عشق نے زور آزمائی کی

لاہور ان دنوں سخت سردی کی زد میں ہے۔ گزشتہ ہفتے ایک‘ دو دن تو ایسے بھی تھے کہ شہر‘ چوبیس گھنٹے فوگ سموگ کی لپیٹ میں رہا۔ رہی سہی کسر گیس کے بحران نے پوری کردی۔ اب چار پانچ روز سے صبح سے شام تک مطلع صاف رہتا ہے۔ ایسے میں نرم چمکیلی دھوپ کا مزاکسی نعمت سے کم نہیں۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر امجد ثاقب کا بھلا کرے کہ اس اتوار کو انہوں نے برنچ پرشہر کے اخبارنویسوں کے مل بیٹھنے کا اہتمام کیا۔
ذرا سی دیر دسمبر کی دھوپ میں بیٹھیں
یہ فرصتیں ہمیں شاید نہ اگلے سال ملیں
بابا بلھے شاہ (اور ملکہ ترنم نور جہاں) کے شہر قصور سے سات آٹھ کلو میٹر اِدھر مصطفیٰ آباد میں اخوت کالج کے سبزہ زار میں اس ملن کا اہتمام کیا گیا تھا۔ چھٹی کا دن‘ لاہور شہر سے کوئی تیس پینتیس کلومیٹر کا فاصلہ‘ کورونا کے مسائل اور صبح ساڑھے دس بجے کا وقت۔ مدعوئین میں نوجوان بھی تھے لیکن ہم جیسے ادھیڑ عمر بھی کم نہ تھے۔ مگر ان کے لیے بھی ڈاکٹر امجد ثاقب کی دعوت کوٹالنا آسان نہ تھا۔ (شریک میزبان شفیق عباسی کی بار بار کی یاد دہانی بھی اپنی جگہ تھی)۔ڈاکٹرامجد ثاقب ''اخوت‘‘ کی کہانی سنارہے تھے۔ یہ کہانی ہم پہلے بھی سن چکے لیکن یہ اتنی دلگداز ہے کہ جب بھی سنی‘ یوں لگا پہلی بار سن رہے ہوں۔ ویسے بھی قندِمکرر کا اپنا مزہ ہوتاہے۔
ڈاکٹر امجد ثاقب نے لاہور کے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا‘پھر مقابلے کا امتحان پاس کرکے ڈی ایم جی گروپ میں افسر ہوگئے۔ 2001ء میں لاہورمیں پنجاب رورل سپورٹ پروگرام کے جنرل منیجر تھے۔ یہ بے وسیلہ(اور کم مایہ) لوگوں کی مالی امداد کا پروگرام تھا(جس میں سود کے ساتھ قرضہ دیا جاتا)۔ایک دن‘ ایک خاتون امجد ثاقب کے پاس آئی‘ لیکن اس کے پاس کوئی تحریری درخواست نہ تھی۔ وہ اپنی معروضات زبانی پیش کرنا چاہتی تھی۔ اس نے بتایا کہ اس کے سرکاسائیں اگلے جہاں سدھار گیا۔ اس کے پاس کوئی جمع پونجی نہ تھی۔ گھرانے کے سربراہ کی دن بھر کی مشقت ہی گزر بسر کا ذریعہ تھی۔ اس کے چار بچے ہیں‘جن کی ذمہ داری اس کے کندھو ں پر آن پڑی تھی۔ وہ اس بھاری بھرکم ذمہ داری سے عہدہ براہونے کا حوصلہ رکھتی تھی لیکن اس کیلئے کچھ رقم درکار تھی۔ اس کا کہنا تھا‘ وہ سود پر قرض نہیں لینا چاہتی ۔ خود دار خاتون کو بھیک بھی نہیں چاہیے تھی‘ وہ صرف یہ چاہتی تھی کہ ڈاکٹر صاحب اسے اپنے پلے سے دس ہزار روپے قرض دے دیں ۔ اس کا وعدہ تھا کہ جوں ہی ہاتھ ذرا کھلا ہوگا وہ یہ قرض لوٹا دے گی۔ اس نے اپنے ''بزنس پلان‘‘ بھی ڈاکٹر صاحب کے سامنے رکھ دیا۔ دس ہزار روپے سے دوسلائی مشینیں خریدے گی۔ ایک مشین وہ خود چلائے گی‘بڑی بیٹی اس قابل ہے کہ دوسری مشین کے ذریعے ماں کا بوجھ شیئر کرسکے۔ امجد ثاقب اسے دس ہزار روپے دے کر بھول گئے۔18ویں سکیل کے سی ایس ایس افسرکیلئے ویسے بھی یہ کوئی بڑی رقم نہ تھی۔ اتنی سی رقم تو چار پانچ دوست کسی اچھے ہوٹل میں ایک وقت کے کھانے پر اڑا دیتے تھے۔
آٹھ نو ماہ بعد ایک روز پھر وہی خاتون ڈاکٹر صاحب کے سامنے موجود تھی۔وہ اپنے لباس سے اب قدرے آسودہ حال لگ رہی تھی۔ اب اس کے چہرے پر‘ اس کی آنکھوں میں‘ ایک طمانیت تھی اور تشکرو ممنونیت کے ساتھ قدرے تفاخر کا احساس بھی ۔ وہ اپنا قرض واپس کرنے آئی تھی‘ اس تجویز کے ساتھ کہ اس کا محسن‘اسے کسی اور حاجت مند کی نذر کردے۔ اس کے بقول دس ہزار کی یہ رقم بڑی بابرکت ثابت ہوئی تھی۔ کوئی لمحہ انسان میں ایک نیا احساس پیدا کردیتا ہے‘کوئی واقعہ ایک نئی سوچ کا باعث بن جاتاہے۔ ڈاکٹر ثاقب کیلئے وہی لمحہ آن پہنچا تھا۔ انہوں نے چندقریبی احباب کے ساتھ مشورہ کیا‘ کیوں نہ بلا سود قرضے کی کسی تحریک کا آغاز کیا جائے۔ اس کیلئے انہوں نے ہجرتِ مدینہ سے جنم لینے والی مواخات کو مثال بنایا۔ جب مدینہ کے اصحابِ ثروت نے مکہ سے آنے والے بے وسیلہ مہاجروں کو اپنا بھائی بنا لیا۔پھر بے وسیلہ مہاجر‘ بے سروسامان نہ رہے اور زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ لینے والے ہاتھ‘ دینے والے ہاتھ بن گئے۔ امجد ثاقب کے احباب اس کا رِخیر میں ان کے دست وبازو بننے لگے اور کاررواں بنتا گیا۔
2003ء میں جب امجد ثاقب کی 19ویں گریڈ میں پروموشن ہونے والی تھی‘ انہوں نے سوچا‘''اخوت‘‘ کا بڑھتا ہواکارِ خیر‘ ہمہ وقت توجہ چاہتا ہے؛ چنانچہ انہوں نے استعفیٰ لکھا اور خود کو خلقِ خدا کی خدمت کیلئے وقف کردیا۔
عشق وہ کارِ مسلسل ہے کہ ہم اپنے لیے
ایک لحظہ بھی پس انداز نہیں کر سکتے
2001ء میں دس ہزار کی رقم سے شروع ہونے والے کا رِخیر میں قدرت نے اتنی برکت ڈالی کہ19سال بعد اب اس کا حجم ایک سو پچیس ارب روپے کو پہنچ چکا۔ اب تک 30لاکھ گھرانے اس سے استفادہ کرچکے ہیں۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت‘ ملک بھر میں400کے قریب اس کی شاخیں سرگرم عمل ہیں اور اہم تر بات یہ کہ قرضوں کی واپسی کی شرح 99.9 فیصد ہے اوران کی تعداد بھی کم نہیں‘جو اپنا قرض اتارنے کے بعد ڈونر بن جاتے ہیں۔ امجد ثاقب یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ کون کہتا ہے‘ پاکستانی ایک کرپٹ قوم ہیں؟
اور پھر ایک روز ایک نئے خیال نے جنم لیا‘ قرضے بلا سود ہوسکتے ہیں تو بے وسیلہ باصلاحیت بچوں کیلئے تعلیم فیس کے بغیر کیوں نہ ہو؟شاعر نے کہا تھا کہ ؎
شہر میں آ کر پڑھنے والے بھول گئے
کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا
لیکن وہ بھی تو ہیں جن کی مائوں کے پاس بیچنے کے لیے سونے کا کنگن تو کجا‘ چاندی کی انگوٹھی بھی نہ ہو۔ ا ن کے لیے اخوت کالج کے قیام کا فیصلہ کیاگیا۔ سب سے پہلے مصطفیٰ آباد میں50ایکڑ پر مشتمل اس اخوت کالج کا قیام عمل میں آیا۔ ایک کالج فیصل آباد میں اور ایک کراچی میں ہے۔ چکوال میں خواتین کا کالج ہے۔ اور پھر مصطفیٰ آباد کے اس کالج کو اخوت یونیورسٹی بنانے کا فیصلہ ہوا توآرکیٹیکٹ نے اس کا خرچہ 50کروڑروپے بتایا۔ اس کیلئے50 لاکھ اینٹیں فروخت کرنے کا منصوبہ بنا‘ ایک ہزار کی ایک اینٹ۔ جس پر ڈونر کا نام کنداں ہوگا۔راجن پور سے ایک بزرگ خاتون کا فون آیا: میرے پاس 500روپے ہیں‘ کیا میں آدھی اینٹ خرید سکتی ہوں؟
اور اب اخوت یونیورسٹی کا اکیڈیمک بلاک زیر تعمیر ہے جو آنے والے جون تک مکمل ہوجائے گا۔اخوت کا یہ تعلیمی پروگرام قومی اتحاد ویکجہتی کی درخشاں علامت ہے۔ یہاں داخلے کیلئے ایک ہی میرٹ ہے‘ صلاحیت اور غربت۔ یہاں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت پورے پاکستان کے طلبہ نظر آتے ہیں۔ان میںمذہب ومسلک کی بھی کوئی تفریق نہیں۔ ہاسٹل کے ایک کمرے میں مختلف صوبوں سے ایک ایک طالب علم کو رکھا جاتا ہے‘ گویا ہر کمرہ منی پاکستان ہے۔امجد ثاقب کو یقین ہے کہ یہ بچے پڑھ لکھ کر برسرِ روزگار ہوجائیں گے۔ تو اس کا رِخیر میں اپنا اپنا حصہ ڈلتے رہیں گے۔ یہی ان کی ''فیس‘‘ ہوگی۔مہمان اخبار نویسوں کی نمائندگی کرتے ہوئے شامی صاحب کا کہنا تھا: امجد ثاقب نے اٹھارہ‘ انیس سال پہلے دس ہزار روپے سے اس کا رِخیر کا آغاز کیا تو مذاق سالگتا تھا۔ آج ''اخوت‘‘ دنیا میں بلا سود قرضوں کی منفرد تنظیم بن چکی ہے۔ میریاد آئے ؎
کوہکن کیا پہاڑ توڑے گا
عشق نے زور آزمائی کی

error: