عمران خان: ’الیکشن کمیشن ملک کی ایجنسیوں سے خفیہ بریفنگ لے تاکہ پتا چلے کہ کتنا پیسہ چلا‘

پاکستان کی قومی اسمبلی میں سنیچر کے روز وزیراعظم عمران خان نے 178 اراکین کی حمایت حاصل کر کے پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ہے۔

متعدد اراکین نے اپنی تقاریر میں وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے پر مبارکباد دی۔

اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کا قومی اسمبلی میں خطاب

وزیر اعظم عمران خان نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اراکین اسمبلی اور اتحادیوں کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ آپ سب کو دل سے تکلیف تھی جس طرح ہم سینیٹ میں حفیظ شیخ کی نشست ہارے ہیں۔ ان کے مطابق یہ سب دیکھ کر انھیں اچھا لگا۔

عمران خان کے مطابق اس وقت یہ ایک آزمائش ہے جس کا مقصد دیکھنا ہے کہ آپ اس سے کیسے نکلتے ہیں۔ ان کے مطابق پارٹی تب تگڑی ہوتی ہے جب اس پر آزمائش ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ میں اپنی پارٹی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ وہ اس مشکل وقت سے نکلے ہیں۔ ان کے مطابق کئی اراکین بڑی مشکل سے یہاں پہنچے ہیں اور کئی ایسے بھی ہیں جن کی طبیعیت بھی ٹھیک نہیں تھی۔

وزیر اعظم عمران نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب قوم اپنے نظرے سے ہٹتی ہے تو پھر وہ مر جاتی ہے۔

اعتماد کا ووٹ

’الیکشن کمیشن کے جواب پر صدمہ ہوا‘

وزیر اعظم عمران نے کہا کہ ’یہ جو سینیٹ کے الیکشن ہوئے ہیں،،، مجھے شرم آتی ہے سپیکر صاحب،، بکرا منڈی بنی ہوئی ہے،، ہمیں ایک مہینے سے پتا تھا،، الیکشن کمیشن نے کہا ہم نے بڑا اچھا الیکشن کرایا ہے،،، اس سے مجھے اور صدمہ ہوا،، اگر یہ الیکشن آپ نے اچھا کرایا ہے تو پھر پتا نہیں کہ برا الیکشن کیسا ہوتا ہے۔‘

عمران خان نے اپنی تقریر میں الیکشن کمیشن کے علاوہ، اپوزیشن رہنماؤں اور نو منتخب سینیٹر یوسف رضا گیلانی کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’وہ آصف زرداری جو دنیا بھر میں کرپٹ ثابت ہو چکا ہے۔ دنیا میں مسٹر ٹین پرسنٹ پر فلمیں بنی ہوئی ہیں، اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ ایک زرداری سب پر بھاری۔۔ دوسری طرف نواز شریف جو ملک لوٹ کر اور جھوٹ بول کر باہر بھاگا ہوا ہے۔ آج وہاں تقریریں کر رہا ہے اور سکیمیں بنا رہا ہے کہ اس کو اتنا پیسہ دو ادھر اتنا پیسہ چلاؤ۔

یہ سب ڈاکو اکٹھا ہو کر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جس طرح پرویز مشرف نے ڈر کر این آر او دیا تھا۔ انھوں نے اتنا بڑا جرم کیا کہ اس این آر او کے بعد دونوں نے اقتدار میں آ کر دونوں ہاتھوں سے ملک لوٹا۔ ملک پر قرضوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔‘

عمران خان نے کہا کہ وہ یوسف رضا گیلانی جس نے ملک سے باہر ملک کا 60 ملین ڈالر لانے کے لے خط لکھنے سے انکار کر دیا تھا۔ اور وہ اب وہ ایسے پھر رہا ہے جیسے نیلسن مینڈیلا ڈس کوالیفائی ہو گیا ہو۔

عمران خان نے ایک بار پھر الزام دہرایا کہ فیٹف کی قانون سازی کے دوران حــزب اختلاف نے نیب میں 34 ترامیم لے آئے تاکہ ان کی چوری کے کیسز ختم ہو جائیں۔

ان کا ایک نکاتی ایجنڈا ہے۔

ان کے مطابق ’ان (اپوزیشن) کا صرف ایک خوف ہے کہ یہ این آر او نہیں دے گا، اب یہ فیٹف میں پھنس گیا ہے، اب اس سے این آر او لے لو۔ ان کو نہیں پتا تھا کہ ملک بلیک لسٹ میں چلا جائے گا۔ ان کا ایک شہزادہ اور شہزادی آ گئی۔ انھوں نے اخباروں میں تصاویر لگا کر مینار پاکستان جلسہ کیا تو لوگ نہیں نکلے۔ ان کے مطابق لاہور والے لوٹنے والوں کے لیے نہیں نکلتے۔‘

عمران خان نے کہا کہ ان دونوں پارٹیوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی میں کہہ دیا تھا کہ اوپن بیلٹنگ کرائیں گے۔

’دنیا کا کرپٹ ترین آدمی سینیٹر منتخب ہوا ہے، جس کی بے تحاشا دولت ہے۔ انھوں نے یوسف رضا گیلانی کو سینیٹر بنا دیا۔ انھوں نے حفیظ شیخ کو ہرا دیا۔‘

عمران خان نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے رات کو ہمارے ارکان کو کالز کیں کہ دو کروڑ سے ریٹ شروع ہو گا۔ ان کے مطابق شفاف الیکشن بھی الیکشن کمیشن کا کام ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ’میں الیکشن کمیشن سے کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی ایجنسیز سے ایک سیکرٹ بریفنگ لیں تا کہ آپ کو پتا چلے کہ کتنا پیسہ چلا۔ وزیر اعظم نے کہا آخری گیند تک لڑنے والا ہوں اور اگر پوری پارٹی بھی میرا ساتھ چھوڑ گئی تو اکیلا لڑونگا۔‘

خیال رہے کہ سینیٹ انتخاب کے ایک دن بعد وزیر اعظم عمران خان نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے ساتھ ملاقات بھی کی تھی۔

عمران خان نے کہا کہ ’میں الیکشن کمیشن سے کہنا چاہتا ہوں جو میرے تبصرے سے ناراض ہوئے ہیں کہ ہم نے الیکٹورل ریفارمز کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم ٹیکنالوجی لے کر آ رہے ہیں۔ ہم الیکٹرونک مشین لے کر آ رہے ہیں، ہم ایسے الیکشن چاہتے ہیں تا کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ ہم یہ سسٹم اس وجہ سے لے کر آ رہے ہیں تا کہ ہمیشہ سے یہ بات ختم ہو جائے کہ دھاندلی ہوئی ہے۔‘

’یہ نظام ہم اسی طرح لے کر آئیں گے جس طرح دنیا میں میں نیوٹرل امپائرز لے کر آیا ہوں۔‘

مولانا فضل الرحمان

اعتماد کے ووٹ کی کارروائی پر سیاسی رد عمل

نو منتخب سینیٹر یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ایک بات واضح ہے کہ صدر پاکستان اس بات سے متفق ہیں کہ وزیر اعظم اعتماد کھو چکے ہیں۔

انھوں نے سینیٹ انتخاب جیتنے پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا شکریہ ادا کیا۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ آج حکومت نے غنڈہ گردی کی ہے۔ ان کے مطابق یہ اپوزیشن میں بھی یہ کرتے تھے اور اب اقتدار میں بھی یہی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق انھوں نے اعتماد کا ووٹ تو لے لیا ہے مگر اب یہ جانے والے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جس طرح مریم اورنگزیب پر حملہ کیا ہے اس کا انھیں بڑا ملال ہے۔ انھوں نے احسن اقبال پر جوتا پھینکنے کی بھی مذمت کی۔

مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ آپ سے جلد یہ سکیورٹی واپس لے لی جائے گی اور پھر 22 کروڑ عوام آپ کو جوتے مارنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے کارکنان نے بھی جوتے پہنے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق غنڈہ گردی کا مقابلہ اخلاقیات سے نہیں کیا جاتا، آج جو ہوا اسے مسلم لیگ ن بھولے گی نہیں۔

ان کے مطابق جنھوں نے عمران خان کو بچایا انھیں اب اپنے ادارے کو جواب دینا ہو گا کہ انھوں نے کیوں ایک ووٹ چور کو بچایا۔

ان کے مطابق عمران خان الیکشن کمیشن کی طرف سے پہلا سرٹیفائیڈ ووٹ چور ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ جس طرح ایجنسیوں نے کیا وہ سب کچھ کھل کر سامنے آ جائے گا۔ ان کے مطابق وہ دن گئے جب آپ ظلم بھی کرتے تھے اور بات سامنے بھی نہیں آتی تھی۔

ان کے مطابق پاکستانی ٹرمپ نے آج جانے سے قبل حملہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اب جو تھوڑے سے دن مل گئے ہیں، اچھے سے بیٹنگ کرنا۔

ان کے مطابق یوسف رضا گیلانی ایک سیٹ کیا جیتے ہیں کہ ان کا دماغی توازن خراب ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق اب ان کا جانا ٹھہر گیا ہے۔ حکومت کی سیاسی موت واقع ہو چکی ہے، اب تجہیز و تکفین باقی ہے، جسے پی ڈی ایم اور پاکستان کی عوام انجام دے گی تاکہ لاش بھی باہر نہ نکالی جا سکے۔

عمران خان کٹھ پتلی ہے: بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زردای نے کہا ہے کہ سیاست ایک آرٹ ہے۔ ان کے مطابق یہی سینیٹ کے انتخاب میں ہوا کہ ایک ناممکن کو ممکن بنا دیا گیا۔

انھوں نے عمران خان کو کٹھ پتلی حکمران قرار دیا۔ ان کے مطابق اب یہ سفر جمہوریت کی طرف مطلق العنانیت کی طرف جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ہم نے پی ڈی ایم کی تحریک سے یہ ثابت کیا کہ یہ نظام کتنا کمزور ہے۔

پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایک بار عدم اعتماد حاصل کرنے کے بعد پھر اعتماد کا ووٹ لیا ہے۔ ان کے مطابق ہم آج نہ اس اجلاس کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ اس کے اندر اعتماد کے ووٹ کو تسلیم کرتے ہیں۔

ان کے مطابق یہ صدر کا اختیار ہے کہ وہ اعتماد کے ووٹ کے خود سے اجلاس بلائے۔ ان کے مطابق یہ اجلاس وزیر اعظم کی سمری پر طلب کر کے ایک ڈھونگ رچایا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایجنسیوں نے رات کو ایک ایک ممبر کو اٹھا کر اسمبلی میں لے جایا گیا۔ ہم جانتے ہیں کہ کس طرح ممبران کی حاضری کو یقینی بنایا گیا ہے اور کس طریقے سے ان سے ووٹ لیا گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خان نے آج وہی پرانی باتیں دہرائیں کہ سب چور ہیں، کرپٹ ہیں۔

ان کے مطابق وزیر اعظم نے اقتدار سے قبل جو وعدے کیے وہ جھانسے ثابت ہوئے۔ ان کے مطابق اب یہ قوم مزید دھوکے کھانے والی نہیں ہے۔

انھوں نے نئے انتخابات کا مطالبہ بھی دہرایا۔

ان کے مطابق یہ اجلاس جبری طور پر بلایا گیا ہے۔ اس وجہ سے اس اجلاس کو ہم مسترد کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ 2018 میں بھی عمران خان نے جعلی ووٹ لیا اور آج بھی جعلی ووٹ حاصل کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر رد عمل

کرکٹر محمد حفیظ کو پی ایس ایل ملتوی ہونے کے بعد کچھ دیگر امور پر بھی نطر رکھنے کا موقع مل رہا ہے۔ انھوں نے آج کی کامیابی کو عمران خان کا ماسٹر سٹروک کہہ ڈالا۔

کچھ صارفین نے تو اسمبلی اجلاس کے دوران عمران خان کی مسکراہٹ کو ہی انتہائی قیمتی قرار دیا۔ جہاں عمران خان پر تنقیدی ٹویٹ کیے جا رہے ہیں وہیں ان کے حامی انھیں ٹوئٹر پر اعتماد کا ووٹ بھی دینے کا اعلان کر رہے ہیں۔

عمران خان کے بھانجے حسان نیازی نے صاف صاف لکھا کہ عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کو واضح پیغام دے دیا ہے اور اب مریم نواز کے ملک سے باہر جانے کے رستے بھی بند ہو گئے ہیں۔

مسلم لیگ نواز کے رہنما احسن اقبال نے اس کے ردعمل میں ٹویٹ کیا کہ 'پوری قوم نے دیکھا کہ سرکاری ممبران نام نہاد اعتماد کے ووٹ کے سیشن میں یوں بیٹھے تھے جیسے کسی ماتم پہ بیٹھے ہوئے ہوں۔'

آج کی قومی اسمبلی کی کارروائی کا احوال

اس کارروائی کے دوران اسمبلی حال میں حزب اختلاف کا کوئی رکن موجود نہیں ہے کیونکہ حزب اختلاف نے اعتماد کے ووٹ کی اس کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اجلاس کے آغاز میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اعتماد کے ووٹ کی کارروائی سے متعلق قرارداد پیش کی تھی۔

قومی اسمبلی سیکرٹیریٹ سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق صدر ڈاکٹر عارف علوی نے یہ اجلاس آئین کے آرٹیکل 91 کی ذیلی شق سات کے تحت طلب کر کے وزیراعظم کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کو کہا۔

خیال رہے کہ پاکستان کے آئین کے مطابق صدر اس شق کے تحت صرف اسی صورت میں وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کو کہہ سکتا ہے جب اسے یقین ہو کہ وزیراعظم کو قومی اسمبلی کے اراکین کا اعتماد کھو چکے ہیں۔

آئینی اور سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ صدر اپنی جماعت سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بارے میں کہہ رہا ہے۔

تاہم حزب اختلاف نے اس اعتماد کے ووٹ کی کارروائی پر متعدد قانونی سوالات اٹھائے ہیں اور اس کارروائی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔

عمران خان

مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق آج صبح وفاقی کابینہ کے اراکین اور پی ٹی آئی کے اتحادیوں کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں حکومت کے اتحادیوں نے عمران خان کو اعتماد کا ووٹ دینے کی یقین دہانی کرائی۔

اجلاس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ہنگامہ آرائی

https://bbc.com/ws/av-embeds/cps/urdu/pakistan-56289289/p098wysb/ur،ویڈیو کیپشن

وزیر اعظم عمران خان پر اعتماد کے ووٹ سے قبل پارلیمنٹ کے باہر ہنگامہ آرائی

اجلاس شروع ہونے سے پہلے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے پارلیمنٹ کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ سوال پوچھا کہ صدر پاکستان نے کس پلیٹ فارم پر وزیر اعظم کو بتایا ہے کہ اب آپ کے پاس اکثریت نہیں رہی اور اب وہ اعتماد کا ووٹ لے۔

جب سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب، احسن اقبال اور دیگر پارٹی رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کے بعد واپس لوٹے تو وہیں بڑی تعداد میں تحریک انصاف کے کارکنان بھی موجود تھے، جس کے بعد وہاں دونوں جانب سے دھکم پیل دیکھنے میں آئی۔

سکیورٹی اہلکاروں نے صورتحال پر قابو پا لیا تو اس کے بعد ایک بار پھر لیگی رہنماؤں نے میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف کے حامیوں نے ان پر حملہ کیا اور گالم گلوچ کی۔

حزب اختلاف کی جانب سے قومی اسمبلی کی اس کارروائی کا بائیکاٹ کا فیصلہ جمعے کی شام پی ڈی ایم کے رہنماؤں کے اہم اجلاس میں کیا تھا، جس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ وزیرِ اعظم عمران خان پر عدم اعتماد سینیٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کی صورت میں ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کا کوئی رکن اس اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا اور یہ کہ اپوزیشن کے بائیکاٹ کے بعد اس اجلاس کی کوئی سیاسی حیثیت باقی نہیں رہ گئی۔

مولانا فضل الرحمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیا عمران خان سنیچر کو انھی ارکان سے اعتماد کا ووٹ لینا چاہتے ہیں جو ان کے بقول بک گئے تھے۔

EPA
،تصویر کا کیپشنبلاول بھٹو زرداری کہہ چکے ہیں کہ اپوزیشن اپنی مرضی کے وقت اور جگہ پر تحریکِ عدم اعتماد لائے گی

عمران خان کو اعتماد کے ووٹ کی ضرورت کیوں پڑی؟

وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ سینیٹ کے انتخابات کے دوران وفاقی دارالحکومت کی نشست پر حکومت کی غیرمتوقع شکست کے بعد کیا۔

سینیٹ کے لیے اس نشست کے انتخاب میں قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد کی عددی اکثریت کے باوجود متحدہ اپوزیشن کے امیدوار یوسف رضا گیلانی نے حکومتی امیدوار عبدالحفیظ شیخ کوپانچ ووٹوں سے شکست دی تھی۔

اس شکست کے بعد جہاں اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان سے مستعفی ہو کر نئے انتخابات کروانے کا مطالبہ سامنے آیا تھا وہیں عمران خان نے کہا تھا کہ وہ خود ایوان سے اعتماد کا ووٹ لے کر یہ ثابت کر دیں گے انھیں اب بھی قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے۔

انھوں نے جمعرات کی شام قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ اکثریت کا خاتمہ عدم اعتماد نہیں ہوتا اور اپوزیشن کا مقصد یہ تھا کہ سینیٹ انتخابات کے نتائج کو استعمال کرتے ہوئے اُن کی حکومت پر ’عدم اعتماد کی تلوار لٹکا دیں‘ لیکن وہ خود ہی اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

انھوں نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا تھا کہ ارکان اسمبلی اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیں اور اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ انھیں اپنے وزیراعظم پر اعتماد نہیں رہا اور وہ انھیں اہل نہیں سمجھتے تو وہ حکومت چھوڑ کر اپوزیشن میں چلے جائیں گے۔

عمران خان سنہ 2018 کے عام انتخابات میں اپنی جماعت تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد پارلیمنٹ سے 176 اراکین کا اعتماد حاصل کر کے وزیراعظم بنے تھے۔

وزیر اعظم عمران خان
،تصویر کا کیپشنعمران خان نے کہا تھا کہ وہ خود ایوان سے اعتماد کا ووٹ لے کر یہ ثابت کر دیں گے انھیں اب بھی قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے

آئین کے آرٹیکل 63 اے (ون) (بی) کی موجودگی میں اعتماد کا ووٹ لینے میں وزیراعظم عمران خان کو کوئی مشکل درپیش نہیں آئی کیونکہ سینیٹ الیکشن میں پارٹی کے ہدایت کے خلاف ووٹ دینے والے ارکان اگر اعتماد کے ووٹ کے موقع پر ایسا کرتے ہیں یا ووٹ دینے سے اجتناب برتتے ہیں تو وہ اسمبلی کی رکنیت سے نا اہل ہو سکتے ہیں۔

اعتماد کا ووٹ کیا ہے اور اسے حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

پارلیمنٹ میں اعتماد کے ووٹ کے ذریعے اراکین ایک منتخب قانون ساز رکن کو وزیراعظم بنانے یا برقرار رکھنے پر اپنا اعتماد ظاہر کرتے ہیں۔ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد ہی ایک شخص وزیر اعظم کا حلف اٹھاتا ہے۔

وزیراعظم کی پانچ سالہ مدت کے دوران اسے تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا بھی جا سکتا ہے۔ پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا طریقہ کچھ یوں ہے:

  • پارلیمان کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے تمام اراکین کی موجودگی کو یقینی بنانے کے لئے ایوان میں پانچ منٹ تک گھنٹی بجائی جاتی ہے۔
  • اس کے بعد لابی کی طرف جانے والے تمام دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ کسی کو اندر سے باہر جانے اور باہر سے اندر آنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
  • اس کے بعد سپیکر اسمبلی کے سامنے وزیراعظم پر اعتماد سے متعلق قرارداد پڑھتا ہے اور اراکین کو، جو قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالنا چاہتا ہیں، ایک قطار میں داخلی راستے کی جانب جانے کا کہتا ہے، جہاں ہر ممبر کا ووٹ ریکارڈ کرنے کے لئے ’ٹیلرز‘ یعنی اسمبلی اہلکار موجود ہوتے ہیں۔
  • ہر ممبر ’ٹیلر‘ کی میز پر پہنچنے پر قواعد کے تحت الاٹ کردہ ’ڈویژن نمبر‘ پکارے گا۔
  • ’ٹیلر‘ ممبر کا نام پکارتے ہوئے ڈویژن لسٹ سے اس کا نام کاٹ دے گا۔ وہاں سے آگے بڑھنے سے پہلے ممبر کو رُک کر واضح طور پر اپنا نام سننا ہو گا تاکہ اس کے ووٹ کو صحیح طرح سے ریکارڈ کیا جا سکے۔
  • اپنے ووٹ کے اندراج کے بعد ممبر پارلیمان کو لازمی طور پر چیمبر چھوڑنا ہو گا اور ان کی واپسی اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک کہ ایک بار پھر گھنٹیاں نہ بجیں۔
  • جب سپیکر کو یہ معلوم ہو جائے گا وہ تمام اراکین جو وزیر اعظم کو ووٹ ڈالنا چاہتے ہیں، نے اپنے ووٹ درج کروا دیے ہیں، تو وہ اعلان کرے گا کہ ووٹنگ ختم ہو گئی ہے۔
  • اس کے بعد سیکرٹری ڈویژن کی فہرستوں کو جمع کرے گا، درج ووٹوں کی گنتی کرے گا اور اس کا نتیجہ سپیکر کے سامنے پیش کرے گا۔
  • اس کے بعد پھر سے دو منٹ تک گھنٹی بجے گی تاکہ قانون سازوں کو چیمبر واپس بلا لیا جائے۔ ان کی واپسی پر سپیکر نتائج کا اعلان کرے گا۔
  • سپیکر صدر کو قرارداد منظور یا مسترد ہونے سے متعلق نتائج کے بارے میں تحریری طور پر آگاہ کرے گا۔ سیکرٹری کے لیے ضروری ہے کہ وہ نتائج کا نوٹیفکیشن گزٹ آف پاکستان میں شائع کروائے۔
نواز شریف غلام اسحاق خان

ماضی میں کن وزرائے اعظم نے دوبارہ اعتماد کا ووٹ لیا؟

یہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلا موقع نہیں کہ کسی وزیراعظم کو اپنے دورِ اقتدار میں ایوان سے دوبارہ اعتماد کا ووٹ لینے کا مرحلہ درپیش ہوا ہو۔

سیاسی نظام میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں بحران تھم جائے اور حکومت اعتماد کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکے۔

ماضی میں ایک ہی بار ایسا ہوا لیکن وزیر اعظم کو اعتماد ملنے کے باوجود سیاسی کشیدگی ختم نہیں ہوئی۔ 27 مئی 1993 کو جب نواز شریف نے اپنی حکومت کی بحالی کے بعد ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے رجوع کیا تھا تو 123 ارکان کی حمایت سے انھیں کامیابی حاصل ہوئی تھی۔

قومی اسمبلی کے سابق ایڈیشنل سیکریٹری طاہر حنفی کے مطابق وہ کارروائی قومی اسمبلی کے ضابطہ 285 کے تحت ہوئی تھی جس میں ہاتھ کھڑے کر کے اعتماد کا ووٹ دیا گیا تھا۔

1993 اور 2021 میں ممکنہ طور پر ہونے والے اعتماد کے ووٹ میں کیا فرق ہے؟ اس سوال پر ان کا کہنا تھا کہ موجودہ کارروائی آئین کی دفعہ 91 شق 7 کے تحت ہو رہی ہے جس کی تحریر کا ترجمہ یہ ہے کہ صدر مملکت کو اب یہ اعتماد نہیں رہا کہ وزیر اعظم کو ایوان کا اعتماد حاصل ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *