علی بابا کے بانی جیک ما کی غائب ہونے کے 4 ماہ بعد پہلی ویڈیو منظر عام پر آگئی

آن لائن ای کامرس کمپنی و اسٹور علی بابا کے بانی 56 سالہ جیک ما کی کم از کم 4 ماہ بعد پہلی مختصر ویڈیو منظر عام پر آگئی۔

علی بابا اکتوبر 2020 سے منظر عام سے غائب تھے اور سال نو کے موقع پر ان کے لاپتہ ہونے کی چہ مگوئیوں سے دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔

جیک ما اکتوبر 2020 میں اس وقت سے غائب ہیں، جب انہوں نے ایک ایونٹ میں چینی حکومت کی انٹرنیٹ سے متعلق پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔

مذکورہ تنقید سے قبل وہ ایک ٹی وی گیم شو کے ججز کے پینل میں بھی شامل تھے اور انہیں سال 2020 کے آخر تک اس ججز کے پینل میں شریک ہونا تھا مگر وہ غائب ہوگئے تھے اور انہیں مذکورہ پروگرام میں بھی نہیں دیکھا گیا تھا۔‎

اگرچہ واضح طور پر معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ جیک ما کہاں ہیں، تاہم چینی حکومت پر تنقید کے بعد ان کے پر اسرار طور پر لاپتہ ہونے پر کئی قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں۔

زیادہ تر ممالک اور افراد کے شکوک و شبہات چینی حکومت کی جانب تھے، تاہم چینی حکام اور علی بابا سے منسلک اداروں اور افراد نے اس ضمن میں کوئی بیان نہیں دیا تھا۔

تاہم چہ مگوئیوں کے بعد گزشتہ روز 4 ماہ بعد جیک ما کی پہلی مختصر ویڈیو سامنے آنے کے بعد ان سے متعلق ہونے والی قیاس آرائیوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 20 جنوری کو چینی صوبے ژجیانگ کی حکومت کے تعاون سے چلنے والی ایک ویب سائٹ پر جیک ما کی مختصر ویڈیو ریلیز کی گئی۔

جیک ما کی مختصر ویڈیو آنے کے بعد اگرچہ ان کے لاپتہ ہونے کی چہ مگوئیوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے، تاہم تاحال یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ ویڈیو سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ مذکورہ ویڈیو کب کی ہے اور اسے کہاں ریکارڈ کیا گیا؟

مختصر درانیے کی ویڈیو میں جیک ما کو ایک کمرے میں بظاہر مطمئن انداز میں دیکھا جا سکتا ہے اور انہوں نے معمول کے مطابق لباس پہن رکھا ہے۔

مختصر ویڈیو میں وہ استادوں سے مخاطب ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جس میں وہ استادوں کو کہتے سنائی دیتے ہیں کہ انہیں افسوس ہے کہ وہ گزشتہ برس کورونا کی وجہ سے ایوارڈ جیتنے والے استادوں سے نہ مل سکے۔

ویڈیو میں جیک ما کا اشارہ چین کے دیہی علاقوں کے ان استادوں کی جانب ہے، جنہوں نے ان کی مئی 2019 میں بنائی گئی تنظیم کے منصوبوں کے تحت ایوارڈز جیتے۔

جیک ما کی مختصر ویڈیو سامنے آنے کے بعد اگرچہ ان کے لاپتہ ہونے کی چہ مگوئیوں میں کمی ہوئی ہے، تاہم اس باوجود ان کی حفاظت اور تاحال عوامی منظر پر نہ آنے سے متعلق سوالا اٹھائے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ جیک ما نے 2018 میں اپنی ای کامرس کمپنی و اسٹور علی بابا کی چیئرمین شپ سے الگ ہونے کا اعلان کیا تھا اور وہ ستمبر 2019 میں وہ کمپنی سے باضابطہ طور پر الگ ہوگئے تھے۔

علی بابا نے مئی 2019 میں بطور استاد کام کرنا شروع کردیا تھا اور انہوں نے چین کے دیہی علاقوں کے اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے لیے ایوارڈز و تربیتی پروگرام کا اعلان کیا تھا۔

اگرچہ وہ اب علی بابا کے چیئرمین نہیں ہیں، تاہم انہوں نے ہی مذکورہ کمپنی کو بنایا تھا اور وہ اب بھی اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل ہیں۔

جیک ما کا شمار چین کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *