عدت کے بغیر دوسرا نکاح باطل یا زنا نہیں، لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ نے عدت مکمل کیے بغیر شادی کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔

 رپورٹ کے مطابق مذکورہ فیصلہ ایک شہری کی دائر کردہ درخواست پر دیا گیا جس نے اپنی سابقہ زوجہ کے خلاف درخواست دائر کی تھی، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اس کی سابقہ اہلیہ نے طلاق کے بعد عدت مکمل کیے بغیر شادی کی ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس علی ضیا باجوہ نے وضاحت دی کہ خاتون کا عدت کے بغیر شادی کرنا ’غیر فطری‘ ہے لیکن منع نہیں ہے، اس کیس میں عدت سے مراد وہ مدت ہے جو خاتون کو نکاح ٹوٹنے کے بعد گزارنی پڑتی ہے۔

درخواست گزار امیر بخش نے مظفر گڑھ کےجج کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس کے تحت اس کی سابقہ بیوی اور اس کے نئے شوہر کے خلاف فوجداری مقدمہ کے اندراج کی درخواست خارج کردی گئی تھی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ مدعا علیہ آمنہ بی بی نے اس سے قانونی طور پر شادی کی تھی اور وہ اس کی قانونی بیوی ہونے کے ناطے اس کے گھر میں مقیم تھی، خاتون نے ناپاک ارادوں کے ساتھ، خفیہ طور پر شادی کو ختم کرنے کا دعویٰ دائر کیا تھا اور فیملی کورٹ نے اس کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔

درخواست گزار نے حکم نامے کو چیلنج کیا تھا جس کی درخواست ابھی متعلقہ فیملی کورٹ میں زیر التوا ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ اس کی اہلیہ نے عدالت کے سابقہ حکم کے بعد دوسرے دن قرآن پاک میں بیان کردہ عدت کے احکامات کی پابندی کے بغیر محمد اسماعیل سے شادی کر لی۔

انہوں نے کہا کہ ان کی اہلیہ اور مدعا علیہ کا یہ فعل اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے اور یہ جرم (انفورسمنٹ آف حدود) آرڈیننس 1979 کے تحت زنا کے ارتکاب کے مترادف ہے، جو کہ قابلِ سزا جرم ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ فیملی کورٹ کے جج نے اپنے منصفانہ ذہن کو استعمال کیے بغیر اور کیس کے حقائق کو اس کے حقیقی تناظر میں جانچے بغیر ان کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

اپنے فیصلے میں جسٹس باجوہ نے مشاہدہ کیا کہ صحیح نکاح وہ ہے جو ہر قسم کے نقائص اور کمزوریوں سے پاک ہو اور شریعت کے تقاضوں کے عین مطابق ہو۔

ایک جائز نکاح کے لیے ضروری ہے کہ ایسی کوئی قانونی ممانعت نہ ہو جس سے فریقین کی شادی کی متاثر ہو، نکاح کی دو اقسام ہیں جو فاسد اور باطل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’فاسد نکاح وہ ہے جہاں اس طرح کی شادی کے جواز میں رکاوٹ عارضی ہوتی ہے، جبکہ باطل شادی کی صورت میں ایسی رکاوٹ مستقل ہوتی ہے۔