذیب و ثقافت آپ کی شاعری میں اساسی حیثیت کی رکھتی ہے ہندوستانی تہذیب آپ کی شاعری میں سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔۔آپ کے دوہے اور گیت اس کا بین ثبوت ہیں۔

من صحرا ہے پیاس کا تن زخموں کی آپ کے دوہا کے چند اشعار دیکھیں۔

بھوکی بھیڑ ہے جسم میں بس سیپی بھر خون
چرواہے کو دودھ دے یا تاجر کو اون

پربت ہو تو پھنک دوں کس طرح اے جان
کیا چھاتی پر ہے دھرا خود میں ہی انجان

ظفر گورکھپوری اگرچہ ساری عمر شہر میں مقیم رہے لیکن گورکھپور سے رشتہ کبھی ختم نہیں ہوا۔ انہیں اپنی مٹی سے گہری انسیت تھی۔شہری زندگی کی پیچیدگی و نفسیاتی الجھن کو بھی شاعری کا موضوع بنایا۔

چھت ٹپکتی تھی اگرچہ پھر بھی آجاتی تھی نیند
میں نئے گھر میں بہت رویا پرانے کے لئے

کوئی آنکھوں کے شعلے پوچھنے والا نہیں ہوگا
ظفر صاحب یہ گیلی آستیں ہی کام آئے گی

اپنے اطوار میں کتنا بڑا شاطر ہوگا
زندگی تجھ سے کبھی جس نے شکایت نہیں کی

کیسی شب ہے ایک اک کروٹ پہ کٹ جاتا ہے جسم
میرے بستر میں یہ تلواریں کہاں سے آگئیں

میں ظفر تا زندگی بکتا رہا پردیش میں
اپنی گھر والی کو اک کنگن دلانے کے لئے

سمندر لے گیا ہم سے وہ ساری سیپیاں واپس
جنہیں ہم جمع کرکے اک خزانہ کرنے والے تھے

ظفر گورکھپوری کی شاعری میں آپ بیتی جگ بیتی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔شاعر نے اپنی ذات میں کائنات کو سمٹ لیا ہے۔ان کا کینوس بہت وسیع ہے۔ ان کی غزل کے یہ اشعار دیکھیں۔

ہمارے چہروں پہ لکھا ہے عہد عہد کا حال
ہم آئینہ بھی ہیں تاریخ کی کتاب بھی

ظفر زندہ رہوں گا میں ہمیشہ اس تعلق سے
کہ مرا عہد میری شاعری میں سانس لیتا ہے

تنہائی کو گھر سے رخصت کر تو دو لیکن
سوچو کس کے گھر جائے گی تنہائی

بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گا
میں سورج بن کے اک دن پیشانی سے نکلوں گا

نظر آؤں گا میں آنسوؤں میں جب بھی رؤو گے
مجھے مٹی کیا تم نے تو پانی سے نکلوں گا

میں ایسا خوبصورت رنگ ہوں دیوار کا اپنی
اگر نکلوں گا تو گھر والوں کی نادانی سے نکلوں گا

یہی اک شئے ہے جو تنہا کبھی ہونے نہیں دیتی
ظفر مر جاؤں گا جس دن پریشانی سے نکلوں گا

آسماں ایسا بھی کیاخطرہ تھا دل کی آگ سے
اتنی بارش ایک شعلے کو بجھانے کے لئے

اردہ ہو اٹل تومعجزہ ایسا بھی ہوتا ہے
دیئے کو زندہ رکھتی ہے ہوا ایسا بھی ہوتا ہے

کبھی معصوم بچے کی تبسم میں اتر جاؤ
تو شاید یہ سمجھ پاٰو خدا ایسا بھی ہوتا ہے

زباں پر آگئے چھالے مگر یہ تو کھلا ہم پر
بہت میٹھے پھلوں کا ذائقہ ایسا بھی ہوتا ہے


درج بالا اشعار کی روشنی میں بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کے یہاں موضوعات کا تنوع بھی ہے اور روایت کی پاسداری بھی ' لہجے کی ندرت اور طرز ادائیگی کی انفرادیت بھی۔
ظفر صاحب 1955 میں ترقی پسند تحریک سے منسلک ہوئے۔اس سے قبل 1949 میں آپ کا پہلا مجموعہ " تیشہ " شائع ہوکر مقبول ہوچکا تھا۔سن 1962 میں اردو کے مایہ ناز ترقی پسند افسانہ نگار کرشن چندر آپ سے متعلق ایک مضمون " ہیرے کا جگر " میں لکھتے ہیں۔
" ظفر گورکھپوری ایک نوجوان شاعر ہیں اور نئی نسل کے شاعروں میں ممتاز حیثیت کے مالک ہیں۔آج کل شاعری میں جو نت نئے تجربے ہو رہے ہیں ان کے پیش نظر نوجوان اور ننئی نسل کی شاعری کا ذکر کرتے ہی اندرونی لگن غم ذات اور محرومی محبت کا خیال آتا ہے۔ظفر گورکھپوری کے یہاں بھی اندرونی لگن ہے مگر باہر تک چھلکتی پڑتی ہے۔غم ذات ہے مگر ایک فرد کی ذات تک محدود نہیں۔ ان کی محرومی محبت سوز اور اس کا اٹھتا دھواں بھی ہے مگر اس انداز سے کہ شاعر کا ہر غم ہر انسان کا غم معلوم ہوتا یے۔"

مشہور ترقی پسند شعرا مثلاً علی سردار جعفری،کیفی اعظمی ' جاں نثار اختر،ظ انصاری سجاد ظہیر وغیرہ سے مصاحبت رہی۔ان کی صحبت نے شاعری کو جلا بخشی لیکن آپ نے اپنی راہ الگ بنائی۔نام نہاد ترقی پسندی کو اختیار کرنے سے گریز کیا۔ ظفر گورکھپوری کے کلام کی سب اہم خوبی یہ ہے کہ اس کو ہر خاص و عام سمجھ سکتا ہے اور اس سے حظ اٹھا سکتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ظفر گورکھپوری صاحب عام لب و لہجے کا خاص شاعر ہیں۔ آپ کے کلام کو ملک کے مشہور گلوکاروں نے گایا ہے اور انہیں لازوال بنادیا ہے۔محمد رفیع ' لتا منگیشکر جانی بابو ' کے علاوہ پنکج ادہاس نے آپ کے کلام کو آپنی آواز دی ہے۔یہاں یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ پنکج ادہاس نے آپ کے کلام کو شہرت کی بلندی پر پہنچایا اور آپ کے کلام نے پنکج ادہاس کو بھی بام عروج پر پہنچایا۔

اے غم زندگی کچھ دے مشورہ
ایک طرف اس کا گھر ایک طرف میکدہ
ایک میرا دور ہے یہ اک وہ بھی تھا زمانہ


یہ ایسی نظم ہیں جس نے پہکج ادہاس کو بہت مشہور کردیا۔
آپ نے آل انڈیا ریڈیو کے لئے پروگرام بزم اردو اور بچوں کے لئے " جنتر منتر" نامی پروگرام تشکیل کی۔ آپ نے ڈرامے بھی لکھے۔آپ کے مشہور ڈراموں میں " عقل حیران ہے " پریشان سمراٹ اشوک " ایک تھا کنکر '" ایک تھا موتی " دو بھائی اور نیا انصاف وغیرہ اہم ہیں۔
اردو ادب میں ظفر گورکھپوری کی حیثیت ایک نابغہ روزگار کی ہے۔آپ کی شخصیت کثیر الجہات تھی۔ افسوس کہ 30 جولائی 2017 کو ممبئی میں ادب کا یہ سورج ہمیشہ کے لئے غروب ہوگیا۔آپ کی تدفین چار بنگلہ قبرستان ممبئی ویسٹ میں ہوئی۔پسماندگان میں تین بیٹے اعجاز ' امتیاز اور خالد گورکھپوری ہیں۔ظفر گورکھپوری کے آٹھ مجموعہ کلام ہیں۔جو حسب ذیل ہیں۔
سچائیاں ' ناچ ری گڑیا' زمین کے قریب ' آر پار کا منظر ' چراغ چشم تر' کو گھرو کے پھول ' وادی سنگ ' تیشہ ' ہلکی ٹھنڈی تازہ ہوا ' شائع ہو چکے ہیں۔آپ کے مشہور اشعار کچھ یوں ہیں۔


کتنی آسانی سے مشہور کیا ہے خود کو
میں نے اپنے سے بڑے شخص کو گالی دے کر

دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے
اک شخص بھی تو شہر میں ایسا دکھائی دے

خود شناسی کے لئے تو لازم ہے ظفر
آئینے کو کسی پتھر کے حوالے کر دو

بہت تکلیف پہنچائی ہے ہم نے اس کو سچ مچ
بہت ناراض ہم سے یہ زمیں ہے کچھ دنوں سے

وقت سے پہلے لازمی تھی موت
دیکھنے سوچنے کی عادت تھی

غیر ممکن ہے کہ ڈسنے کا چلن مرجائے
یہ تو جب ہوگا جب سانپ کا فن مرجائے

اپنی آوازوں کے ملبے میں دبی یہ دنیا
چاہتی ہے مرا انداز سخن مر جائے

زندگی کے لئے اک آ گ ضروری ہے ظفر
میں بھی مرجاؤں جو سینے کی جلن مر جائے

ظفر گورکھپوری جیسے خوش فکر شاعر اردو ادب میں اب ناپید ہوتے جارہے ہیں۔آپ کی کمی ادب میں اب بھی شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *