عدالتی کمیشن عثمان کاکڑ کی موت کی تحقیقات کرے گا

کوئٹہ: حکومت بلوچستان نے پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے صوبائی صدر اور سابق سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی موت کی تحقیقات کے لیے 2 رکنی عدالتی کمیشن تشکیل دے دیا۔

 رپورٹ کے مطابق ان کے اہلِ خانہ اور پی کے میپ کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا تھا کہ 23 جون 2021 کو کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں دم توڑنے والے عثمان کاکڑ کو سازش کے تحت قتل کیا گیا۔

انہوں نے عدالتی کمیشن کے ذریعے اس معاملے کی انکوائری کروانے کا مطالبہ کیا تھا۔

چنانچہ اتوار کو وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال علیانی سابق سینیٹر کی وفات پر ان کے اہلِ خانہ اور بیٹوں سے تعزیت کے لیے اپنے کابینہ اراکین کے ہمراہ مسلم باغ پہنچے اور یقین دہانی کروائی کہ ان کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے انکوائری کی جائے گی۔

بعد ازاں محکمہ داخلہ کی جانب سے بلوچستان ہائی کورٹ کو خط لکھا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ صوبائی حکومت نے عثمان خان کاکڑ کی موت کی وجوہات کے تعین کے لیے کمیشن کے ذریعے انکوائری کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

مراسلے میں مزید کہا گیا کہ اس کے لیے بلوچستان ٹریبونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969 کی دفعہ 3 کی شق ایک کے تحت ایک عدالتی کمیشن تشکیل دے دیا گیا ہے۔

خط میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے کمیشن کے اراکین کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس ظہیر الدین کاکڑ کو نامزد کیا ہے۔

محکمے نے رجسٹرار سے ان نامزدگیوں کو ان 2 ججز تک پہنچانے اور اس کے مطابق باضابطہ طور پر کمیشن کا نوٹی فکیشن جاری کرنے کی درخواست کی۔

عثمان کاکڑ کی موت

خیال رہے کہ عثمان کاکڑ کوئٹہ میں سر پر چوٹ لگنے سے شدید زخمی ہوگئے تھے اور کراچی کے نجی ہسپتال میں دوران علاج انتقال کر گئے تھے۔

عثمان کاکڑ کے ذاتی معالج ڈاکٹر صمد پنزئی نے ڈان ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کوئٹہ میں واقع ان کی رہائش گاہ پر انہیں سر میں چوٹ آئی تھی اور 30 منٹ کے اندر ہی انہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا جہاں ان کا آپریشن کیا گیا اور انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔

بعد ازاں انہیں خصوصی ایئر ایمبولینس میں کراچی کے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں دوران علاج 21 جون کو وہ خالق حقیقی سے جاملے تھے۔

ڈاکٹر صمد پنزئی نے بتایا تھا کہ ان کی موت کی وجہ ان کے دماغ میں چوٹ ہے جس کی وجہ سے خون جمع ہوگیا تھا۔

بعد ازاں پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا کہ عثمان کاکڑ کے جسم کے کسی بھی حصے پر تشدد کے نشانات نہیں تھے۔

جناح پوسٹ گریجویٹ کی ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے کہا تھا کہ سر میں مبینہ چوٹ کے بارے میں فی الحال تبصرہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ سرجری ان کی زندگی کے دوران ہی کی گئی تھی، البتہ سی ٹی اسکین کے ساتھ ساتھ اینٹی مارٹم اور پوسٹ مارٹم دونوں ہی دستیاب ہیں جبکہ ہسپتال کے ریکارڈ کے ساتھ ساتھ کیمیائی تجزیے اور ہسٹوپیتھولوجی سے متعلق رپورٹس کے نتائج کا انتظار کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عثمان کاکڑ کے اہل خانہ نے بھی آزادانہ جانچ کے لیے نمونے دینے کی درخواست کی تھی جو انہیں فراہم کر دیے گئے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *