عطاء اللہ مینگل باوقار سیاستدان

تقریباََ ہر روز کوئی ایسا واقعہ ہوجاتا ہے جو مجھے یہ سوچنے کو مجبور کردیتا ہے کہ ہم واقعتا بلھے شاہ کے بتائے ’’شک شبے‘‘ والے دور میں محصور ہوچکے ہیں ۔گزشتہ دو دنوں سے بہت لوگوں کی جانب سے پیغامات آئے ہیں۔طعنہ زن انداز میں یاد دلایا گیا کہ سید علی گیلانی صاحب کی رحلت کے بعد میں نے ان کی ذات اور سیاست کے بارے میں نہایت جذباتی کالم لکھا۔ آخری سانس تک اپنے مؤقف پر ڈٹے سردار عطاء اللہ مینگل کی وفات کی بابت مگر میں خاموش رہا۔ پس ثابت ہوا کہ وطنِ عزیز میں تعزیتی کالم لکھتے ہوئے بھی منافقت بھری احتیاط اختیار برتنا لازمی ہے۔

بے بنیاد یاوہ گوئی جو آپ کی نیت کو مشکوک بنائے غالباََ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دینی چاہیے۔اندھی نفرت وعقیدت میں تقسم ہوئے معاشرے میں لیکن یہ ممکن نہیں رہا۔ یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ کسی بھی شخصیت کے بارے میں لکھتے ہوئے میں ان سے ہوئی ملاقاتوں پر انحصار کرتا ہوں۔مینگل صاحب سے میری کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ان کے فرزند -اختر مینگل-سے اگرچہ باہمی محبت واحترام کے مراسم ہیں۔ان سے ملاقات کا آغاز ہمیشہ مینگل صاحب کی خیریت پوچھنے سے کیا۔

روایتی سیاست سے عرصہ ہوا بلوچستان کے پہلے منتخب وزیر اعلیٰ کنارہ کش ہوچکے تھے۔تاریخ درست کرنے کے بہانے بھی کسی صحافی کو انٹرویو دینے کے لئے آمادہ نہیں ہوتے تھے۔جنرل مشرف کے مستعفی ہونے کے بعد نواز شریف کی خواہش تھی کہ وہ صدر پاکستان کے عہدے کا انتخاب لڑیں۔ مینگل صاحب نے اس ضمن میں خاموشی اختیار کئے رکھی۔میں اس تناظر میں خوش نصیب رہا کہ میرے ٹی وی پروگرام میں اس موضوع پر گفتگو کو تیار ہوگئے۔نہایت تلخ مگر واضح الفاظ میں انکار اس انٹرویو کا یک سطری پیغام تھا۔دیگر سیاست دانوں نے مگر اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔بہتر ہوتا کہ ایک وفد کی صورت ان کے ہاں جاتے اور انہیں ملکی سیاست میں واپسی کو قائل کرتے۔

ملکی سیاست کا طالب علم ہوتے ہوئے میں یہ اصرار کرنے کو مجبور ہوں کہ 1971میں مشرقی پاکستان گنوادینے کے بعد ہمارے سیاست دانوں کے پاس پاکستان کو حقیقی اور جاندار جمہوریت فراہم کرنے کا سنہری موقعہ میسر ہوا تھا۔بدقسمتی سے وہ ضائع کردیا گیا۔اِن دنوں آدھا تیتر آدھا بٹیر کی جو جمہوریت ہے وہ اُس دور کی کوتاہیوں کا شاخسانہ ہے۔’’وقت کرتا ہے پرورش برسوں۔حادثہ ایک دم نہیں ہوتا‘‘ والا معاملہ۔

تحقیق کا ہمارے ہاں رواج نہیں۔تاریخ کو ٹھوس بنیادوں پر مرتب کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے۔تاریخ سے غافل مستقبل کی جانب بڑھنا بیک مرر کو دیکھے بغیر گاڑی چلانے کے مترادف ہے۔یہ حادثوں کے امکانات سے بھرپور ہوتا ہے۔

1970میں قیام پاکستان کے طویل برس گزرجانے کے بعد وطن عزیز میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر پہلے عام انتخاب ہوئے تھے۔ مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب کی عوامی لیگ نے بے پناہ اکثریت حاصل کی۔پنجاب اور سندھ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہوگئے۔ان دنوں کے صوبہ سرحد اور بلوچستان کے نام سے پہلی بارپاکستان کا صوبہ ہوئے علاقوں کے رائے دہندگان کی اکثریت نے قوم پرست نیشنل عوامی پارٹی اور مذہبی جماعت جمعی علمائے اسلام کے امیدواروں کی حمایت میں ووٹ ڈالا۔آج بھی یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ 1970میں ہونے والے انتخاب قابل تقلید انداز میں صاف،شفاف اور آزادانہ تھے۔ ان کے نتائج کو مگر بروئے کار آنے نہیں دیا گیا۔مشرقی پاکستان اس کی وجہ سے بنگلہ دیش بن گیا اور اس تناظر میں بھارتی جارحیت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

بقیہ پاکستان کو اس کے باوجود مگر یہ مہلت میسر ہوئی کہ وہ تاریخ سے سبق سیکھے۔مرکز میں ذوالفقار علی بھٹو برسراقتدار آئے۔سندھ اور پنجاب میں بھی ان کی جماعت کی حکومتیں قائم ہوئیں۔سرحد اور بلوچستان میں لیکن خود کو ’’سیکولر‘‘ کہلاتی نیشنل عوامی پارٹی نے ’’مذہبی‘‘ جمعیت علمائے اسلام سے اتحاد کے بعد صوبائی حکومتیں بنالیں۔ان صوبائی حکومتوں کو اگر اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کی اجازت دی جاتی تو شاید ہمارے ہاں جولائی 1977بھی نہ ہوتا جس کے بعد جمہوریت ہمارے ہاں حقیقی معنوں میں آج تک نافذ نہیں ہوپائی ہے۔

تاریخ کا سرسری مطالعہ کئی لوگوں کویہ طے کرنے کو اُکساتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اپنی بے پناہ عوامی مقبولیت کے باعث آج کے ’’پاپولسٹ‘‘ آمروں کی طرح ہرشے کا سلطان بننے کو بضد تھے۔بھٹو صاحب کی ذاتی ترجیحات اور رویے پر نگاہ رکھتے ہوئے تاہم یہ حقیقت فراموش کردی جاتی ہے کہ ہماری ریاست کے دائمی ادارے بھی مشرقی پاکستان گنوادینے کے بعد شدید عدم تحفظ کا شکار ہوچکے تھے۔ہمارے ازلی دشمن بھار ت نے بنگلہ دیش کے قیام میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس کا کمیونسٹ روس کیساتھ باہمی سکیورٹی کے نام پر ایک جامع معاہدہ بھی ہوچکا تھا۔اس تناظر میں ریاست کے دائمی ادارے صوبائی حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والوں کو ’’علیحدگی پسند‘‘ تصور کرتے تھے۔وہ جنہیں ترقی پسند کہا جاتا ہے کمیونسٹ روس کے ایجنٹ شمار ہوتے تھے۔بھٹو صاحب نے ریاست کے دائمی اداروں میں موجود خدشات کو درست تصور کیا اور ان خدشات کے تدارک کے لئے متحرک ہوگئے۔ یہ’’مثبت کردار‘‘ بھی لیکن بالآخر انہیں پھانسی سے بچا نہیں پایا۔

پاکستا ن میں جمہوریت کے عدم استحکام کا تذکرہ کرتے ہوئے توجہ کو محض ہمارے داخلی حالات اور اس میں متحرک کرداروں اور اداروں تک ہی محدود نہیں رکھا جاسکتا۔1950کی دہائی کا آغا ز ہوتے ہی ہم امریکہ کی سرپرستی میں بنائے ان فوجی اتحادوں کا حصہ بن چکے تھے جو کمیونسٹ سوویت یونین کو ہر اعتبار سے ناکام بنانے کی خاطر بنائے گئے تھے۔پاکستان میں جمہوریت کو مستحکم بنانا مذکورہ اتحادوں کی ہرگز ترجیح نہیں تھی۔عمومی طورپر بلکہ یہ تصور کیا جاتا تھا کہ ’’پسماندہ‘‘ شمار ہوتے پاکستان جیسے ممالک کسی فوجی دیدہ ور کی قیادت ہی میں جدید صنعتی ممالک میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔آمروں کی حوصلہ افزائی اور پشت پناہی مذکورہ اتحادوں کی سرشت میں شامل تھی۔

مذکورہ اتحادوں کی بدولت ایران کا سفاک شہنشاہ ہمارے خطے کا تھانیدار بنادیا گیا تھا۔ایران میں بلوچستان کے کچھ حصے بھی شامل ہیں۔سردار عطاء اللہ مینگل کی قیادت میں پاکستانی بلوچستان میں پہلی بار صوبائی حکومت قائم ہوئی تو شاہ ایران کو یہ خدشہ لاحق ہوگیا کہ یہ اگر مستحکم ہوگئی اور اس کی وجہ سے بلوچستان کو امن وخوشحالی نصیب ہوئی تو ایرانی بلوچستان میں بھی جمہوری نظام کی تمنا بھڑک اٹھے گی۔لگی لپٹی کے بغیر اس نے امریکی جریدے ’’ٹائمز‘‘ کو طویل انٹرویو دیتے ہوئے ڈھٹائی سے یہ اعلان کردیا کہ وہ بلوچستان میں قائم ہوئے ’’جمہوری بندوبست‘‘ سے خوش نہیں۔اسے رام کرنے بلوچ رہ نما غوت بخش بزنجو نے اس سے طویل ملاقاتیں کی۔وہ مگر رضا مند نہیں ہوا۔رعونت میں اس حد تک چلاگیا کہ پاکستان کو یہ تڑی بھی لگادی کہ اگر وہ بلوچستان کو ’’سنبھال‘‘ نہ پایا تو ایران اسے اپنی فوج کے استعمال سے ’’درست‘‘ کردے گا۔عطاء اللہ مینگل یوں فقط داخلی سازشوں اور اختلافات کی وجہ سے نہیں بلکہ امریکہ کی قیادت میں بنائے فوجی اتحادوں کی وجہ سے بھی بلوچستان میں منتخب جمہوری بندوبست کو مستحکم بنانے کی مہلت سے محروم کردئیے گئے تھے۔ اپنی محدودات انہوں نے 1970کی دہائی ہی میں دریافت کرلی تھیں۔ باوقار آدمی تھے لہٰذا روایتی سیاست سے بردبار انداز میں کنارہ کش ہوگئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: