عمران خان کی عدالت میں پیشی کا احوال: ’مسٹر جسٹس ایک منٹ‘

آرمی پبلک سکول ازخود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ کے طلب کرنے پر جب وزیر اعظم عمران خان احاطہ عدالت پہنچے تو اُن سے پہلے ہی اُن کی سکیورٹی کا عملہ سپریم کورٹ کے کورٹ روم نمبر ون کے باہر اپنی پوزیشنیں سنبھال چکا تھا۔

نیلی شلوار قمیض میں ملبوس وزیر اعظم جب کمرہ عدالت میں پہنچے تو کمرہ عدالت پہلے ہی اپنی گنجائش کے مطابق بھر چکا تھا۔

وزیر اعظم عمران خان سیٹوں کی پہلی نشست میں اُس سیٹ پر بیٹھے جو کہ چیف جسٹس کے بالکل سامنے تھی۔

وزیر اعظم اپنے مخصوص انداز میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھے، ان کے دائیں ہاتھ میں تسبیح تھی جس پر ان کے ہاتھ کی انگلیاں تیزی سے گھوم رہی تھیں۔اشتہار

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری وزیر اعظم کی پچھلی نشست پر بیٹھے تھے اور وہ مسلسل وزیر اعظم سے سرگوشیوں میں بات کر رہے تھے۔

جب وقفے کے بعد اس کیس کی دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا وزیر اعظم آگئے ہیں؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ وزیر اعظم کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔

عدالت
،تصویر کا کیپشنعدالتی تقدس کو مدنظر رکھتے ہوئے کمرہ عدالت میں عموماً ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر نہیں بیٹھا جاتا

عدالت کے حکم پر وزیر اعظم عمران خان کو روسٹم پر بلایا گیا اور ان سے پوچھا گیا کہ انھوں نے آرمی پبلک سکول ک واقعے سے متعلق کمیشن کی رپورٹ پر کیا کیا؟ اس پر وزیر اعظم نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے تو انھیں بتایا تھا کہ اس رپورٹ میں صرف 'اخلاقی ذمہ داری' کا تعین کرنے کی بات کی گئی ہے۔

اس کے بعد اٹارنی جنرل نے بولنے کی کوشش کی تو عدالت نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے وزیر اعظم کو بات کر لینے دیں، آپ کو بعد میں سُنیں گے۔

جب عدالت نے وزیر اعظم سے استفسار کیا کہ کیا ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے اور اس سانحہ میں ہلاک ہونے والے بچوں کے ورثا نے اس وقت کے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی تھی کیا اس بارے میں کچھ ہوا؟ اس پر وزیر اعظم نے پہلے تو یہ جواب دیا کہ اس وقت تو ان کی مرکز میں حکومت ہی نہیں تھی اور پھر یہ معاملہ عدالت پر ڈالتے ہوئے کہا کہ 'ہمارے لیے کوئی مقدس گائے نہیں ہے اور اگر عدالت اس بارے میں حکم دے تو اس پر عمل درآمد ہو گا۔'

اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نے عدالت کو یہ بھی کہا کہ عدالت ان ذمہ داروں کے تعین کے لیے بھی احکامات جاری کرے جنھوں نے افغان وار میں امریکہ کا ساتھ دیا اور جس کے اثرات دہشت گردی کی صورت میں ملک پر پڑے اور 80 ہزار پاکستانیوں کو جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔

بینچ میں موجود تین ججز میں سے کسی نے بھی اس پر درعمل نہیں دیا۔

عمران خان

بینچ میں موجود جسٹس قاضی امین نے جب وزیر اعظم سے پوچھا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست تحریک طالبان کے ساتھ معاہدہ کرنے جا رہی ہے تو کیا ہم شکست کی ایک اور دستاویز پر دستخط کرنے جا رہے ہیں، جس پر وزیر اعظم کچھ دیر خاموش رہے اور اس دوران جسٹس قاضی امین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ آپ کی حکومت نے معاہدہ کیا ہے جبکہ احتجاج کے دوران نو پولیس اہلکاروں کو شہید کیا گیا تو کیا ان کی جانیں ہماری جانوں سے کم قیمتی تھیں؟

وزیر اعظم نے عدالت کی طرف سے پوچھے گئے ان سوالوں کا براہ راست تو جواب نہیں دیا البتہ انھوں نے افغانستان کی جنگ کا ذکر شروع کر دیا اور پھر اس کے ساتھ انھوں نے نائن الیون کے واقعہ کا بھی ذکر کیا جس پر بینچ کے ارکان ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہے۔

سماعت کے دوران جب چیف جسٹس گلزار احمد نے وزیر اعظم سے کہا کہ انھیں آرمی پبلک سکول کے واقعے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے ورثا سے ملنا چاہیے اور ان کے لیے کچھ کرنا چاہیے تو عمران خان نے عدالت کو جواب دیا کہ ان کے اختیار میں جو کچھ تھا وہ انھوں نے کر دیا ہے اور اس واقعہ میں ہلاک ہونے والے بچوں کے ورثا کو معاوضہ ادا کر دیا گیا ہے۔

وزیر اعظم کا یہ جواب سُن کر چیف جسٹس نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے یہ الفاظ متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہیں۔

بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی ایک باپ ہیں اور انھیں ایک باپ کی طرح ہی اس معاملے کو دیکھنا چاہیے۔

سماعت کے دوران جب بینچ میں موجود ججز کچھ مزید ریمارکس دینا چاہتے تھے تو وزیر اعظم نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے اور ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 'مسٹر جسٹس ایک منٹ' اور اس کے بعد انھوں نے ایک مرتبہ پھر افغان جنگ اور اس کے بعد کی پیدا ہونے والی صورتحال پر بات کرنا شروع کر دی۔

وزیر اعظم کا بیان مکمل ہونے کے بعد عدالت نے اس از خود نوٹس سے متعلق بدھ کے روز ہونے والی کارروائی کا آرڈر لکھانا شروع کر دیا اور اس پر کارروائی چار ہفتوں تک لیے ملتوی کر دی۔

وزیر اعظم جب کمرہ عدالت سے باہر نکل رہے تھے تو کمرہ عدالت میں موجود متاثرہ خاندانوں کے کچھ افراد نے حکومت کے خلاف نعرے لگانا شروع کر دیے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم کو سپریم کورٹ میں اس گیٹ سے لایا گیا جہاں سے سپریم کورٹ کے ججز کو لایا اور لے جایا جاتا ہے۔

وزیر اعظم کی سپریم کورٹ میں آمد کے دوران پاکستان تحریک انصاف کا سوشل میڈیا کا عملہ بھی کافی متحرک تھا اور جو لوگوں کو یہ بات بتا رہے تھے کہ وزیر اعظم ایک عام آدمی کی حیثیت سے سپریم کورٹ میں پیش ہوئے ہیں جبکہ اس دعوے کے برعکس سپریم کورٹ کے اندر اور باہر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ایک قابل ذکر تعداد موجود تھی۔

بشکریہ بی بی سی اردو

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.

error: