Site icon Dunya Pakistan

عمران حکومت کے لیے ’’ایک پیج‘‘ کی کرامت

قومی اسمبلی اور سینٹ میں اپوزیشن کے لئے مختص نشستوں پر بیٹھے اراکین پارلیمان کی کارکردگی کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیتا ہوں تو حیران ہوجاتا ہوں۔1985ء سے پارلیمانی کارروائی کی بابت انگریزی اخبارات کے لئے کالم لکھ رہا ہوں۔میں نے آج تک ایسی بے بس ولاچار اپوزیشن نہیں دیکھی ۔اس کے باوجود وزیر اعظم صاحب عام پاکستانیوں کی جانب سے میڈیا پر ’’براہِ راست‘‘ اٹھائے سوالات کا جواب دیتے ہوئے چراغ پا ہوجاتے ہیں۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے منصب پر فائز شہباز شریف کو ’’مجرم‘‘ قرار دیتے ہیں۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے تصدیق شدہ ’’صادق وامین‘‘ ہوتے ہوئے وہ موصوف سے کسی بھی نوع کی مشاورت کو آمادہ نہیں۔ان کا نیک دل ’’گھٹیا‘‘ لوگوں کے طعنوں سے بھی اُکتاگیا ہے۔اپوزیشن کی کامل بے بسی سے مگر طیش کے عالم میں لطف اندوز ہونے کو تیار نظر نہیں آرہے۔ان کا غضب دیکھتا ہوں تو وہ فلمی گانا یاد آجاتا ہے جو ’’روٹھے ہو تم-تم کو کیسے منائوں پیا‘‘ والی بے کلی کا اظہار کرتا ہے

پارلیمان میں عمران خان صاحب کی تحریک انصاف کو اپنے تئیں اکثریت میسر نہیں۔ان کی حکومت ’’اتحادیوں‘‘ کے تعاون سے برقرار ہے۔اتحادیوں کی بیساکھیوں پر کھڑی حکومتیں ہمارے ملک میں ہمیشہ مشکلات میں گھری رہیں۔ مثال کے طورپر محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت پاکستان کے آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں حامد ناصر چٹھہ کے مستعاردئیے میاں منظور وٹو کے ناز نخرے اٹھاتی رہی۔ ایم کیو ایم نے محترمہ اور نواز شریف کی دونوں حکومتوں کو 1990ء کی دہائی میں چین سے رہنے نہیں دیا۔اگست 2018ء سے آج تک عمران حکومت کو ویسی دشواریوں سے کبھی نبردآزما ہونا نہیں پڑا۔ قانون سازی میں رکاوٹوں کا سامنا ہو تو فون کھڑک جاتے ہیں اور پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے ایک ہی دن میں 33قوانین منظور ہوجاتے ہیں۔حال ہی میں قومی اسمبلی سے ایک ہی نشست کے دوران منی بجٹ کے علاوہ 15دیگر قوانین بھی منظور کروالئے گئے۔ایسی آسانیوں کے ہوتے ہوئے بھی عمران خان صاحب مگر یہ دھمکی دینے کو مجبور ہوئے کہ اگرانہیں پانچ سالہ آئینی مدت پوری نہ کرنے دی گئی تو وہ ’’خطرناک‘‘ ہوجائیں گے۔

’’خطرناک‘‘ بن جانے کی تڑی لگانے کے بجائے عمران صاحب کو سنجیدگی سے یہ سوچنا چاہیے کہ سینٹ سے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی کامل خودمختاری کو یقینی بنانے والا قانون کیسے پاس کروانا ہے۔قومی اسمبلی مذکورہ قانون کو منظور کرچکی ہے جس کا تقاضہ آئی ایم ایف کی جانب سے ہوا تھا۔ہم تعمیل کو مجبور ہوئے کیونکہ عالمی معیشت کے نگہبان ادارے سے ہمیں ایک ارب ڈالر کی قسط درکار ہے۔مطلوبہ رقم کے اجراء سے قبل آئی ایم ایف نے یہ تقاضہ بھی کیا کہ جون 2021ء میں تیار ہوئے سالانہ بجٹ کی نظرثانی ہو۔ اس کے ذریعے میرے اور آپ جیسے عام لوگوں سے 377ارب روپے کے اضافی محصولات جمع کئے جائیں۔اس کے علاوہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی کامل خودمختاری یقینی بنانے کے لئے بھی مؤثر قانون تیار کرکے اسے لاگو کیا جائے۔

آئی ایم ایف کو ہماری حکومت نے تاثر دیاتھا کہ وہ رواں برس کی 12جنوری تک مطلوبہ شرائط پوری کردے گی۔بجٹ منظور کروانے میں تاہم تھوڑی دیر لگ گئی۔ اس کی وجہ سے فیصلہ ہوا کہ پاکستان کو ایک ارب ڈالر کے اجراء کی منظوری دینے کے لئے آئی ایم ایف کے بورڈ آف گورنر کا اجلاس 12جنوری کے بجائے 28جنوری کو منعقد ہو۔ بعدازاں اسے بھی 31جنوری تک مؤخر کردیا گیا۔یہ کالم لکھنے سے قبل میں نے اخبارات پر سرسری نگاہ ڈالی تو خبر ملی کہ مذکورہ اجلاس 31جنوری کے دن ہی ہوگا۔ بعدازاں مگر ایک مہربان دوست سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی۔ان کا دعویٰ تھا کہ جس اجلاس کا انتظار ہورہا ہے وہ اب 31جنوری کے بجائے فروری کی 2تا ریخ کو بلایا جائے گا۔

کالم لکھنے کی جلدی میں مزید تحقیق کی ضرورت محسوس نہیں کی۔اپنی سہولت کے لئے ازخود جواز ڈھونڈ لیا کہ چونکہ ایوان بالا یعنی سینٹ نے ابھی تک سٹیٹ بینک کو خودمختاری دینے والے قانون کی منظوری نہیں دی ہے اس لئے حکومت پاکستان کو 31جنوری کے دن منعقد ہونے والے اجلاس کو2فروری تک مؤخر کرنے کی درخواست کردی ہوگی۔ جو اجلاس 31جنوری یا 2فروری کے دن ہونا ہے اس کے ایجنڈے میں لیکن نظر بظاہر پاکستان کی جانب سے اس درخواست پر غور ہوگا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی خودمختاری کو یقینی بنانے والے قانون کی منظوری میں جو تاخیرہورہی ہے اسے نظرانداز کرتے ہوئے پاکستان کے لئے ایک ارب ڈالر کی ’’امدادی رقم‘‘ کے اجراء کی منظوری فراہم کردی جائے۔

اگر میرا قیافہ درست ہے تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ آئی ایم ایف ہماری یہ درخواست منظور کرے گا یا نہیں۔ وہ یہ تقاضہ بھی تو کرسکتا ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی خودمختاری کو یقینی بنانے والے قانون کی سینٹ آف پاکستان سے بھی منظوری کے بعد ہی مطلوبہ رقم کے حصول کے لئے آئی ایم ایف سے رابطہ کیا جائے۔اگر ایسا ہوا تو ایک ارب ڈالر کے اجراء کے ضمن میں نظر آتا تعطل پاکستان کی اقتصادی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا۔ ہمیں کھلے بازار میں کمرشل بینکوں سے قرض لینے کے لئے بھاری بھر کم شرح سود ادا کرنا ہوگی۔

ممکنہ مشکلات کو نظر میں رکھتے ہوئے عمران حکومت کو سٹیٹ بینک کی خودمختاری یقینی بنانے والے قانون کی سینٹ سے جلد از جلد منظوری پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے تھی۔قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ قانون ایوان بالا کو بھیج دیا گیا تھا۔اسے سینٹ میں لیکن باقاعدہ انداز میں اب تک پیش نہیں کیا گیا۔ پارلیمانی ضوابط کے مطابق قومی اسمبلی سے جب کوئی قانون منظور ہوجائے تو اسے سینٹ کے اجلاس میں پہلے باقاعدہ پیش کیا جاتا ہے۔اس کے بعد چیئرمین سینٹ مذکورہ قانون کو جانچ پڑتال کے لئے سینٹ کی متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیتا ہے۔ایوان بالا میں پیش ہونے کے بعد سٹیٹ بینک آف پاکستان کے بارے میں قومی اسمبلی سے منظور ہوا قانون غوروغوض کے لئے سینٹ کی فنانس کمیٹی کے روبرو رکھا جائے گا۔وہاں سے منظوری کے بعد ہی وہ ایوان میں حتمی منظوری کے لئے پیش کیا جاسکتا ہے۔یہ کالم لکھنے تک البتہ اس تناظر میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

جمعرات کے دن اگرچہ سینٹ کی فنانس کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔اس کے ایجنڈے پر لیکن سٹیٹ بینک کی خودمختاری والا قانون رکھا نہیں جاسکتا۔فنانس کمیٹی کو جمعرات کے دن مذکورہ قانون پر غور کو مجبور کرنے کے لئے چیئرمین صادق سنجرانی کو خصوصی اختیارات بروئے کار لاناہوں گے۔وہ یہ اختیار بروئے کار لے بھی آئیں تو قومی اسمبلی سے منظور ہوئے قانون کو بالآخر سینٹ میں حتمی رائے شماری کے لئے پیش کرنا لازمی ہوگا۔

واضح حقیقت یہ بھی ہے کہ سینٹ میں اپوزیشن جماعتوں کو حکومت کے مقابلے میں تین سے چار ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔اس برتری کو ذہانت سے بروئے کار لاتے ہوئے اپوزیشن قومی اسمبلی سے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو خودمختاری دینے والے قانون کو مسترد بھی کرسکتی ہے۔سوال اٹھتا ہے کہ اپوزیشن اس جانب آمادہ ہوگی یا نہیں۔ وہ اس ضمن میں اگر بھرپور دلچسپی دکھاتی نظر نہ آئے تو میرے لکھنے کے بجائے خدارا خود ہی فرض کرلیجئے گا کہ عمران حکومت ابھی تک ’’ایک پیج‘‘ کی کرامت سے فیض یاب ہورہی ہے۔

Exit mobile version