Site icon Dunya Pakistan

عبداللہ صدیقی: فوربز 30 انڈر 30 فہرست میں شامل 21 سالہ پاکستانی موسیقار جو سپوٹی فائی پر چھائے ہوئے ہیں

عبداللہ صدیقی نے ایک عام سے کمپیوٹر اور پائریٹڈ سافٹ ویئر سے میوزک کمپوزیشن کا سفر شروع کیا اور الیکٹرانک میوزک کے افق پر چھا گئے۔ ملکی کیا بین الاقوامی سطح پر بھی ان کے فن کی پذیرائی کی گئی لیکن برقی موسیقی کی لہریں پیدا کرنے والے اس نوجوان کے لیے یہ سفر آسان نہیں تھا۔

امریکی جریدے فوربز نے حال ہی میں عبداللہ صدیقی کو اپنی ’30 انڈر 30‘ فہرست میں شامل کیا ہے، جو 30 سال یا اس سے کم عمر کے ایسے متاثر کن افراد کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جنھوں نے انتہائی مختصر مدت میں نمایاں نام کمایا ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے رہنے والے پروڈیوسر، رائٹر اور سنگر عبداللہ صدیقی بتاتے ہیں کہ ان کے خاندان کا موسیقی سے تعلق رہا ہے اور ان کی والدہ، ماموں اور خالہ فنکشنز میں گاتے بجاتے تھے لیکن وہ پروفیشنل سنگر نہیں تھے۔

عبداللہ صدیقی بتاتے ہیں کہ وہ بچپن سے ہی الیکٹرونک میوزک سنتے تھے۔ نو سال کی عمر میں انھوں نے گٹار بجانا شروع کیا اور موسیقی کی بنیادی اصول سیکھے اور سکول میں میوزک کی کلاس میں کلاسیکی موسیقی سے بھی متعارف ہوئے۔

بقول ان کے ان دنوں میں نیشنل میوزک اکیڈمی اور دیگر وسائل نہیں تھے تو انھوں نے یہ فن اپنے طور پر تجربات کر کر کے سیکھا۔

ایک عام کمپیوٹر اور جنون

21 سالہ عبدللہ صدیقی کو گانے ریلیز کرتے ہوئے نصف دہائی سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک دن میوزک سنتے سنتے انھوں نے سوچا کہ کیوں نہ وہ خود اپنا میوزک بنائیں، جس کے بعد انھوں نے ایک سافٹ وئیر پروگرام حاصل کیا۔ ان دنوں ان کے پاس ایک عام سا کمپیوٹر تھا جس کی حالت بھی کچھ بہتر نہ تھی۔ اس کی میموری اور رفتار بھی کم تھی جس کے باعث کچھ ہی برسوں کے بعد وہ ناکارہ ہو گیا۔ اس کے بعد انھوں نے آئی پیڈ لیا۔

وہ بتاتے ہیں کہ اس وقت آئی پیڈ پر صرف بنیادی میوزک بنایا جا سکتا تھا اور وہ محض آٹھ ٹریک کے ساتھ گانے بناتے تھے۔ لیکن پھر وہ بھی خراب ہو گیا۔ ’میرے پاس پروفیشنل کمپیوٹر نہیں تھا اور نہ ہی سٹوڈیو‘ لیکن وہ دستیاب وسائل کے ساتھ لگے رہے۔

جب تمام گانے ڈیلیٹ کر دیے!

کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کوئی موسیقار درجن بھر گانے بنائے، ہر جگہ اپ لوڈ کر دے اور پھر ریلیز ہونے سے دو روز قبل سب ڈیلیٹ کر دے؟

عبداللہ صدیقی یہ کر چکے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں ان کے پاس بہترین کوالٹی کے مانیٹر، سپیکر اور ہیڈ فون نہیں تھے بلکہ وہ عام طور پر دستیاب چیزوں پر کام کرتے تھے۔ وہ انہی پر کمپوزیشن کے وقت گانے سنتے تھے اور جب سمجھتے کہ اب یہ گانا مکمل ہے تو اسے ریلیز کے لیے تیار کر دیتے تھے۔

’پچھلے دنوں میں نے سپوٹی فائی اور پٹاری پر اپنے سارے گانے اپ لوڈ کر دیے لیکن ریلیز سے صرف دو روز قبل میں نے آئی فون کے ایئرپوڈ پر ایک گانا سنا جس میں مکسنگ کا اشو لگا۔ میں نے دونوں آڈیو سٹریمنگ کمپنیوں کو ای میلز کیں اور وہ گانے ڈیلیٹ کیے اور درست کر کے دوبارہ انھیں اپ لوڈ کیا۔‘

مقبولیت کا آغاز

عبداللہ صدیقی نے سامعین کا سامنا پہلی بار 2017 میں کیا جب انھوں نے موسیقی کے میلے لاہور میوزک مِیٹ میں پرفارم کیا۔

اس وقت ان کی عمر 18 سال تھی۔

اس کے بعد سنہ 2019 میں نیس کیفے بیسمنٹ کے 5ویں سیزن کے دوران انھوں نے اپنے گیت Resistance سے شہرت پائی۔

ان کا کہنا ہے کہ نیس کیفے بیسمنٹ میں انھیں کئی آرٹسٹس کے ساتھ کام کرنے کا موقعہ ملا۔ اس کے بعد انھوں نے فواد خان کے لیے گانا کمپوز کیا، میشا شفیع، شمعون اسماعیل اور آئمہ بیگ کے لیے بھی میوزک پروڈیوس کیا۔

کورونا نے تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کیا

دنیا بھر میں جب کووڈ کی وجہ سے کام کاج کا پہیہ رک گیا تو عبداللہ صدیقی نے گلوکارہ میشا شفیع کے ساتھ ’مجینٹا سائن‘ گیت بنایا۔

اس تجربے کے بارے میں عبداللہ بتاتے ہیں کہ وہ تنہائی میں کام کرنے کے عادی ہیں اس لیے کورونا کے دنوں میں ان کو زیادہ فرق نہیں پڑا۔

’میشا ان دنوں ٹورنٹو میں تھیں اور میں لاہور۔ دونوں شہروں میں لاک ڈاؤن تھا ہم نے آئی فون سے شوٹ کیا۔ بغیر کسی کیمرہ، فلم سیٹ کے۔ ہم نے تخلیقی انداز اپنایا اور اس نے میری تخلیقی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا۔‘

’ایمانداری سے، اردو کمزور ہے‘

عبداللہ صدیقی کے گیتوں میں فلسفہ اور سائنس، دونوں ہی ملتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ابتدائی البم سنیں تو اس میں ان دنوں چیزوں کے اثرات ہوں گے کیونکہ اس وقت وہ سائنس کے طلب علم تھا۔

’کیسمٹری اور فزکس آپ کے دماغ کو ہلا دیتے ہیں۔ بعد کے البم کے وقت میں امریکہ میں کالج میں تھا اور ہر چیز تبدیل ہو رہی تھی۔ اس دوران میں مشرقی میوزک سنتا اور خود کو اپنے گھر میں محسوس کرتا۔‘

عبداللہ صدیقی کی شاعری اور کمپوزیشن انگریزی میں ہیں اور وہ تسلیم کرتے ہیں کہ انھوں نے اردو کی کتابیں نہیں پڑھیں۔

’ایمانداری سے بتاؤں کہ میری اردو کمزور ہے۔ میں نے مقامی کتابیں نہیں پڑھیں، اس لیے میں نے گانے انگریزی میں لکھنا شروع کیے۔ مجھے کہا گیا کہ تمہیں کامیابی نہیں ملے گی کیونکہ یہ میڈیم بڑے پیمانے پر توجہ حاصل نہیں کر پائے گا لیکن میں نے سمجھوتہ نہیں کیا اور اسے جاری رکھا۔‘

عبداللہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں انگریزی میوزک سنا جاتا ہے لیکن جب کوئی پاکستانی انگریزی میں گانے لکھتا ہے تو اس کو پذیرائی نہیں ملتی۔

پاکستان میں الیکٹرانک میوزک کا فروغ

عبداللہ صدیقی کا کہنا ہے کہ بالی وڈ میں دو دہائیوں سے الیکٹرانک میوزک استعمال ہو رہا ہے اب پاکستان میں بھی یہ رجحان بڑھ رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ فلم ’لال کبوتر‘ اور ’باجی‘ میں یہ تجربہ کیا گیا اور کئی کمرشل بھی بنائے گئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں’اب جب ہماری میوزک انڈسٹری اس طرف جا رہی ہے تو یہ میرے لیے ایک نادر موقع ہے کہ اس میں اپنا حصہ بھی ڈالوں۔‘

Exit mobile version