علی ظفر کے خلاف جنسی ہراسانی کا الزام: ’میشا شفیع اپنے الزامات کے حق میں شواہد نہیں پیش کر پائیں‘

نومبر 2018 میں گلوکار علی ظفر نے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ میں شکایت درج کروائی تھی جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ گلوکارہ میشا شفیع سمیت بہت سارے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان کے خلاف 'دھمکیاں اور بدنامی پر مبنی مواد' پوسٹ کر رہے ہیں۔

ان کے اس الزام کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ایف آئی اے نے چالان مکمل کر کے استغاثہ کو جمع کروا دیا جس میں کہا گیا کہ گلوکارہ میشا شفیع سمیت دیگر ملزمان اپنے الزامات کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کر پائے ہیں اور انھیں قصور وار پایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق میشا شفیع نے طلب کیے جانے پر دسمبر 2019 میں پیش ہو کر اپنا بیان دیا اور کہا کہ انھوں نے شکایت کنندہ علی ظفر کی طرف سے انھیں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے بارے میں ٹویٹ کیا تھا اور ان کی ٹویٹ حقیقت پر مبنی تھی اور انھوں نے یہ سب عوامی مفاد میں کیا۔ تاہم ایف آئی اے کے مطابق جب ان سے ان کے ان الزامات کے بارے میں کوئی گواہ پیش کرنے کو کہا گیا تو وہ ایسا کرنے میں ناکام رہیں۔

یہ معاملہ کب اور کیسے شروع ہوا؟

18 اپریل 2018 کو پاکستان کی مقبول گلوکارہ، اداکارہ اور ماڈل میشا شفیع نے اپنی ایک ٹویٹ میں گلوکار اور اداکار علی ظفر پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا۔ یہ پوسٹ اس وقت کی گئی جب دنیا بھر میں ’می ٹو‘ کی مہم اپنے عروج پر تھی جس کے تحت خواتین خود کو مبینہ طور پر جنسی ہراساں کرنے والے افراد کے خلاف آواز اٹھا رہی تھیں۔

میشا شفیع نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’میں اس وجہ سے یہ بات شیئر کر رہی ہوں کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے اپنے تجربے کے بارے میں بات کر کے میں خاموشی کی اس روایت کو توڑ سکتی ہوں جو ہمارے معاشرے کا حصہ ہے۔‘

تاہم ’اس طرح کھل کر بات کرنا آسان نہیں ہے، لیکن خاموش رہنا اور بھی زیادہ مشکل ہے۔ میرا ضمیر مجھے اب مزید اس کی اجازت نہیں دیتا۔ میری ہی صنعت میں میرے ساتھ کام کرنے والے ایک ساتھی نے مجھے ایک سے زیادہ بار جنسی طور پر ہراساں کیا ہے: علی ظفر نے۔ یہ سب تب نہیں ہوا جب میں چھوٹی تھی یا صنعت میں نئی تھی۔ یہ میرے ایک پراعتماد، کامیاب، اور چپ نہ رہنے والی عورت ہونے کے باوجود ہوا۔ یہ میرے ساتھ دو بچوں کی ماں ہونے کے باوجود ہوا۔‘

میشا کے اس الزام کے جواب میں گلوکار علی ظفر نے بھی سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ ’میں ان تمام الزامات کی تردید کرتا ہوں اور میں می ٹو نامی عالمی تحریک سے واقف بھی ہوں، اور اس کی حمایت بھی کرتا ہوں۔ میں ایک بچی اور بچے کا باپ ہوں۔ ایک بیوی کا شوہر اور ایک ماں کا بیٹا ہوں۔ تاہم میں اس معاملے کو عدالت میں لے جا کر ان الزمات سے سنجیدگی سے نمٹوں گا۔‘

علی ظفر، میشا شفیع

معاملے کے قانونی پہلو

ان الزامات کے بعد علی ظفر نے جون 2018 میں لاہور کی سیشن عدالت میں گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت آرڈیننس 2002 کے تحت دعویٰ دائر کر دیا، جس میں کہا گیا کہ میشا شفیع نے جھوٹے الزامات کے ذریعے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

اس کے بعد میشا شفيع کی جانب سے صوبائی محتسب کے پاس گلوکار علی ظفر کے خلاف شکایت درج کروائی گئی جسے محتسب کی جانب سے مسترد کر دیا گیا۔ اس کے بعد وہ درخواست گورنر پنجاب کے پاس گئی اور اسے وہاں سے بھی مسترد کر دیا گیا۔

میشا نے محتسب اور گورنر کی جانب سے اپنی شکایت کو مسترد کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ میں کام کرنے کی جگہ پر ہراساں کرنے کے خلاف پنجاب پروٹیکشن برائے خواتین ایکٹ 2012 کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کے بعد اکتوبر 2019 میں ان کی اپیل کو وہاں سے اس بنیاد پر خارج کر دیا گیا کہ میشا شفیع اور کمپنی کے مابین معاہدہ خدمات کی فراہمی کے لیے کیا گیا تھا اور اس کی ایک شق کے مطابق فریقین کے درمیان تعلقات کو ملازمت تصور نہیں کیا جائے گا۔

اس سب کے بعد میشا شفيع کی جانب سے بھی عدالت کا دوبارہ رخ کیا گیا اور انھوں نے بھی گلوکار علی ظفر کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کر دیا، جس پر علی ظفر نے عدالت سے مقدمے کی سماعت روکنے کی درخواست کی۔

ان کی اس درخواست پر عدالت نے فروری 2020 میں کیس کی سماعت روکنے کی استدعا منظور کرتے ہوئے احکامات جاری کیے اور کہا کہ علی ظفر اور میشا شفیع دونوں کے الزامات اور مقدمات کی نوعیت ایک جیسی ہے اور گلوکار علی ظفر کا دعویٰ پہلے ہی زیر سماعت ہے اور گواہان کی شہادتوں کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔

علی ظفر، میشا شفیع
،تصویر کا کیپشنمیشا شفیع کی وہ ٹویٹ جس میں انھوں نے اپنے خلاف مبینہ جنسی ہراسانی کے واقعے کا ذکر کیا

علی ظفر کی جانب سے ایف آئی اے میں دی گئی درخواست

عدالتی کارروائی کے علاوہ نومبر 2018 میں گلوکار علی ظفر نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں بھی شکایت درج کروائی تھی جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ بہت سارے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان کے خلاف ’دھمکیاں اور بدنامی پر مبنی مواد‘ پوسٹ کر رہے ہیں۔

انھوں نے اپنے اس دعوے کے ساتھ ثبوت کے طور پر کچھ ٹوئٹر اور فیس بک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی فراہم کی تھیں۔ اس شکایت میں علی ظفر نے الزام لگایا تھا کہ اپریل 2018 میں ان کے خلاف میشا شفیع اور کچھ دیگر لوگوں کی جانب سے جنسی ہراس کے الزام سے کئی ہفتے قبل ہی کئی کچھ اکاؤنٹس نے ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم کا آغاز کر دیا تھا۔

ایف آئی اے کی جانب سے دو سال اس حوالے سے تحقیقات جاری رہیں اور آج ایف آئی اے نے چالان مکمل کرکے پراسکیوشن کو جمع کروا دیا گیا۔

ایف آئی اے کی تحقیقات

ایف آئی اے کی جانب سے جمع کروائے گئے چالان میں علی ظفر کی شکایت کا حوالہ دے کر کہا گیا ہے کہ میشا شفیع اور دیگر آٹھ لوگوں جن پر الزام لگایا گیا ان کے بارے میں تحقیقات کی گئیں اور دوران تفتیش شکایت کنندہ کی جانب سے فراہم کے گئے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی اور علی ظفر کے خلاف پوسٹ کیے جانے والے مواد کی تصدیق ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق میشا شفیع کی طرف سے ٹوئٹر پر شائع ہونے والے مواد اور جھوٹے الزامات کی تحقیقات کے لیے انھیں دسمبر 2019 کو طلب کیا گیا تھا۔ وہ پیش ہوئیں اور اپنا بیان پیش کیا، جس میں انھوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ انھوں نے شکایت کنندہ علی ظفر کی طرف سے انھیں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے بارے میں ٹویٹ کیا تھا اور ان کی ٹویٹ حقیقت پر مبنی تھی اور انھوں نے یہ سب عوامی مفاد میں کیا۔

تاہم ایف آئی اے کے مطابق جب ان سے ان کے ان الزامات کے بارے میں کوئی گواہ پیش کرنے کو کہا گیا تو وہ ایسا کرنے میں ناکام رہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ لینا غنی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کا استعمال کرتے ہوئے اپریل 2018 میں ایک ٹویٹ پوسٹ کی جس میں انھوں نے علی ظفر پر الزامات عائد کیے۔ انھیں بھی طلب کیا گیا لیکن وہ پیش نہیں ہوئیں بلکہ اپنا تحریری بیان جمع کروا دیا۔ فریحہ ایوب کو چار مرتبہ ایف آئی اے کی جانب سے طلب کیا گیا لیکن وہ دفتر نہیں آئیں اور تحریری جواب ارسال کیے۔ صحافی ماہم جاوید کو بھی طلب کیا گیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئیں اور نہ ہی کوئی تحریری بیان پیش کیا۔

علی ظفر، میشا شفیع
،تصویر کا کیپشنعلی ظفر کی وہ ٹویٹ جس میں انھوں نے خود پر لگنے والے الزامات کو مسترد کیا

اس کے علاوہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عفت عمر نے بھی شکایت کنندہ کے خلاف ’ہتک آمیز مواد‘ شائع کیا، انھیں متعدد بار طلب کیا گیا اور پیش بھی ہوئیں لیکن وہ اس کے باوجود اپنا بیان ریکارڈ کرنے میں ناکام رہیں۔ علی گل پیر کو تحقیقات کے لیے بلایا گیا لیکن وہ نہ پیش ہوئے اور نہ ہی بیان ریکارڈ کروایا۔

ایف آئی اے کا مؤقف ہے کہ اس معاملے پر تحقیقات کی گئیں اور ملزمان کو اپنی صفائی میں ثبوت پیش کرنے کا موقع دینے کے باوجود بھی مبینہ طور پر ہتکِ عزت میں ملوث افراد میشا شفیع، لینا غنی، فریحہ ایوب، عفت عمر، ماہم جاوید، علی گل پیر، حسیم الزمان، ہمنیٰ رضا اور سید فیضان رضا ناکام رہے اور انھوں نے علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر براہ راست الزامات عائد کیے ہیں۔

تاہم ملزمہ خاتون ہمنیٰ رضا نے اپنے عمل پر معافی مانگی ہے جسے قبول کر کے ان کا نام اس مقدمے سے خارج کر دیا گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.

error: