عبداللہ یوسف علی

میرے ایک مدّاح جو لندن میں مقیم ہیں اور پیشے سے ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے مجھ سے کافی اصرار کیا کہ میں انگلینڈ میں مقیم ان ایشیائی لوگوں سے متعلق لکھوں جنہوں نے انگریز خواتین سے شادی کر کے اپنی زندگی عذاب بنا لی ہے۔

میں ڈاکٹر سوری کی اس بات سے پوری طرح اتفاق بھی نہیں کرتا۔جس ڈاکٹر کا ذکر میں کررہا ہوں ان کا نام ڈاکٹرجمال احمد سوری ہے۔ ڈاکٹر سوری کا تعلق ہندوستان کے صوبہئ بہار’گیا‘ سے ہے۔ڈاکٹر سوری 1979ء میں انگلینڈآئے تھے۔ انگلینڈ کی اچھی زندگی، اچھی نوکری اور ایک خوشحال ملک میں قیام کا خواب ہر ایک کے دل میں بسا ہے۔ڈاکٹر جمال سوری اوروں کی طرح انہیں خوابوں کے ساتھ انگلینڈ تشریف لے آئے۔ لیکن ڈاکٹر سوری کے کئی ساتھی انگلینڈ آتے ہی انگریز خواتین کی خوبصورتی اور ناز و ادا سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔بہتوں نے شادی بھی کی اور کچھ عرصہ بعد ماحول، ثقافت اور زبان کی دقتّوں سے عاجز آکر طلاق جیسی سخت دیوار سے بھی گزرنا پڑا۔ڈاکٹر سوری اب تو ریٹائرڈ ہو چکے ہیں لیکن وہ اب بھی اپنے دوستوں کی نادانی اور غلطی کو بار بار دہراتے رہتے ہیں۔

ڈاکٹر سوری کا ماننا ہے کہ دوستوں نے ان کی ایک نہ مانی اور انگریز عورتوں کی خوبصورتی میں کچھ پل کے لیے اپنے ملک، زبان اور ثقافت کو سرے سے بھلا دیا۔ڈاکٹر سوری بے حد افسوس کے ساتھ یادِ ماضی میں گم ہوکر ہمیشہ کہتے رہتے ہیں کہ اگر اس وقت ہم خیال دوست ہماری باتوں پر غوروفکر کرتے تو شاید آج ان سب کی زندگی اتنی عذاب نہ ہوتی جتنی کہ اب ہے۔اسی موضوع سے جوڑ کر ہم آپ کو عبداللہ یوسف علی سے ملواتے ہیں۔

عبداللہ یوسف علی کی پیدائش بمبئی میں 14اپریل 1872ء کو ہوئی۔ ان کے والد خان بہادر یوسف علی نے شیعہ مسلک چھوڑ کر سنّی مسلک اختیار کرلیا تھا۔ خان بہادر نے انگریزی راج میں پولیس انسپکٹر کی نوکری کی تھی۔ اسی وجہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں انگریزی حکومت نے ’خان بہادر‘ کا خطاب دیا تھا۔ عبداللہ یوسف علی نے اپنی ابتدائی تعلیم انجمن حمایت السلام سے شروع کی تھی۔ اس کے بعد ویلسن اسکول سے ہائی اسکول پاس کیا۔ اس دوران عبداللہ یوسف علی کو دین وسنت کا بھی درس دیا گیا اور وہ کم عمری ہی میں حافظ قرآن بھی ہو گئے۔ عبداللہ یوسف علی نے یونیورسٹی آف بمبئی سے انگریزی ادب میں فرسٹ کلاس سے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ اسی بنا پر 19سال کی عمرمیں جنوری 1891ء میں پریسیڈنسی آف بمبئی اسکالرشپ کے ذریعہ انہیں یونیورسٹی آف کیمبرج انگلینڈ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقعہ ملا۔
عبداللہ یوسف علی انگلینڈ سے بی اے اور ایل ایل بی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1895میں ہندوستان واپس چلے گئے۔ انگریزی حکومت نے عبداللہ یوسف علی کو اعلیٰ تعلیم کی وجہ سے انڈین سول سروس کے اہم عہدے پر فائز کیا۔ 1896ء میں انہیں
(Bar in Lincoln's Inn) ’بار ان لنکن ان‘ملا اور یوں وہ بیرسٹربن گئے۔1901ء میں عبداللہ یوسف علی نے ایم اے اور ایل ایل ایم کی ڈگریاں بھی حاصل کیں۔

عبداللہ یوسف علی کو اللہ نے تعلیم کے ساتھ ساتھ ذہین بھی بنایا تھا۔ عبداللہ یوسف علی نے کئی کتابیں لکھیں جو قابلِ تعریف ہیں۔ ان کی پہلی کتاب 1923ء میں ’مسلم ایجوکیشنل آئیڈلس‘ شائع ہوئی۔ اس کے بعد 1929ء میں ’فنڈامنٹلس آف اسلام‘، 1930 ء میں ’مورل ایجوکیشن‘،1931ء میں ’پرسنالٹی آف مین اِن اسلام‘، اور 1940ء میں ’دی میسج آف اسلام‘شائع ہوئیں۔ تاہم عبداللہ یوسف علی کا سب سے اہم علمی کام قرآن کا انگریزی میں ترجمہ تھا جسے 1934-38ء کے درمیان انہوں نے مکمل کیا تھا۔جسے اب تک کا سب سے عمدہ اور بہترین ترجمہ مانا جاتا ہے۔

عبداللہ یوسف بر صغیر اور انگلینڈ کے ایک معزز دانشور مانے جاتے تھے۔ اسی وجہ سے 1925 ء میں معروف شاعر سر محمد اقبال نے عبداللہ یوسف علی کو لاہور کا معروف اسلامیہ کالج کا پرنسپل مقرر کیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ کئی اعزازت اور انعامات سے بھی نوازے گیے تھے۔ عبداللہ یوسف علی کو تقریر کرنے میں بھی مہارت حاصل تھی۔عبداللہ یوسف علی نے قرآن کے انگریزی ترجمہ کی آمدنی سے کئی مساجد کو بنوانے میں اہم رول نبھایا تھا۔

ان تمام باتوں کے علاوہ عبداللہ یوسف علی کی زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ بھی دیکھے گیے۔ عبداللہ یوسف علی 1900ء میں ایک انگریز خاتون ٹریزا میری شالڈرس سے بور ن متھ کے سینٹ پیٹرس چرچ میں شادی کی۔ اس خاتون سے تین بیٹے اور ایک بیٹی پیداہوئے تھے۔لیکن عبداللہ یوسف علی کو انڈین سول سروس کی ملازمت کی وجہ سے دوسال کے لیے ہندوستان آنا پڑاتھا۔ اُس دوران ان کی بیوی ٹریزا میری شالڈرس نے غیر مخلصانہ رشتے کے ذریعہ 1910میں غیر شرعی طور پر ایک بیٹی کو جنم دی تھی۔ جس کی وجہ سے عبداللہ یوسف علی نے 1912ء میں اسے طلاق دے دی۔اس کا اثر یہ ہوا کا عبداللہ یوسف علی کے بچّوں نے بھی انہیں مسترد کر دیا۔

1920ء میں عبداللہ یوسف علی نے دوبارہ ایک انگریز خاتون گرٹروڈ این موبی سے شادی کی۔ جس کا نام انہوں نے ’معصومہ‘ رکھا۔ 1922ء میں عبداللہ یوسف علی کی دوسری بیوی سے ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام رشید تھا۔لیکن بدقسمتی سے عبداللہ یوسف علی کی شادی زیادہ دنوں تک نہیں چل پائی اور معصومہ کو بھی طلاق دینا پڑا۔اس دوران عبداللہ یوسف علی کی پہلی بیوی کے بچّوں نے ان پر کافی زیادتیاں کیں جس کا ذکر انہوں نے اپنے وصیت نامہ میں کیا ہے۔

یہاں یہ بات بھی بتانا مناسب ہوگا کہ عبداللہ یوسف علی کا آخری دور کافی مایوس کن اور درد بھرا تھا۔9 دسمبر 1953ء کو عبداللہ یوسف علی نہایت پریشان اور اپنی یادداشت کھو جانے کی حالت میں لندن کے معروف ویسٹ منسٹر علاقے میں پائے گیے۔پولیس نے انہیں ویسٹ منسٹر ہسپتال میں داخل کروایا اورپھر دوسرے دن انہیں ہسپتال سے چھٹّی دے دی گئی۔ بعد میں انہیں چیلسی کے ایک اولڈ ہوم میں داخل کر دیا گیا۔تھوڑے عرصے بعدعبداللہ یوسف علی کو دل کا دورہ پڑا جس سے وہ جاں برنہ ہوسکے۔مقام ِ افسوس یہ ہے کہ عبداللہ یوسف علی کو دفنانے کے لیے ان کا کوئی رشتہ دار سامنے نہ آیا۔ آخر کار پاکستانی سفارت خانہ نے عبداللہ یوسف علی کی تجہیزو تدفین کا انتظام کیا۔

ڈاکٹر سوری کی تشویش اور انگلینڈ میں انگریز خواتین سے شادی کے رجحانات سے ایک بات تو ظاہرہے کہ ایشیائی ممالک کے ساتھ دیگرممالک کی زبان، تہذیب وثقافت سب مختلف ہیں۔ انگلینڈ میں دیگرممالک سے آئے مرد حضرات سے،وہاں پیداشدہ خواتین کی زبان اور ثقافت جداگانہ ہے۔ ان کے رشتوں میں دراڑکی ایک وجہ زبان و ثقافت کی اجنبیت بھی ہوسکتی ہے۔ اگر ہم ماہرِ تعلیم عبداللہ یوسف علی کی ازدواجی زندگی جو کہ انہوں نے انگریز خواتین سے کی تھی، کا جائزہ لیں تو یہی محسوس ہوگا کہ ان کی ناکام ازدواجی زندگی کی وجہ شایداجنبی زبان و ثقافت اور انگریزی ماحول ہے۔

اجنبی زبان وثقافت سے متعلق میری رائے ذرا مختلف ہے۔میں نے بارہا مشاہدہ کیا ہے کہ اجنبی ممالک میں شوہرنے بیوی کے لیے اور بیوی نے شوہر کے لیے ایک دوسرے کی زبان سیکھنے میں دل چسپی دکھائی ہے۔ایک دوسرے کی تہذیب و ثقافت سے بہرہ ور ہونے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ زبان وثقافت کی مسافت کو دونوں نے مل کر بحسن وخوبی انجام تک پہنچاکرایک ساتھ رہ بھی رہے ہیں۔لہذازبان وثقافت کو ذمہ دار ٹھہرانا کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے۔

اگر ہم اپنے اردگرد کاجائزہ لیں توہمیں بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ ازدواجی زندگی کی کامیابی اور ناکامی کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ تاہم اگر ہم عبداللہ یوسف علی کی ازدواجی زندگی کا جائزہ لیں تو ہمیں فوری طور پر یہی محسوس ہوتا ہے کہ انگریز خاتون کی ثقافت اور رکھ رکھاؤ ہی شاید ان کی شادی کی ناکامی کی وجہ ہو۔پچھلے تیس برسوں سے میں نے انگلینڈ میں یہی محسوس کیا ہے کہ انگریزوں کی زبان، تہذیب، ثقافت، خوبصورتی اور رکھ رکھاؤ بلا شبہ دنیا کے بیشتر ممالک کے لوگوں کو اپنی جانب کھینچتی ہے۔جس کی وجہ سے دنیا بھر سے لوگ انگلینڈ آنے کی خواہش ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ تاہم ڈاکٹر سوری کی بات سے ایک حد تک اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ انگریزوں کی ثقافت رشتوں میں دراڑ پیداکرنے کی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔
میں ذاتی طورپر بدلتے سماجی منظرنامے اور عالمی حالات کو بھی ذمّہ دار ٹھہراتا ہوں۔ اس کے علاوہ اضافی شادی شدہ معاملات،شراب نوشی، خاندانی، جھگڑے، دولت، بچّوں کے مسائل، الزام تراشی،اپنے کو برتر سمجھنا، وغیرہ ایسے مسائل ہیں جس کی وجہ سے بھی رشتوں میں دراڑ پڑرہی ہے۔