عمران خان کا ُحسنِ انتخاب وزیراعظم آزادکشمیر

عمران خان صاحب کے دربار تک میری رسائی نہیں۔اس کی راہ ڈھونڈنے کی تمنا بھی نہیں ہے۔گھر میں گوشہ نشین ہوتے ہوئے مگر اس کالم کے ذریعے اصرار کرتا رہا کہ خان صاحب کو چونکا دینے کی عادت ہے۔آزادکشمیر کی وزارت عظمیٰ کے لئے میڈیا میں جو نام گردش کررہے ہیں ان میں سے بیرسٹرسلطان محمود صاحب جیسے افراد اقتدار کے پرانے کھلاڑی بھی ہیں۔ایسے کھلاڑی ’’خودمختار صوبے دار‘‘ بن جانے کے امکانات سے مالا مال ہوتے ہیں۔ ’’کپتان‘‘ کو ایسے امکانات پسند نہیں۔وہ ’’ٹاپ ڈائون‘‘ طرز حکمرانی کو ترجیح دیتے ہیں۔وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہوئے ہر حکم کی اپنے زیر نگین صوبوں اور علاقوں میں فدویانہ تعمیل چاہتے ہیں۔ بیرسٹرصاحب ایک تگڑے جاٹ ہوتے ہوئے کئی معاملات پر من مانی کے عادی ہیں۔عمران خان صاحب ان کے ساتھ کمفرٹیبل محسوس نہیں کریں گے۔

بیرسٹر صاحب کے علاوہ سردار تنویر الیاس کا نام بھی گرد ش میں رہا۔ان کی اپنے تئیں کوئی ’’سیاسی‘‘ شاخت اور تاریخ نہیں ہے۔سیٹھ آدمی ہیں۔اسلام آباد کے سب سے بڑے رہائشی اور کاروباری پلازے کے مالک۔تحریک انصاف نے انہیں وسطی باغ کی ایک نشست سے میرے بھائی مشتاق منہاس کو شکست سے دو چار کرنے کے لئے انتخابی میدان میں اُتاردیا۔انتخابی مہم چلاتے ہوئے سردار صاحب نے کمال فیاضی کا مظاہرہ کیا۔اپنی جیت کو یقینی بنانے کے علاوہ وہ دیگر حلقوں کے کئی امیدواروں کو بھی مالی اعتبارسے توانارکھتے رہے۔

سردار صاحب کے بار ے میں یہ بات بھی مشہور ہوگئی کہ وہ ہمارے ہاں ’’مقتدر‘‘ کہلاتے حلقوں کے بھی چہیتے ہیں۔ ان کی مذکورہ شہرت نے جماعتِ اسلامی جیسی ’’اصول پسند‘‘ جماعت کے دیرینہ ’’حریت پسند‘‘ عبدالرشید ترابی صاحب کو وسطی باغ ہی سے ان کے حق میں دست بردار ہونے کو مائل کیا۔ترابی صاحب کے ہتھیار پھینکنے کی تقریب کے دوران قومی سلامتی کے ذمہ داراداروں کی مبینہ ترجیحات کا بھی برسرِعام ذکر ہوا۔حقیقت خواہ کچھ بھی ہو دنیا بھر کی ’’دریں دولت‘‘ اپنی ترجیحات کو یوں عیاں نہیں کرتیں۔سردار صاحب سے اس تناظر میں خود کش بھول ہوگئی۔

مذکورہ بھول سرزد نہ بھی ہوئی ہوتی تب بھی سردار صاحب کو یادرکھنا چاہیے تھا کہ ان کے مالی وسائل ابھی جہانگیر خان ترین سے زیادہ نہیں ہوئے۔ان کے ’’اہم حلقوں‘‘ سے مراسم بھی ابھی ’’رفتہ رفتہ‘‘ کے مرحلے میں ہیں۔سردار تنویر اگر آزادکشمیر کے وزیر اعظم نامزد ہوجاتے تو ’’ایک اور اے ٹی ایم‘‘ والا راگ چھڑجاتا۔ عمران خان صاحب سیاست میں کامیاب ہونے کے لئے ’’اے ٹی ایم‘‘ کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں۔اپنی کرشماتی شخصیت کو انہوں نے لاہور میں کینسر کے علاج کا جدید ترین ہسپتال تعمیر کرنے کی خاطر چندہ جمع کرنے کے لئے استعمال کررکھا ہے۔وہ مگر اب جس مقام پر پہنچ چکے ہیں وہاں ’’اے ٹی ایم‘‘ کے حوالے سے اگر ’’ایک ڈھونڈنے‘‘ نکلیں تو ہزار مل جائیں گے۔وقتی ’’اے ٹی ایم‘‘ کو عمران خان صاحب کو اپنا ’’محتاج‘‘ تصور کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ’’کپتان‘‘ کو ویسے بھی کسی کے ’’تھلے‘‘ لگے رہنے کی ہرگز عادت نہیں۔بطور کرکٹر اپنا مقام بناتے ہی انہوں نے اپنے سرپرست کزن ماجد خان کو ریٹائر ہونے کو مجبور کردیا تھا۔اس تناظر میں اور بھی کئی کہانیاں ہیں۔ میں انہیں دہرانے میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔محض مصر ہوں کہ عمران صاحب سے ’’احسان کے بدلے‘‘ کسی انعام کی توقع نہ رکھی جائے۔

بہرحال مجھے توقع تھی کہ آزادکشمیر کا وزیر اعظم نامزد کرتے ہوئے عمران خان صاحب ایسی ہی سرپرائز دیں گے جو انہوں نے پاکستان کے آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ نامزد کرتے ہوئے فراہم کی تھی۔عثمان بزدار صاحب کے سرپر اس ضمن میں ہما بٹھایا گیا تو تحریک انصاف ہی کے بے شمار لوگ ہکا بکارہ گئے۔ مالی اعتبار سے کئی طاقتور اور دھڑوں اور ڈیروں والے چودھری بزدار صاحب کی تعیناتی کے پہلے ہی دن سے اُن کے لئے ’’صبح گیا یا شام گیا‘‘ والا ماحول بناتے رہے ہیں۔میں اگرچہ بضد رہا کہ سہاگن وہی کہلائے جو پیامن بھائے۔کامل اختیار واقتدار کے حوالے سے عمران خان صاحب ان دنوں مملکت خداداد کے حتمی پیا ہیں۔جو بھی ان سے ٹکرایا پاش پاش ہوگیا۔ حالیہ مثال اس ضمن میں پنجاب اسمبلی سے جہانگیر ترین کے کیمپ میں گئے نذیر چوہان ہیں۔عمران خان صاحب کی جماعت میں شامل افراد کو لہٰذا ’’ماہی وے محبتاں سچیاں نیں‘‘ کا ورد کرتے رہنا چاہیے۔

آزادکشمیر میں شاید ایسا ہونہیں پائے گا۔برداری وہاں کی سیاست میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔جاٹ،گوجر اور راجپوت اس تناظر میں اہم ترین سٹیک ہولڈر ہیں۔وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے نامزد ہوئے قیوم نیازی صاحب کا تعلق ’’مغل‘‘ برادری سے ہے۔یہ وہاں تگڑی برادری شمار نہیں ہوتی۔سردار تنویر الیاس بھی شنیدہے کہ مغل ہیں۔

مجھے ہرگز خبر نہیں کہ آزادکشمیر میں آباد مغل برادری کا سلطنت ِ مغلیہ والوں سے کیا تعلق ہے۔وادیٔ کشمیر کو اگرچہ جلال الدین اکبر نے فتح کیا تھا۔اس کے بعد جہانگیر اور اس کی چہیتی ملکہ نور جہاں نے وہاں مغل اقتدار کو مستحکم کیا۔یہ اورنگزیب کے انتقال تک قائم رہا۔بعدازاں دلی کا دربار کمزور ہونا شروع ہوا تو افغانستان کے احمد شاہ ابدالی نے کشمیر فتح کرلیا۔ ڈوگرہ اس کے بعد رونما ہوئے۔ قیوم نیازی کی تعیناتی کی وجہ سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آزادکشمیر کو دورِ حاضر کا جلال الدین اکبر فراہم کردیا گیا ہے۔عمران خان صاحب ان کے ’’بیرم خان‘‘ ہیں۔اپنے حالیہ دورئہ ازبکستان کے دوران وزیر اعظم پاکستان کو مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر بہت یاد آئے تھے۔شاید وہ یاد قیوم نیازی صاحب کے چنائو کا باعث بھی ہو۔

پھکڑپن سے قطع نظر میں سنجیدگی سے بضد ہوں کہ عمران خان صاحب کو آزادکشمیر میں کوئی عثمان بزدار صاحب جیسا درکار تھا ۔وہ قیوم نیازی کی صورت میسر ہوگیا۔’’آگے تیرے بھاگ…‘‘ میڈیا میں لیکن ہمارے ایک توانائی سے مالال مال نوجوان رپورٹر وقار ستی کی بتائی ایک کہانی کے بہت چرچے ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ استخارہ اور علم العداد قیوم نیازی کے انتخاب کی بنیادی وجہ بنے۔اس تناظر میں 13اور 18کے اعدادکلیدی تصور ہورہے ہیں۔نیازی صاحب آزادکشمیر کے 13ویں وزیر اعظم ہیں اور ان کے انتخابی حلقے کا نمبر 18 ہے ۔ اعداد کے علاوہ اردو کے حرف ’’عین‘‘ سے نام کا آغاز ہونا بھی اہم بتایا جارہا ہے۔ ’’عین‘‘ کی منطق سے  بنائی کہانی عارف علوی ،عثمان بزدار اور عمران اسماعیل وغیرہ کاذکر بھی کرتی ہے۔میرا جھکی ذہن مگر یہ سوچنے کو مجبور ہے کہ اگر ’’عین‘‘ اتنا ہی کلیدی ہے تو خیبرپختونخواہ کے وزیر اعلیٰ کا چنائو کرتے ہوئے اسے ذہن میں کیوں نہیں رکھا گیا۔میری رائے میں آپ کانام کسی بھی حرف سے شروع ہوسکتا ہے۔عمران خان صاحب کی نگاہ التفات حاصل کرنے کے لئے آ پکو فقط یہ ثابت کرنا ہے کہ آپ ہمیشہ ان کے وفادار رہیں گے۔اپنے تئیں کوئی گیم لگانے کی کوشش نہیں کریں گے۔پرویز خٹک کی طرح سرجھکائے کونے میں بیٹھے دہی کھاتے رہیں گے۔ واٹس ایپ پیغام کے ذریعے وزارتِ خزانہ سے ہٹانے کے باوجود اسد عمر کی طرح فدویانہ خاموشی سے اچھے دنوں کا انتظار کریں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: