عروج آفتاب: پاکستانی گلوکارہ نے بیسٹ گلوبل میوزک پرفارمنس کا گریمی ایوارڈ جیت لیا

پاکستانی گلوکاری عروج آفتاب نے 2022 کے گریمی ایوارڈز میں اپنے گانے 'محبت' کے لیے بہترین گلوبل میوزک پرفارمنس کا ایوارڈ جیت لیا ہے۔

یہ ان کی کے کیریئر کی پہلا گریمی ایوارڈ ہے۔ عروج آفتاب، جو گریمی کے لیے نامزد ہونے والی پہلی پاکستانی خاتون ہیں، وہ بہترین نئے آرٹسٹ کی کیٹیگری کے لیے بھی نامزد ہیں۔

عروج آفتاب نے 64 ویں گریمی ایوارڈز کے موقع پر اسٹیج پر کہا، 'میں نے یہ ریکارڈ ہر اس چیز کے بارے میں بنایا جس نے مجھے توڑا اور مجھے دوبارہ اکٹھا کیا۔ اسے سننے اور اسے اپنا بنانے کے لیے آپ کا شکریہ۔'

انجلیک کڈجو اور برنا بوائے، فیمی کوٹی، اینجلیک کڈجو کے ساتھ یو-یو ما، اور وِزکیڈ فٹ ٹیمز اس کیٹیگری کے لیے نامزد امیدوار تھے۔

یاد رہے کہ عروج آفتاب ان چند گلوکاروں میں سے ہیں جنھیں امریکی میوزک انڈسٹری کے بڑے اعزاز گریمی ایوارڈز 2022 کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔https://www.instagram.com/p/Cb5zQOzhj0l/embed/captioned/?cr=1&v=14&wp=498&rd=https%3A%2F%2Fwww.bbc.com&rp=%2Furdu%2Fentertainment-59401126#%7B%22ci%22%3A0%2C%22os%22%3A579538.6000000238%2C%22ls%22%3A579229.6000000238%2C%22le%22%3A579529.3999999762%7D

Instagram پوسٹ کا اختتام, 1

نامزدگی پر رد عمل

پاکستان اور امریکہ میں ان کی نامزدگی پر ردعمل کچھ ایک جیسا تھا کچھ لوگ کئی برسوں سے عروج آفتاب کی موسیقی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں تو بعض کے لیے یہ نام کچھ خاص جانا پہچانا نہیں۔

گریمی کے لیے ’دی ریکارڈنگ اکیڈمی‘ نے عروج کا نام دو ایوارڈز کے لیے نامزد کیا تھا۔ بیسٹ نیو آرٹسٹ (بہترین نئے گلوکار) کے علاوہ ان کا گانا ’محبت‘ بیسٹ گلوبل میوزک پرفارمنس (عالمی سطح پر بہترین کارکردگی) کے ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

اگر عروج کی زندگی کو ایک جملے میں سمویا جائے تو وہ ایک 37 سالہ پاکستانی ہیں جنھوں نے لاہور سے اپنی موسیقی کا آغاز کیا، امریکہ کے برکلے کالج آف میوزک سے تعلیم حاصل کی اور اب تک ان کی تین سولو البم آ چکی ہیں۔

مگر ان کی زندگی کی اصل کہانی دراصل اس سے زیادہ دلچسپ ہے۔۔۔

18 سال کی عمر میں انٹرنیٹ پر وائرل

سعودی عرب میں پیدا ہونے والی عروج آفتاب جب اپنے والدین کے ساتھ لاہور آئیں تو انھوں نے اپنے میوزک کیریئر کا آغاز بطور کوور آرٹسٹ کیا یعنی وہ کسی مشہور گانے کو اپنے انداز میں گا کر نیا رنگ دیتی تھیں۔

18 سال کی عمر میں ان کے ایسے ہی دو گانے ’ہالیلویا‘ اور عامر ذکی کا ’میرا پیار‘ انٹرنیٹ پر وائرل ہوئے جس سے انھیں ابتدائی طور پر پذیرائی ملی۔

عروج آفتاب

امریکہ کے برکلے کالج سے میوزک پروڈکشن اور انجینیئرنگ پڑھنے کے دوران وہ نیو یارک آ گئیں۔

عابدہ پروین کے دروازے پر دستک

عروج کو بچپن سے کلاسیکی موسیقی، غزل اور قوالی سے لگاؤ رہا ہے۔ 90 کی دہائی میں لاہور میں ان کے دوست اور رشتہ دار سب استاد نصرت فتح علی خان سے متاثر تھے اور ان کی نایاب ریکارڈنگز بڑے شوق سے سُنا کرتے تھے۔

سنہ 2010 کے دوران نیویارک میں صوفی میوزک فیسٹیول کا میلا سج رہا تھا جب عروج کو پتا چلا کہ ’صوفی موسیقی کی ملکہ‘ عابدہ پروین بھی وہاں پرفارم کرنے والی ہیں۔

پِچ فارک کو دیے ایک انٹرویو میں عروج یاد کرتی ہیں کہ انھوں نے ہوٹل میں عابدہ پروین کا روم نمبر پتہ کیا اور ان کے دروازے پر بن بلائے دستک دے دی۔ عابدہ پروین نے انھیں آڈیشن سے پہچان لیا، ہاتھ پکڑا اور کمرے میں بلا لیا۔ اور یوں دونوں ہارمونیم پر ساتھ گانے لگے۔

ایک موقع پر عروج نے عابدہ پروین سے پوچھا ’میں اپنی زندگی کے ساتھ کیا کروں؟‘

عابدہ پروین نے جواب دیا ’میری البمز سُنو!‘

عروج یہ تسلیم کرتی ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں اُردو شاعری سے کافی متاثر ہوئی ہیں۔ وہ اپنی موسیقی کو نیو صوفی سیمی پاکستانی کلاسیکل کہتی ہیں۔

عروج آفتاب

اوباما بھی ان کے فین ہیں

گریمی میں نامزدگی کے بعد سوشل میڈیا پر عروج سے متعلق طرح طرح کے تبصرے ہو رہے ہیں۔ جہاں اکثر لوگ انھیں اس پر داد دے رہے ہیں وہیں کچھ لوگ بظاہر ان کی موسیقی سے زیادہ متاثر نہیں۔

جبکہ بعض کا خیال ہے کہ پاکستانی فنکاروں کو صرف تب ہی سراہا جاتا ہے جب انھیں عالمی شہرت ملے، جو ٹھیک نہیں۔

خیر عروج اس سے پہلے بھی عالمی سطح پر سب کی نظروں میں آ چکی ہیں۔ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ان کا گانا ’محبت‘ اپنے آفیشل سمر 2021 پلے لسٹ میں شامل کیا تھا۔

حفیظ ہوشیارپوری کی ایک غزل پر مبنی یہ گانا عروج کے ہٹ گانوں میں سے ہے جسے ان سے پہلے مہدی حسن گا چکے ہیں۔

سوشل میڈیا ایک صارف نے طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایک آئیڈیل دنیا میں مہدی حسن کو گریمی ملنا چاہیے تھا۔‘

دریں اثنا سنہ 2020 میں عروج کو سٹوڈنگ اکیڈمی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔

’بچپن سے ہی دوسروں سے مختلف‘

پچ فورک کو دیے انٹرویو میں عروج نے کہا ہے کہ وہ بچپن سے ہی خود کو دوسروں سے الگ اور مختلف سمجھتی تھیں۔ وہ موسیقی کی تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھیں جس کے لیے انھیں لاہور سے بہت دور جانا پڑتا اور جو بہت مہنگا ثابت ہو سکتا تھا۔

ان کے والدین کو بھی موسیقی سے کافی لگاؤ تھا مگر ایک بار ان کے والد نے کہا تھا کہ کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ میوزک میں جانا چاہتے ہیں مگر حقیقت میں انھیں صرف میوزک پسند ہوتا ہے۔

عروج آفتاب

’مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ کیا کروں اور ایک بار میں ایک گانا سن رہی تھی اور میں نے فیصلہ کیا کہ میں بھی اسے دل سے گا سکتی ہوں۔ میں دنیا سے تھک چکی تھی۔‘

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ 2018 میں ان کے بھائی اور ایک قریبی دوست کی موت نے ان کی زندگی اور موسیقی پر گہرا اثر چھوڑا۔

’میں سوڈا نہیں پیتی‘

سکرول نیوز ویب سائٹ نے ان سے پوچھا کہ وہ پاکستان کے معروف میوزک شو کوک سٹوڈیو میں حصہ کیوں نہیں لیتیں جو ان کی طرح صوفی اور کلاسیکل موسیقی کو نئے انداز میں پیش کر رہا ہے۔

ان کا جواب تھا کہ ’میں سوڈا نہیں پیتی! کوکا کولا ایک ایسی کمپنی ہے جس نے ماضی میں انڈیا اور پاکستان کے کسانوں کے ساتھ بُرا سلوک کیا ہے۔ تو میں انھیں بالکل بھی سپورٹ نہیں کرتی۔ اس کے باوجود میں اس چیز کی حمایت کرتی ہوں کہ پاکستان میں انھوں نے میوزک کے اعتبار سے یہ کام شروع کیا۔ اس سیٹ اپ میں مرد غلبہ رکھتے ہیں اور اسے طاقت کے زور پر چلایا جاتا ہے۔۔۔‘

’تو یہ ایسا ماحول نہیں جس میں، میں میوزک بنانے میں پُرسکون محسوس کروں۔‘

عروج نے گریمی کے لیے اپنی نامزدگی کی خبر پر لکھا کہ انھیں اس خبر پر حیرت اور خوشی ہے۔

گلوکارہ حدیقہ کیانی نے اس خبر پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ یہ قوم کے لیے فخر کی بات ہے۔

صارف ہارون شاہد نے لکھا کہ ایک پاکستانی کے اس اعزاز تک پہنچنے پر وہ بہت خوش ہیں۔

صارف
error: