عثمان مرزا کیس: عدالت میں عدم حاضری پر متاثرہ لڑکے اور لڑکی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

اسلام آباد کی مقامی عدالت کے جج نے وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ای الیون میں لڑکا لڑکی کو برہنہ کر کے انھیں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے اور ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے مقدمے میں متاثرہ لڑکا اور لڑکی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

عدالت نے اسلام آباد پولیس کے حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ ان دونوں افراد کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کریں۔

متاثرہ جوڑا اس مقدمے میں استغاثہ کے گواہ کے طور پر پیش ہو رہا ہے جبکہ یہ مقدمہ ایس ایچ او تھانہ گولڑہ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

اس مقدمے کے سرکاری وکیل احسن عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ جب اس مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو متاثرہ جوڑے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکلین تھوڑی دیر میں عدالت میں پیش ہو جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ متاثرہ جوڑے کے وکیل کی درخواست پر تین مرتبہ عدالت نے اس مقدمے کی سماعت ملتوی کی۔

انھوں نے کہا کہ جب متاثرہ جوڑا عدالت میں پیش نہ ہوا تو عدالت نے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

منگل کے روز مقدمے کی سماعت کے دوران متاثرہ لڑکی کے علاوہ لڑکے پر بھی جرح ہونی تھی اور سرکاری وکیل نے ان پر جرح کرنی تھی۔

گذشتہ سماعت کے دوران متاثرہ لڑکی نے متعلقہ عدالت میں بیان حلفی جمع کروایا تھا جس میں انھوں نے اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے افراد کو پہچاننے سے انکار کر دیا تھا اور ان کا دعویٰ تھا کہ گرفتار ہونے والے افراد وہ نہیں ہیں جو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں نظر آ رہے ہیں۔

لڑکی، تشدد

منگل کے روز اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے اس مقدمے کی سماعت کی تو متاثرہ لڑکا اور لڑکی کے وکیل ارباب عالم عباسی نے عدالت کو بتایا کہ ان کا مؤکلین سے رابطہ ہوا ہے اور ان کے بقول وہ دونوں شہر سے باہر ہیں۔ انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ اگلی تاریخ دے دیں اور آئندہ سماعت پر وہ ان کو پیش کر دیں گے۔

پراسیکیوشن کے وکیل رانا حسن عباس کا کہنا تھا کہ گزشتہ سماعت کے دوران یہ طے ہوا تھا کہ چونکہ متاثرہ لڑکے نے بھی بیان حلفی عدالت میں جع کروایا ہے اور اس میں بھی انھوں نے ملزمان کو شناخت کرنے سے انکار کیا ہے اس لیے اگلی سماعت پر ان پر جرح کی جائے گی لیکن آج یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ شہر سے باہر ہیں۔

جج نے ریمارکس دیے کہ وہ بھی یہی توقع کر رہے تھے کہ لڑکا لڑکی دونوں عدالت میں پیش ہوں گے اور اس مقدمے کی کارروائی معمول کے مطابق ہوگی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

متاثرہ لڑکا اور لڑکی کے وکیل نے کہا کہ ان کا یہ پہلا تجربہ ہے کہ وہ اس قسم کے کیس میں پیش ہو رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس مقدمے میں متاثرہ لڑکے اور لڑکی نے گزشتہ سماعت کے دوران ہی اپنا وکیل تبدیل کیا ہے جبکہ اس سے پہلے حسن جاوید سورش نامی وکیل اس مقدمے میں ان کی پیروی کر رہے تھے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ریاست اس مقدمے کی مدعی ہے اور ایس ایچ او گولڑہ کی مدعیت میں یہ مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

متعلقہ عدالت کے جج نے کہا کہ اگر وہ پیش نہیں ہوتے تو پھر ان کے ورانٹ گرفتاری جاری کر دیتے ہیں جس پر متاثرہ جوڑے کے وکیل نے کہا کہ عدالت نے اس ضمن میں کوئی زیادہ سختی نہیں کر دی۔

ارباب عالم عباسی نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے اس مقدمے میں وکالت نامہ دے کر غلطی کی۔ انھوں نے کہا کہ اگر عدالت کہتی ہے تو وہ یہ وکالت نامہ واپس لے لیتے ہیں۔

انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ اگلی سماعت پر متاثرہ جوڑے کو عدالت میں پیش کریں گے۔

متعلقہ عدالت کے جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ وہ ان دونوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کریں گے اور پولیس حکام کو حکم دوں گا کہ وہ لڑکا لڑکی کو عدالت میں پیش کریں۔

متاثرہ لڑکا اور لڑکی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کہ کہ وہ اگلی تاریخ دے دیں جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ تاریخ تو مل جانی ہے لیکن عدالت اس حوالے سے اپنا طریقہ کار اپنائے گی۔

عدالت نے جوڑے کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے اس مقدمے کی سماعت 19 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔

اس مقدمے کی سماعت دیکھنے کے لیے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی چیئر پرسن رابعہ جویری آغا عدالت میں موجود تھیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.

error: