عمران خان کا انتخابی نشان بلے کی جگہ کشمیر فروشی ہونا چاہیے، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ ملک میں 3 سال کی تباہی و بربادی کو دیکھنے کے بعد سمجھتی ہوں کہ عمران خان کا انتخابی نشان مہنگی چینی، آٹا چوری اور کشمیر فروشی ہونا چاہیے۔

آزاد کشمیر کے علاقے شاردہ میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ شاردہ آئی ہوں، آپ کی محبت و شفقت کی مشکور ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میاں صاحب یہاں موجود نہیں لیکن یہاں ہر چیز میں نواز شریف نظر آرہا ہے، نوازشریف اور مریم نواز شریف کی رگوں میں کشمیری خون ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’کل رات پاکستان اور بھارت کے درمیان بہنے والے دریا کے کنارے بیٹھ کر دعا کر رہی تھی کہ ایک دن یہ ایک ہوجائے، میں کشمیری عوام کی دکھ اور تکلیف سمجھ سکتی ہوں‘۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’کشمیری جتنے بہادر ہیں، ان کا لیڈر عمران خان جیسا بزدل انسان نہیں ہوسکتا، کشمیریوں کا لیڈر وہ نواز شریف ہی ہوسکتا ہے جو وزیر اعظم ہو تو بھارت کے وزیر اعظم بھی پاکستان تشریف لاتے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کشمیر کا مسئلہ صرف نواز شریف کی قیادت میں حل ہوسکتا ہے، سلیکٹڈ نے کشمیر کو مودی کی جھولی میں پھینک دیا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’عمران خان جب ٹرمپ کے پاس کشمیر کا مقدمہ ہار کر آئے تو پاکستان آکر کہا کہ لگتا ہے کہ میں ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں‘۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی قوم کو بعد میں پتا چلا کہ وہ ورلڈ کپ کشمیر کو ہارنے کا ورلڈ کپ تھا، اب کشمیر کے عوام آپ سے کہنا چاہتے ہیں کہ اسی ورلڈ کپ میں چلو بھر پانی بھرو اور ڈوب مرو‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف نے پی ڈی ایم کے جلسے میں خطاب کے دوران سلیکٹرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان کو جہاں سے لائے ہو وہیں واپس لے جاؤ، انہیں کون لایا سب جانتے ہیں‘۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’نوازشریف کے نام سے عوام کے ذہن میں موٹرویز، بجلی کے کارخانے اور سی پیک آتا ہے جس پر آج کل پیزا والوں کا قبضہ ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں آتے ہوئے ایک بوڑھی خاتون کو دیکھا جو گھی کا ڈبہ اٹھائی ہوئی تھیں، ان کی کمر گھی کے ڈبے کے بوجھ سے نہیں اس کی قیمت سے جھکی ہوئی تھی جسے عمران خان نے آسمان پر پہنچادیا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’جو شخص آر ٹی ایس کا بٹن دبا کر آپ کا ووٹ چوری کرے اور وزیر اعظم ہاؤس میں بیٹھ جائے وہ آزادی کیا جانے‘۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’عمران خان مقبوضہ کشمیر کو آزادی کیا دیں گے وہ تو آزاد کشمیر کو صوبہ بنانا چاہتے ہیں، بچہ بچہ کٹ مرے گا کشمیر صوبہ نہیں بنے گا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان نے کشمیریوں کو آزادی کیا دلانی ہے وہ تو آواز بلند کرنے والے صحافیوں پر ظلم کرتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’عمران خان نواز شریف کو برا بھلا کہتے ہیں مگر ان کی نظر پھر بھی نواز شریف کے امیداوروں پر ہے‘۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ ’ایک تازہ سروے آیا ہے جس کے مطابق آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) سب سے مقبول جماعت ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’25 جولائی کو عوام صرف نواز شریف کو ووٹ ہی نہ دے بلکہ اپنے ووٹ کی حفاظت بھی کرے اور نوجوانوں سے اپیل ہے کہ جب تک نتیجہ نہ آجائے گھر واپس نہ آنا کیونکہ دھاندلی والوں نے ویسے نہیں جیتنا مگر ان کی نظریں بیلٹ باکسز پر ہوں گی‘۔

انہوں نے شاردہ کی عوام سے وعدہ کیا کہ ’آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئی تو شاردہ میں یونیورسٹی بنائیں گے‘۔