عمران خان کی ’جاسوسی‘ کی کوشش کا دعویٰ: یہ مبینہ ریکارڈنگ ڈیوائس کیسے کام کرتی ہے؟

اسلام آباد پولیس تحریک انصاف کی جانب سے سامنے آنے والے ان دعووں کی تحقیقات کر رہی ہے جس کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائشگاہ پر ایک ملازم نے ان کی مبینہ جاسوسی کی کوشش کی ہے۔

ترجمان اسلام آباد پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جس شخص کو بنی گالہ ہاؤس سے جاسوسی کے الزام میں پولیس کے حوالے کیا گیا ہے وہ ’ٹھیک سے بات نہیں کر سکتا جس وجہ سے اس شخص کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی۔‘

عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ سابق وزیراعظم کی رہائشگاہ پر انھی کے ایک ملازم نے ان کے ’کمرے میں جاسوسی کی ڈیوائس لگانے کی ناکام کوشش کی۔‘

شہباز گل نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایک مبینہ ریکارڈنگ ڈیوائس دکھائی اور کہا کہ ’اس کا کام پورے کمرے میں ہونے والی بات چیت ریکارڈ کرنا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اس ملازم کو معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ادھر پولیس نے اس شخص کی جسمانی اور دماغی حالت جاننے کے لیے میڈیکل ٹیسٹ کا فیصلہ کیا ہے مگر یہ بھی کہا ہے کہ ’قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بنی گالہ ہاؤس میں کام کرنے والے ملازمین کی شناخت ایک چیلنج ہے۔‘

’اسلام آباد پولیس کو بنی گالہ ہاؤس میں تعینات ملازمین کی لسٹ ابھی تک فراہم نہیں کی گئی۔‘

جب بی بی سی نے تھانہ بنی گالہ رابطہ کیا تو وہاں موجود پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ تاحال ایف آئی آر کے اندراج کے لیے انھیں کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔

عمران خان

’عمران خان نے ملازم کو معاف کر دیا‘

شہباز گل کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کی رہائشگاہ پر چھ سال سے صفائی کا کام کرنے والے ایک 23 سال کے ملازم نے ان کے کمرے میں جا کر ایک ریکارڈنگ ڈیوائس ’پلانٹ کرنے کی کوشش کی۔‘

انھوں نے اتوار کو اسلام آباد میں کچھ صحافیوں کو بتایا کہ اس شخص کو تقریباً تین ماہ قبل ’50 ہزار روپے دے کر کہا گیا کہ ڈیوائس لگانی ہے جس کے بدلے اور پیسے ملیں گے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس ملازم کے پاس عمران خان کے کمرے تک رسائی نہیں تھی تو اسے یہ کام بھی دیا گیا کہ جس ملازم کی رسائی ہے اس کے ساتھ رابطہ کرایا جائے۔

ایک مبینہ ریکارڈنگ ڈیوائس دکھاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس میں ایک باریک مائیک ہے جسے اگر کمرے میں آن کر کے رکھ دیا جائے تو یہ پورے کمرے میں ہونے والی بات چیت سن سکتی ہے۔ ’یہ پاس ورڈ پروٹیکٹڈ ہے اور اسی سافٹ ویئر اور پاس ورڈ کے ساتھ چلتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا مطالبہ ہے کہ اس پر پولیس کی کارروائی ہونی چاہیے تاہم عمران خان نے اس شخص کو معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ’ہوسکتا ہے اس پر دباؤ ہو، جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہو۔‘

اس گفتگو کے دوران شہباز گل کے ہمراہ اس مبینہ ملازم کو سر پر کپڑا ڈال کر بٹھایا گیا تھا جس نے بتایا کہ وہ چھ سال تک عمران خان کی رہائش گاہ پر کام کرتا رہا اور اسے 25 ہزار تنخواہ ملتی تھی۔

اس کا کہنا تھا کہ وہ یہ ڈیوائس لگانے کے لیے لے کر آیا تھا مگر اسے لگانے سے پہلے وہ پکڑا گیا۔

ای سونک، مبینہ ریکارڈنگ ڈیوائس

شہباز گل کی جانب سے دکھائی گئی مبینہ ریکارڈنگ ڈیوائس کیسے کام کرتی ہے؟

عمران خان کے چیف آف سٹاف نے یہ مبینہ ریکارڈنگ ڈیوائس بھی دکھائی ہے جسے بنی گالہ ہاؤس میں ’پلانٹ‘ کرنے کی کوشش کی گئی۔

یہ ڈیوائس ایک کورین کمپنی کی تیار کردہ ہے جس کے ماڈل کا نام ’ایم کیو-یو350‘ ہے۔ اگرچہ اسے جاسوسی کی ڈیوائس کا نام دیا جا رہا ہے تاہم کمپنی کی ویب سائٹ پر اسے ایک ’ڈیجیٹل وائس ریکارڈر‘ اور ’منی یو ایس بی ریکارڈر‘ کہا گیا ہے جو 24 گھنٹوں تک لگاتار کام کرسکتا ہے۔

اس کی خصوصیات میں لکھا گیا ہے کہ ساؤنڈ ڈیٹیکشن کے لیے اس میں ’ایس وی او ایس‘ یا سپیریئر وائس آپریٹڈ سسٹم ہے۔ اس میں 180 ایم اے ایچ کی ریچارج ایبل بیٹری موجود ہے جسے کمپنی کے مطابق دو گھنٹے میں اسے فُل چارج کیا جاسکتا ہے اور یہ پراڈکٹ 25 دن تک سٹینڈ بائی پر رہ سکتا ہے۔

اس میں آٹھ، 16 اور 32 جی بی میمری کے الگ الگ ماڈل دستیاب ہیں۔ اس میں ایک سرخ رنگ کی لائٹ بھی ہے جو چارجنگ کے علاوہ ریکارڈنگ شروع کرنے یا یو ایس بی کے کمپیوٹر سے نکالے جانے کا اشارہ دیتی ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ ڈیوائس قریب 60 ڈیسیبل تک کی آواز سن سکتی ہے۔ امریکی سینٹر فار انوائرمنٹل ہیلتھ کے مطابق عموماً دو لوگوں کے درمیان ایک عام گفتگو 60 ڈیسیبل پر ہوتی ہے جبکہ سرگوشی کی آواز قریب 30 ڈیسیبل پر ہوتی ہے۔

اس میں موجود یو ایس بی کی مدد سے اسے کسی کمپیوٹر پر لگایا جاسکتا ہے جبکہ دوسری طرف موجود ڈائل یا سوئچ سے آن، آف یا ’وائس ایکٹیویٹڈ‘ میں سے کسی ایک آپشن کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ اس کی خاص بات ایک سیٹنگ ہے جس کی مدد سے یہ ڈیوائس صرف تبھی ایکٹیویٹ ہوتی ہے جب اردگرد آواز سنائی دے۔ اسی سیٹنگ کی مدد سے اس کی بیٹری کا دورانیہ طویل کیا جاسکتا ہے۔

اسے کمپیوٹر پر لگا کر اس کے اپنے سافٹ ویئر میں سب سے پہلے تاریخ اور وقت درج کیے جاتے ہیں جس کے بعد یہ استعمال کے لیے تیار ہوجاتی ہے اور اس سے کی گئی آڈیو ریکارڈنگ اسی میں محفوظ ہوجاتی ہے۔

ای کامرس ویب سائٹس ایمازون اور ای بے پر یہ ڈیوائس 80 ڈالر یعنی قریب 16 ہزار روپے میں دستیاب ہے اور اسے بچوں یا دفتر کے ملازمین کی نگرانی، گھریلو ملازمین یا شریک حیات کی آواز کی خفیہ ریکارڈ کے پراڈکٹ کے طور پر فروخت کیا جا رہا ہے۔

تاہم اس ڈیوائس کے بارے میں کمپنی نے اپنے یوزر مینول میں متنبہ کیا ہے کہ ’ہم اس کے کسی غلط استعمال کے ذمہ دار نہیں۔‘

مبینہ ریکارڈنگ ڈیوائس

’مارکیٹ میں ناخن برابر ڈیوائس موجود ہیں‘

تحریک انصاف کے حامیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر اس ڈیوائس کی خصوصیات اور اسے استعمال کرنے کا طریقہ شیئر کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف ناقدین کا دعویٰ ہے کہ یہ کوئی اچھا جاسوسی کا سامان نہیں۔

’بوٹ سافین‘ نامی پی ٹی آئی سپورٹر نے لکھا ہے کہ یہ ڈیوائس ’ایمازون پر 80 ڈالر کی فروخت ہو رہی ہے اور اس کی ریٹنگ 3.6 ہے۔ نیوٹرلز نے چھوٹی انویسٹمنٹ کی ہے۔‘

سیف ایوان نامی صارف نے رائے دی کہ ’ملازم عمران خان کے گھر چھ سال سے کام کر رہا تھا۔ مطلب ملازم عمران خان کے وزیراعظم بننے سے قبل کا ان کے گھر کام کر رہا ہے۔ جب عمران خان وزیراعظم تھا تب ملازم نے جاسوسی نہیں کی اور اب عمران خان کچھ بھی نہیں تو ملازم اب جاسوسی کرے گا؟ انتہائی فلاپ فلم۔‘

رانا محمد ناصر نامی صارف نے لکھا کہ ’یو ایس بی کو جاسوسی ڈیوائس بنا دیا‘ جبکہ ایک دوسرے صارف نے کہا کہ ’کمال کے بندے ہو، مارکیٹ میں ناخن برابر ڈیوائس موجود ہیں۔‘

error: