عجیب رنگ میں اب کے بہارگزری ہے

بہارکے آخری دن ہیں۔گلوں کی رت میں پھولوں کوکھلنے سے بھلاکون روک سکتا ہے۔بہارکے موسم کی خوبصورتی شائداسکے اختصارمیں پنہاں ہے۔جاپان میں موسم گل کانقطہ عروج چیری کے پھولوں کا کھل اٹھناسمجھاجاتاہے۔چیری کی شاخوں نے پھول تواس بار بھی اٹھائے مگران پھولوں کی دیدکے لئے جوق در جوق آنے والے احباب اس بار مفقودرہے۔کرونا وائرس کے عالمی سطح پرڈھائے گئے مظالم کی فہرست بہت طویل ہے۔جس میں ایک یہ بھی کہ فصل بہار کے عین شباب پر چیری بلاسم دیکھنے کا تہواراپنی تمام تررعنائیوں سمیت کسی دیدکے بغیرہی گزرگیا۔چیری کے پھولوں کی دیدکاتہوارجسے مقامی زبان میں ”ہنامی“کہتے ہیں اورجس کا ترجمہ ”پھول تکنا“ہے۔جاپان کے کیلنڈرمیں سال کا سب سے اہم تہواربھی کہلاتا ہے۔گرچہ ہر شہراورضلع میں پھول کھلنے کی تاریخ مختلف ہوتی ہے،جس کی بنیاد موسمی درجہ حرارت ہوتا ہے۔جاپان کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں چیری کے درختوں کاایک چمن ضرورہوتا ہے،اس کے علاوہ دریاں،نہروں اورندیوں کے کنارے چیری بلاسم دیکھنے کے لئے لوگ چٹائیاں بچھا کر انہی درختوں کی چھاؤں میں بیٹھ جاتے ہیں اوریہی کھاتے پیتے اور موج مستی کر تے ہیں۔مئی کے پہلے ہفتے میں ٹیولپ کا تہوارمنعقدہوتا ہے۔یہ تہوارایک چھوٹے سے قصبے ”تونامی“میں انعقادپذیرہوتا ہے۔ایک صدی سے پرانی یہ روایت بھی اس سال جاری نہ رہ سکے گی۔وبا کے پھیلاؤکے خدشے کے پیش نظرٹیولپ کی نمائش کا تہواربھی منسوخ کردیاگیاہے۔جس میں دہائیوں سے لوگ جاپان کے کونے کونے سے کھنچے چلے آتے ہیں۔ہالینڈسے ٹیولپ کی درآمد کی کہانی اور پوری دنیا میں اس کے پھیلاؤ سے متعلق داستان کواسی قصبے تونامی کے ایک میوزیم نما چمن میں محفوظ کیاگیا ہے۔ہرسال سیاحوں کے لئے بہار کے دنوں میں کھولا جاتاتھا۔مگراس بار ایسانہیں ہوگا۔
موذی وائرس کروناکے سبب باغوں کے اجڑنے کا مفہوم ہی تبدیل ہوکررہ گیا ہے۔اب محسوس ہوتا ہے کہ چمن کی غارت گری کی وجہ فقط پھولوں،پیڑوں اورسبزے کی پامالی ہی نہیں ہے۔گلشن میں سیر کوآنے اورپھولوں کے حسن کی داددینے والے باقی نہ رہیں توبھی باغ بھی اجڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔چمن اہلِ چمن سے ہی آ باد لگتے ہیں۔محسوس ہوتا ہے کہ گل ولالہ کی پامالی ہی گلستان کے نوحے کاواحدموجب نہیں ہے۔پھول تواس بار بھی شاخوں پر ویسے ہی جھوم رہے ہیں جیسے ہزاروں سال سے بہارکی آمد پر جھومتے آئے ہیں۔مگران پھولوں کے حسن کی داددینے والے گھروں میں قیدہوگئے ہیں۔اہل گلشن اس بار سیر کے لئے نہیں نکل رہے بلکہ قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔قارئین کے لئے شائد یہ بات دلچسپی کاباعث ہو کہ لفظ ”کورنتینا“یاپھر”قرنطینہ“ کی ابتداء مسلم سائنسدان بوعلی سینا سے منسوب ہے۔وجہ تسمیہ کورنتیناکی یہ ہے کہ اس عہدساز مسلم طبیب و کیمیادان کا خیال تھا کہ بعض سنجیدہ بیماریوں میں مبتلامریض ایسے وبائی جراثیم کے حامل ہوتے ہیں۔جوکہ صحت مندافراد کو بھی منتقل ہوسکتے ہیں۔لہٰذاوہ بعض امراض میں مبتلا افرادکوچالیس روز کے لئے علیحدہ کرلیاکرتا تھا۔تاکہ صحت مند افراد میں بیماری کے جراثیم منتقل نہ ہوں اوروہ محفوظ رہیں۔ایک مقصد یکسوئی سے مریض کا علاج بھی تھا۔چالیس دن کے تخلیے کے طریقہ علاج کو”اربعینہ“کہاجاتاتھا۔جب وینس کے تاجروں نے اس طریقہ علاج کی اثرپذیری دیکھی تواسے اٹلی میں لے گئے اوراپنالیاگیا۔اطالوی زبان میں چالیس کو ”کورنتا“یا”قرنط“کہتے ہیں۔اسی لئے ”قرنطینہ“کی اصطلاح وجود میں آئی۔اس کی مقبول عام ہونے کی وجہ یہ بھی تھی کہ ہسپانوی اورپرتگیزی زبان میں بھی چالیس کو”قرنطہ“ہی کہتے ہیں۔لہٰذااس کامل تنہائی میں صحت کی بحالی تک وقت گزارنے کے طریقہ علاج کے لئے”قرنطینہ“ کالفظ رائج ہو گیا۔بوعلی سینا کا”اربعینہ“ہویاآج کا ”قرنطینہ“موثرہونے کے باوجودسوہان روح ہیں۔خداکرے کہ تمام عالم کو کوروناوائرس اور قرنطینہ سے جلد نجات ملے۔کاروباردنیاپھر سے بحال ہواور باغوں میں پھرسے لوگ پھولوں کے حسن کی داددینے کے لئے سیر کو نکل سکیں۔جس اداسی اور پریشانی میں یہ فصل بہار گزری ہے،آئندہ کبھی ایسی بہار نہ آئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *