علیزے شاہ: ہم سٹائل ایوارڈز میں نوجوان اداکارہ کے کپڑوں اور فیشن پر بحث

’اگر مرد اور عورت اسی بات پر لڑتے رہیں کہ ’تم کپڑے صحیح پہنو‘۔۔۔ ’تم نظریں نیچے کرو‘ تو شاید قیامت آ جائے مگر یہ بحث کبھی ختم نہیں ہو گی۔‘ ہم سٹائل ایوارڈز میں پاکستانی اداکارہ علیزے شاہ کی تصویر پر ایک صارف کا تبصرہ اس بحث کا خلاصہ کچھ یوں پیش کرتا ہے۔

پاکستان میں ہمسایہ ملک انڈیا کی طرح ایوارڈ شوز کا زیادہ رجحان نہیں۔ مگر جب بھی کوئی ایسی تقریب ہوتی ہے تو اکثر ٹی وی اور فلموں میں دکھنے والے پسندیدہ اداکاروں اور اداکاراؤں کا فیشن بظاہر معاشرتی اقدار کی بحث میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

آسکرز پر ہالی وڈ سٹارز کے ملبوسات ہوں یا انڈیا میں فلم فیئر کے دوران سلیبرٹیز کی خصوصی تیاریاں، ریڈ کارپٹ پر جب بھی معروف فنکاروں کو بننے سنورنے کا موقع ملتا ہے تو وہ اس کا بخوبی مظاہرہ کرتے ہیں، کیونکہ تمام نظریں ان پر مرکوز ہوتی ہیں۔

حال ہی میں منعقد ہونے والے ہم سٹائل ایوارڈز کی تقریب میں پاکستانی فنکاروں کے ملبوسات پر تنقید اور تعریف جاری ہے مگر اس سب کے بیچ ایک نوجوان اداکارہ علیزے شاہ کو خاص توجہ مل رہی ہے۔

فیشن سینس پر تبصرے کہاں تک جائز؟

علیزہ

اپنے بچپن سے پاکستانی ڈراموں میں نظر آنے والی 21 سالہ علیزے نے اس ایوارڈ شو میں سیاہ رنگ کا بال روم گاؤن پہن رکھا تھا جو کسی کو ’ولگر (فحش)‘ معلوم ہوا تو کسی نے انھیں ایک ’شہزادی‘ سے تشبیہ دی۔

مگر بعض لوگوں کے لیے یہ ’فیشن سینس‘ بحث کا موضوع بن گیا۔ صحافی انیلہ خالد نے علیزے کے کپڑوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ایسی پانچ سالہ بچی لگتی ہیں جو آئس کریم مانگ رہی ہے۔‘ اس حذف شدہ ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ اداکارہ کا ’منھ گول ہے اور وہ ’چبی‘ ہیں جس کی وجہ سے یہ ڈریس اور ہیئر سٹائل انھیں جچ نہیں رہا۔‘

مہرین

اس کے جواب میں کچھ صارفین نے انیلہ کی رائے کی حمایت کی جبکہ بعض نے ان پر فیٹ شیمنگ کا الزام لگایا جس کی انھوں نے تردید کی۔

انیلہ کا موقف ہے کہ فیشن کی دنیا میں مرد و خواتین مخصوص شخصیات کے کپڑوں پر اپنی پسند ناپسند کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کے لیے یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں کیونکہ ’ان کا مقصد کسی کو ناراض کرنا نہیں تھا۔‘ اس کی تائید میں نورين شمس کا کہنا تھا کہ ’ایک دوسرے کی رائے کے احترام کا کیا۔۔۔ ان کی تنقید کو توڑ مڑور کر پیش مت کریں۔‘

عمومی طور پر دنیا بھر میں لوگ گفتگو میں شوبز کی شخصیات کے لباس پر اپنی رائے دینے کا کلچر پایا جاتا ہے مگر ٹوئٹر صارف مہرین زہرہ نے اس پوسٹ پر سوال کیا کہ ’یہ فیصلہ کون کرتا ہے کہ کیسے جسم پر کون سے کپڑے اچھے لگتے ہیں؟ اسی طرح یہ فیصلہ کون کرتا ہے کہ کس رنگ کے کپڑے کیسی شکل یا رنگت پر جچتے ہیں؟‘

صحافی عالیہ چغتائی نے بھی انیلا خالد سے کہا کہ بطور صحافی آپ اس طرح کی بات نہیں کر سکتیں۔

@ShamilaGhyas

اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے بلاگر شمیلہ غیاث کا کہنا تھا کہ ’میں کیا پہنتی ہوں یہ میری مرضی ہے۔۔۔ آپ پھر بھی ایسا نہیں کہہ سکتے کہ ہیلو آپ یہ پہننے کے لیے بہت موٹے ہو۔‘

ٹویٹ

علیزے نے انسٹاگرام پر ایک پیغام شیئر کیا ہے جس میں ان کی ایک فین کہتی ہیں کہ ’اگر آپ مجھے پسند نہیں کرتے تو یہاں سے چلے جائیں۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: