عثمان خواجہ کی سینچری پر سوشل میڈیا تبصرے: ’پتہ کرو اس کا لاہور میں تو کوئی رشتہ دار نہیں‘

’کراچی سٹیڈیم میں لوگوں نے جیسے عثمان خواجہ کو سپورٹ کیا، ایسی سپورٹ تو کئی ٹیموں کو اپنے گھر میں نہیں ملتی۔ یہ تو اپنا ہی ہے۔‘

آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم نے 24 سال بعد پاکستان کا دورہ کیا تو پہلے ہی دن سے ایک کھلاڑی پر توجہ کچھ زیادہ ہی تھی۔ یہ تھے عثمان خواجہ، جو پاکستانی ہیں، اسلام آباد میں پیدا ہوئے اور پھر بچپن میں ہی آسٹریلیا منتقل ہو گئے اور آج آسٹریلیا کی جانب سے انٹر نیشنل کرکٹ کھیل رہے ہیں۔

یہ دورہ ان کے لیے اس لیے بھی یادگار تھا کیوںکہ وہ پہلی بار پاکستان میں کھیل رہے تھے اور پہلا میچ ہی راولپنڈی میں ہوا تو ان کی کئی اور پرانی یادیں بھی تازہ ہو گئیں کیوںکہ ان کی پیدائش بھی اسلام آباد ہی کی ہے۔

ایسی ہی ایک یاد میں انھوں نے اپنی انسٹا گرام پوسٹ میں تصویر کے ساتھ لکھا کہ ’یہ تصویر 30 سال پہلے راولپنڈی کی ہے اور اس کے دو ہفتے بعد ہی ہم آسٹریلیا چلے گئے تھے۔ کسے معلوم تھا کہ میں ایک پھر یہاں لوٹوں گا؟‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک سال پہلے تک عثمان خواجہ کہ آسٹریلوی ٹیم میں شمولیت بھی مشکوک ہو چکی تھی۔ لیکن پھر مڈل آرڈر بیٹسمین ٹریوس ہیڈ کورونا کا شکار ہوئے تو عثمان خواجہ کے نام کا قرعہ نکلا۔ اس کے بعد انھوں نے سیلیکٹرز کو دوبارہ سوچنے کا موقع نہیں دیا۔

راولپنڈی ٹیسٹ میں ایک اچھی وکٹ پر 97 کے سکور پر ریورس سویپ کھیلتے ہوئے جب عثمان خواجہ آوٹ ہوئے تو انھوں نے صرف تین رنز سے سنچری کا موقع ہاتھ سے گنوا دیا۔ اس وقت انھوں نے لکھا کہ ’زندگی میں اچھا بھی ہوتا ہے اور برا بھی۔ میں 97 پر بھی شکر گزار ہوں۔‘

راولپنڈی سے کراچی روانگی پر ہی انھوں نے پاکستان کے سابق دارالحکومت سے بھی اپنے رشتے کا اعلان کر دیا۔ انھوں نے لکھا کہ ’کراچی خواجہ فیملی کا گھر ہے۔‘ اس پر کچھ لوگ حیران ہوئے تو کچھ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ جو کام وہ راولپنڈی میں نہیں کر پائے، وہ کراچی میں کر لیں، یعنی سنچری بنا لیں۔

عثمان خواجہ

لیکن راولپنڈی کی پچ پر تنقید کے بعد کراچی کی پچ ایک سوالیہ نشان تھی۔ دوسرے میچ کے پہلے دن عثمان خواجہ نے کافی احتیاط سے اننگز کا آغاز کیا خصوصاً جب شروع کے اوورز میں شاہین شاہ آفریدی کی گیند بھی سوئنگ کرتی نظر آ رہی تھی۔

لیکن آہستہ آہستہ عثمان خواجہ رنز بڑھاتے گئے اور پھر جب ان کے سو رنز مکمل ہوئے تو سڈیڈیم میں موجود تماشائیوں نے بھی ان کی اس خوشی میں ایسے ساتھ دیا جیسے کسی پاکستانی کھلاڑی نے ہی سینچری کی ہو۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ عثمان خواجہ کو جس طرح کراوڈ نے سپورٹ کیا۔ اتنی سپورٹ تو کئی ٹیموں کو اپنے ہوم گراوئنڈ پر بھی نہیں ملتی۔ یہ ہم میں سے ہی ہے۔

عثمان خواجہ

عثمان خواجہ، جنھوں نے کھیل کے اختتام تک 266 گیندوں پر ناقابل شکست 127 رنز بنا لیے ہیں اور اپنی ٹیم کو ایک اچھے سکور تک رسائی دلا دی ہے، نے کھیل کے اختتام پر پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان کا خاندان دراصل کراچی سے ہے۔

’خواجہ فیملی کا تعلق کراچی سے ہے۔ میرے خاندان میں ہر کوئی یہیں پر پیدا ہوا سوائے میرے۔ یہ میرا گھر ہے۔ میں یہاں بہت بار آیا ہوں۔ یہاں سنچری کر کے اچھا لگا۔ اگر وہاں (راولپنڈی) بھی سنچری ہو جاتی تو اچھا ہوتا، لیکن میں خوش ہوں۔‘

ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ 'پنڈی میں پیدائش ہے، اس لیے وہاں 97 کیا۔ خاندان کراچی سے ہے اس لیے یہاں سو مارا۔ پتہ کروا لیں لاہور میں کوئی رشتہ دار تو نہیں۔‘

لیکن جہاں زیادہ تر سوشل میڈیا صارفین عثمان خواجہ کی کامیابی پر خوش نظر آئے وہیں کچھ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ راولپنڈی میچ کے بعد کراچی کی پچ بھی کیا ویسی ہی بنا دی گئی۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ کیا یہ بھی ایک اور سڑک ہے؟

سید محمود شیرازی نے لکھا کہ 'کراچی کی پچ کا شور تو ایسے تھا جیسے پرتھ میں میچ ہونے جا رہا ہے لیکن یہ بھی پنڈی پچ کا ری پلے ہی ہے‘

کراچی کی پچ رن اگلنے والی سڑک ہے یا پھر کچھ اور؟ اس کا فیصلہ اگلے دو دن میں ہو جائے گا کیوںکہ عثمان خواجہ کے مطابق پہلے دن تو وکٹ کافی اچھی تھی لیکن لگتا ہے کہ دو دن بعد یہ خراب ہونا شروع ہو جائے گی۔

اس میچ میں اب جو بھی ہو، عثمان خواجہ کے لیے یہ دورہ یقیناً یادگار رہے گا کیوںکہ کرکٹ اعداد و شمار میں ماہر سمجھے جانے والے مظہر ارشد کے مطابق اسلام آباد میں پیدا ہونے والے وہ پہلے کرکٹ کھلاڑی ہیں جنھوں نے کراچی میں سنچری سکور کی ہے۔ اب اگر وہ آسٹریلیا کے لیے کی تو کوئی بات نہیں، آخر وہ ’کراچی بوائے‘ ہیں۔

ہاں،کل اگر بات ڈبل سنچری تک پہنچ گئی تو پھر کراچی سٹیڈی میں شائقین اتنے ہی جوش سے خیر مقدم کریں گے یا نہیں، یہ دیکھنا ہو گا۔