عروسی بندشیں

آج کل پاکستان میں شادیوں کاموسم ہے اوران دنوں کچھ اہم شخصیات کی شادیوں کی بازگشت ہمارے میڈیاکا محبوب موضوع بنی ہوئی ہے۔افریقہ کے جنگلات میں آباد مسائی قبیلے میں یہ روایت رہی ہے کہ جب تک لڑکاشیر کا شکار نہیں کرتااس کی شادی طے نہیں کی جاتی۔پنجاب کے پانچ دریاؤں کے ارد گرد بسنے والے لوگوں کے اپنے مخصوص خصائل اور روایتیں رہی ہیں۔ہمارے دریائے راوی کے ارد گردبسنے والے کچھ قبائل میں یہ روایت تھی کہ جب تک نوجوان چوری نہ کرے اس کی شادی نہیں کی جاتی تھی۔کہا یہی جاتا تھا کہ لڑکا ابھی اپنے پاؤں پر توکھڑاہو جائے،کامیاب واردات کے بعد سب کہتے کہ اب لڑکااپنے پیروں پر کھڑاہو گیا ہے۔شائد اسی لئے مثل مشہور ہوئی کہ سندھ صادقان،راوی راشقان،چناب عاشقان اور جہلم کے بارے میں جملہ معترضہ ہے۔
مال مسروقہ میں بھینس کی چوری دریائے راوی کے اردگردآباد لوگوں میں سب سے زیادہ عام تھی۔واقعہ یوں ہوا کہ ہمارے شہر، جو کہ راوی سے زیادہ دور نہیں،کے رہائشی کسی شریف آدمی کی بھینس چوری ہوگئی سراغ لگانے والے کھوجی نقش پا ڈھونڈتے ہوئے بالکل درست جگہ پر ”کھرا“لے گئے۔نئی نسل کے نوجوان قاری شائدکھوجی کے معنی اور مفہوم سے نابلد ہوں۔سہولت کے لئے عرض کردوں کہ پرانے دورکے پرائیویٹ Detectiveجو پاؤں کے نشانات زمین پر دیکھ کر مجرم کا کھوج لگاتے تھے۔کھوجی کہلاتے تھے۔قصہ کوتاہ،کچھ معززین اور با رسوخ افراد کو معاملے کے درمیان ڈالا گیا،تاکہ مال مسروقہ واپس دلوائیں۔مشکوک قبیلے نے تسلیم کرلیاکہ چوری شدہ بھینس ان ہی کے پاس ہے مگرواپس دینے سے انکار کردیا۔عذریہ پیش کیا کہ وہ بھینس اس لئے واپس نہیں کرسکتے۔کیونکہ یہ ان کے ہونہار لڑکے کی پہلی چوری ہے۔اگر بھینس واپس کی گئی تو”بے برکتی“ہو گی،اس لئے معززین جو بھی قیمت طے کریں وہ اس بھینس کی اداکرنے کے لئے تیار ہیں،مگر بھینس واپس کرنے سے باوجوہ قاصرہیں۔راوی کے ارد گردآباد انہی قبائل میں سے ایک قبیلہ موربھی ہے،جن کے متعلق ضرب المثل مشہور ہوئی کہ”چوروں کوپڑگئے مور“یعنی ان کے ہاتھوں تو چور بھی لٹ جاتے تھے۔
کینیاکے ایک مسائی نوجوان سے جوکہ جنگل میں ٹورسٹ گائیڈ کے طور پر کام رہا تھا،میرے بڑے بھائی نے پوچھاکہ اس نے بھی کوئی شیر شکار کیا ہے؟تاکہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو سکے۔یا کہ یہ مرحلہ ابھی باقی ہے؟جواباًمسائی نوجوان نے بتایا کہ اب حالات بدل گئے ہیں اور شیر کا شکارکئے بغیر بھی شادی ہو جاتی ہے۔مسائی جنگجواوربہادر ہوتے ہیں،اس کا اندازہ تو آپ کو ازدواجی شرائط سے ہی ہو گیا ہوگا،مزیدبرآں کینیااور تنزانیامیں یہ قبائل وہاں وہاں آباد ہیں،جہاں شیر کا شکار کھیلا جاتا ہے اور انہیں ”گیم پارک“بھی کہتے ہیں۔زمانہ قدیم سے انگریز شکاری جب شیر کا شکار کھیلنے آتے تو ان مسائی لوگوں سے مدد لیتے تھے۔اسی لئے یورپی شکاریات پڑھ کریہ مسائی اساطیری کردار محسوس ہوتے ہیں۔مگر افریقہ کے تمام قبائل میں سے ا س قبیلے کے لوگوں کی ایک بات واقعتامنفرد رہی ہے،نوآبادیاتی جارحین یہ بات بخوبی جانتے تھے،کہ مسائی قبیلے کے کسی فرد کو غلام نہیں بنایا جا سکتا۔حالانکہ افریقہ صدیوں تک غلاموں کی خریدوفروخت کی سب بڑی منڈی بنا رہا ہے۔یہاں سے دنیا بھرمیں غلام برآمد کئے جاتے ہیں۔اس بابت مسائیوں کے استثنیٰ کی وجہ یہ تھی کہ جیسے ہی کسی مسائی کوقید کیا جاتاوہ کھانا پینا ترک کردیتا،بے حس وحرکت پڑارہتا،یہاں تک کہ لقمہء اجل بن جاتا۔اسی سبب سے بیرونی حملہ آوروں نے مسائی قبیلے کے افرادکو غلام بنانے کی کوششیں بھی ترک کر دیں کہ یہ وقت،توانائی اورسرمائے کا ضیاع تھا۔
ایک افریقی دانشور سے اس متعلق گفتگو ہوئی تو اس نے بڑی دلچسپ اورعجیب وغریب وضاحت پیش کی تھی۔اس کا کہنا تھاکہ مسائی قبیلے کے لوگ لمحہ،موجود میں زندہ رہتے ہیں،ان کے نزدیک زندگی کا مفہوم فقط یہی گھڑیاں ہیں جو ہم گزاررہے ہیں،وہ انہیں ہی جیون جان کر جیتے ہیں۔جب ان کو قید میں ڈالا جاتاہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ قید بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہے،مستقل اوردائمی اسیری ہے۔اس لئے وہ ایسی زندگی پرموت کو ترجیح دیتے ہیں۔مگریہ ماضی کی باتیں ہیں،اب یہ لوگ زیادہ ترنمائشی کرداروں میں نظر آتے ہیں۔گائیڈاور اداکار کا کردارمسائی لباس و حلیہ اورروپ دھارکرسیاحو ں کولبھانے کے لئے اداکرتے ہیں۔ورنہ شیر کے شکار کی شرط اگرا ب بھی مسائی نوجوانوں کی شادی کے لئے عائدہوتی توان میں سے غالب اکثریت کنوارے ہی مرجاتی۔کم از کم مذکورہ گائیڈکی صحت دیکھ کرتوباآسانی پیش گوئی کی جاسکتی تھی کہ وہ شیر کا شکار اورشادی کے بندھن میں بندھے بغیر ہی اس عالم رنگ و بوکو خیربادکہے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *