عدنان سید اور سیریل: ایک پوڈ کاسٹ نے قتل کے مجرم کی سزا ختم کروانے میں کیسے مدد کی؟

سنہ 1999 میں پاکستانی نژاد امریکی شہری عدنان سید، جو امریکہ کے ایک ہائی سکول میں سینئر طالب علم تھے، کو اپنی سابقہ گرل فرینڈ کا گلا گھونٹ کر قتل کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

اس وقت استغاثہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ عدنان سید ’حسد کا شکار عاشق‘ ہیں جنھوں نے ہائی سکول میں اپنی ہم جماعت لی کا گلا گھونٹ دیا، اور اپنے ایک دوست کی مدد سے اُن کی لاش ریاست بالٹی مور کے ایک پارک میں چھپا دی۔ تفتیش کاروں نے اس مقصد کے لیے کچھ حد تک موبائل فون کے لوکیشن ڈیٹا پر انحصار کیا تھا جو اس کے بعد سے ناقابل اعتبار ثابت ہوا۔

اس وقت اخبارات کی سرخیاں کچھ اس طرح تھیں کہ ’عدنان سید نے ایک لائق اور باصلاحیت لڑکی کو بیدردری سے قتل کر دیا۔‘

عدنان سید 19 سال کے تھے جب سنہ 2000 میں عدالت نے انھیں مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سُنائی۔ اُن کی گرل فرینڈ لی کی لاش 1999 میں جنگل میں دفن ملی تھی۔

عدنان اب 41 سال کے ہیں اور تقریباً 23 سال سلاخوں کے پیچھے رہنے کے بعد پیر (19 ستمبر) کو اُن کی سزا ختم کرتے ہوئے عدالت میں اُن کی بیڑیاں اُتارنے کے احکامات جاری کیے گئے اور اب انھیں گھر پر نظربند کیا جائے گا۔

پراسیکیوٹرز نے گذشتہ ہفتے عدالت کو بتایا تھا کہ ایک سال تک جاری رہنے والے مقدمے کے جائزے میں دو ’متبادل مشتبہ‘ افراد کے نام سامنے آئے ہیں لہذا عدنان کو دی گئی سزا ختم کی جائے۔

بالٹی مور سرکٹ جج میلیسا فن کا کہنا تھا کہ ’انصاف کے مفاد میں‘ وہ عدالت کے پچھلے فیصلے (عمر قید کی سزا) سے دستبردار ہو رہی ہیں، انھوں نے مزید کہا کہ استغاثہ ایسے شواہد فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے جو مقدمے میں عدنان کے خلاف کام آ سکتے تھے۔

تاہم یہ واضح رہے کہ اس تازہ فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ عدنان سید کو بے قصور قرار دیا ہے۔ جج نے اس ضمن نئے مقدمے کی سماعت کا حکم دیا ہے۔

تقریباً 25 سال سے عدنان سید بار بار اصرار کرتے آئے ہیں کہ وہ بے گناہ ہیں مگر گذشتہ دو دہائیوں میں ان کی جانب سے دائر کی گئی ہر اپیل کو مسترد کر دیا گیا۔

اُن کے کیس کو سنہ 2014 میں ایک پوڈ کاسٹ سے بہت شہرت ملی تھی۔

’سیریل‘ نامی اس پوڈ کاسٹ کی وجہ سے دنیا بھر کی توجہ عدنان سید کے کیس پر مرکوز ہوئی اور اُن کے مجرم ہونے پر شکوک پیدا ہوئے۔ شو کی اقساط کو 340 ملین سے زیادہ بار ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔ اس کیس پر 2019 میں ’ایچ بی او‘ کی جانب سے ایک ڈاکوسیریز بھی بنی۔

پوڈ کاسٹ ’سیریل‘

Image shows Sarah Koenig in 2015
،تصویر کا کیپشنسیریل پوڈ کاسٹ کی میزبانی صحافی سارہ کینیگ کر رہی ہیں

عدنان سید کو جیل بھیجے جانے کے ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد بالٹی مور میں مقیم وکیل اور عدنان سید کے خاندان کی دوست رابعہ چوہدری نے سارہ کینیگ نامی ایک امریکی صحافی کو ای میل کی اور اُن سے لی کے قتل کی دوبارہ تحقیقات کرنے کو کہا۔

اس ای میل نے پوڈ کاسٹ ’سیریل‘ کے پہلے سیزن کو شروع کرنے میں مدد کی۔ شو کا پریمیئر خزاں 2014 میں ہوا اور ہر قسط میں لی کے قتل والی رات کی ایک ٹائم لائن بنانے کی کوشش کی گئی۔

پہلی قسط میں کینیگ کہتی ہیں کہ ’پچھلے سال کا ہر دن میں نے یہ جاننے کی کوشش میں گزارا ہے کہ 1999 میں ایک دن سکول کے بعد ایک گھنٹے تک ہائی سکول کا طالب علم کہاں تھا۔‘

مگر جن بچوں کے انھوں نے انٹرویو کیے، اب وہ بڑے ہو چکے ہیں اور ان کی کہانیاں بدل چکی ہیں۔

سیریل کی ہر قسط نے نئی تفصیلات اور ممکنہ نئے مشتبہ افراد کا انکشاف کیا گیا۔ انٹرنیٹ پر بیٹھے سراغ رساں اور جاسوس متحرک ہو گئے اور وہ اپنی اپنی تھیوریڈ (انکشافات) پر سوشل میڈیا پر بحث کرتے رہے۔

مہینوں تک اس کیس کے بارے میں ہونے والی بحث نے انھیں نیا ٹرائل جیتنے میں مدد کی۔

شو اتنا مقبول کیسے ہوا؟

’سیریل‘ نے پوڈ کاسٹ کی عوامی سطح پر مقبولیت کو بڑھانے میں بھی مدد کی۔ کوینیگ کے اپنے خاص انداز کے ساتھ ساتھ ایک حقیقی جرم پر مبنی موضوع نے سامعین کو ہر ہفتے شو کو سننے اور ڈاؤن لوڈ کرنے پر مجبور کر دیا۔

سیریل کے پہلے سیزن کو 300 ملین (30 کروڑ) سے زیادہ بار ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے اور اس شو کی مثال دنیا کے مقبول ترین پوڈ کاسٹوں میں سے ایک کے طور پر دی جاتی ہے۔

اگرچہ شو کے بعد کے سیزن کم مقبول ہوئے، لیکن کوینیگ اور ان کی ٹیم نے ایسی پوڈ کاسٹ کا فارمولا بنانے میں مدد کی جسے سُنے بغیر آپ رہ نہ سکیں۔

لیکن اس سے عدنان سید کی کیا مدد ہوئی؟

سیریل میں سامنے آنے والے نئے شواہد کی بنیاد پر سنہ 2015 میں عدنان سید کو جزوی طور پر ایک نئے ٹرائل کا حق حاصل ہوا۔

لیکن ایک جج نے اُن کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔ وہ برسوں تک قید رہے، ان کی قانونی ٹیم نے ایک نئے مقدمے کی سماعت کے لیے بحث کی اور سپریم کورٹ میں ان کی سزا کے خلاف اپیل کرنے کی کوشش کی۔

سنہ 2019 میں ایچ بی او نے چار حصوں پر مشتمل دستاویزی سیریز کا پریمیئر کیا جسے رابعہ چوہدری نے ’دی کیس اگینسٹ عدنان سید‘کا نام دیا۔

سیریز میں دلیل دی گئی کہ عدنان سید چونکہ مسلمان ہے، اسی لیے انھیں نسلی تعصب کی وجہ سے مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔

انھوں نے انکشاف کیا کہ قتل کے وقت فرانزک تجزیوں میں لی کے جسم پر عدنان سید کے ڈی این اے کا کوئی نشان نہیں ملا۔

Image shows Adnan Syed leaving court in 2016

لی کے خاندان کا کیا کہنا ہے؟

لی کے خاندان نے سیریل میں حصہ لینے سے انکار کر دیا اور ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا کہ ان کا ماننا ہے کہ عدنان سید کو صحیح طور پر سزا سنائی گئی تھی اور اصل مقدمے کے دوران انصاف ہوا تھا۔

’بالٹی مور سن‘ کے مطابق 2016 میں جب سید کو ایک نیا ٹرائل دیا گیا، تو خاندان نے صحافیوں کو بتایا کہ پوڈ کاسٹ نے ’ان کے زحموں کو دوبارہ تازہ کر دیا ہے اور دوسرے اُن کے غم کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھیں یقین ہے کہ پوڈ کاسٹ کے ذریعہ لوگوں کو غلط معلومات دی گئی ہیں اور انھیں اس پر افسوس ہے کہ ’بہت کم لوگ مقتولہ لی کے حق میں بات کر رہے تھے۔‘

جج کے پیر کو فیصلہ سنانے سے پہلے لی کے بھائی ینگ لی نے خاندان کی جانب سے عدالت کے سامنے ایک جذباتی التجا کی۔

’میرے لیے یہ پوڈ کاسٹ نہیں، حقیقی زندگی ہے۔۔۔ 20 سے زیادہ سالوں سے چل رہا اور کبھی نہ ختم ہونے والا ڈراؤنا خواب۔‘

اب آگے کیا ہو گا؟

Image shows Adnan Syed leaving court on Monday

عدنان سید کی سزا کے خاتمے کے بعد، استغاثہ کے پاس یہ فیصلہ کرنے کے لیے اگلے 30 دن ہیں کہ آیا وہ نیا مقدمہ چلائیں گے یا ان کے خلاف الزامات کو ختم کریں گے۔

اگر لی کے قتل کی تفتیش دوبارہ شروع کی جاتی ہے تو نئے شواہد سید کو بری کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔

شاید اس سے غمزدہ خاندان کو بھی اصل حقیقیت کا علم ہو سکے کہ ان کی بیٹی کو کس نے مارا تھا۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے دو ممکنہ ’متبادل‘ مشتبہ افراد کی نشاندہی کی ہے، ان دونوں میں سے کیس کو بھی اب تک نہ تو نامزد کیا گیا ہے اور نہ ہی اس مقدمے میں ان پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.