عدالت سے خواتین کے ’ورجنیٹی ٹیسٹ‘ پر پابندی کا مطالبہ

ورجنیٹی ٹیسٹ: ریپ کا شکار خواتین کے ٹیسٹ کرنے کے خلاف آئینی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی و صوبائی حکومت سے جواب طلب کر لیے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ہائی کورٹ نے ریپ اور جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین کے ’ورجنیٹی ٹیسٹ‘ پر پابندی کے لیے آئینی درخواست پر وفاقی اور صوبائی حکومت سمیت دیگر اداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے.

درخواست میں اعلیٰ عدالت سے استدعا کی گئی کہ ورجنیٹی ٹیسٹ طبی اعتبار سے ناقابل اعتماد ہے اور اس کی کوئی ٹھوس سائنسی بنیاد نہیں۔ درخواست گزار کے وکیل کے مطابق ورجنیٹی ٹیسٹ ناصرف خواتین کے بنیادی حقوق کے منافی ہے بلکہ یہ ٹیسٹ خواتین کے لیے تضحیک آمیز ہے.

لاہور ہائی کورٹ میں یہ درخواست صدف عزیز، فرح ضیا سمیت دیگر سماجی خواتین کارکنوں کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ درخواست میں جنسی زیادتی کا شکار بننے والی خواتین کے ورجنیٹی ٹیسٹ کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے.

درخواست کی ابتدائی سماعت لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے کی.

زیادتی

درخواست میں یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ ورجنیٹی ٹیسٹ کو خواتین کے بنیادی آئینی حقوق، تقدس، تکریم اور وقار کے منافی ہونے پر غیر آئینی قرار دیا جائے اور ورجنیٹی ٹیسٹ امتیازی سلوک پر مبنی ہونے کے باعث اس پر پابندی عائد کی جائے.

درخواست گزار کے وکیل سمیر کھوسہ نے درخواست میں موقف اپنایا کہ ورجنیٹی ٹیسٹ کے دوران پردہ بکارت کے زائل ہونے اور ٹو فنگر کے ذریعے جنسی زیادتی کے تعین کے طریقہ کار پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس ٹیسٹ کے استعمال کو غیر ضروری قرار دیا ہے.

وکلا کا عدالت کے سامنے یہ بھی کہنا تھا کہ ورجنیٹی ٹیسٹ کا طریقہ کسی بھی متاثرہ خاتون کے لیے شدید ذہنی، جسمانی، جذباتی اذیت سے کم نہیں ہے اور یہ ٹیسٹ آئین کے مطابق خواتین کے بینادی حقوق کے منافی ہے۔

درخواست گزار کے وکلا نے نشاندہی کی کہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین کا ورجنیٹی ٹیسٹ ایک دقیانوسی طریقہ کار ہے جو انگریز دور میں رائج کیا گیا تھا.درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ورجنیٹی ٹیسٹ ایک گمراہ کن مفروضے پر قائم ہے اور اس کا واحد مقصد خاتون کے کردار کے بارے میں رائے قائم کرنا ہے۔

واضح رہے یہ اپنی نوعیت کی پہلی درخواست ہے جو پاکستان کی کسی اعلیٰ عدالت میں دائر کی گئی اور جس پر نوٹس جاری ہوئے ہیں.

سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے درخوست گزار خواتین کے وکیل سمیر کھوسہ نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ ٹرائل کے دوران ورجنیٹی ٹیسٹ کی حیثیت بطور شہادت غیر متعلقہ ہوتی ہے. انھوں نے کہا کہ اس عمل سے کسی بھی عورت کے کردار اور سابقہ جنسی زندگی کا تعین کیا جاتا ہے اور پاکستان کے آئین میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے.

درخواست گزار نے یہ بھی موقف اپنایا کہ دنیا میں ورجنیٹی ٹیسٹ کی جگہ متبادل ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں جو سنگین نوعیت کے اس جرم کے مرتکب افراد کو سزا دلانے کے لیے موثر شہادت فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں.

درخواست گزار کے وکیل سمیر کھوسہ کا عدالت میں کہنا تھا کہ انڈیا اور بنگلہ دیش میں خواتین کے ورجنیٹی ٹیسٹ کو غیر آئینی قرار دیا جا چکا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے درخواست پر مزید کارروائی آئندہ ماہ چار اپریل تک ملتوی کر دی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.