عمران خان کے اچھے دن، برے دن

عمران خان کے خلاف سازش چھ مہنے یا ایک سال پہلے شروع نہیں ہوئی۔ ان کے خلاف سازش اسی وقت شروع ہو گئی تھی جب وہ پانچویں یا چھٹی جماعت کے طالب علم تھے۔ اور ایچی سن کالج میں داخلے سے پہلے لاہور کے سینٹ انتھونی سکول میں پڑھتے تھے۔

سازش کے عینی گواہ ان کے ایک گورے استاد تھے جنھوں نے مجھے یہ واقعہ سنایا۔ میں نے ان سے پوچھا تھا کہ عمران خان پڑھائی میں کیسے تھے۔ ان کے استاد نے کہا کہ پڑھائی میں تو بس ایسے ہی تھے لیکن کرکٹ اس عمر میں بھی بہت عمدہ کھیلتے تھے۔

بلکہ اتنے اچھے تھے کہ جب دوسرے سکولوں سے کرکٹ کا میچ ہوتا تھا تو وہ یہ شرط رکھتے تھے کہ عمران خان ٹیم میں شامل نہ ہو اور ہمیں کئی دفعہ یہ شرط ماننی پڑتی تھی۔

ذرا ظلم کی انتہا دیکھیں کہ آپ 13-14 سال کے ہیں اور آپ کو ٹیم میں اس لیے شامل نہیں کیا جاتا کہ آپ لاہور میں اپنی عمر کے تمام کھلاڑیوں سے اچھے ہیں۔

عمران خان کے چاہنے والے اب بھی یہ ہی کہتے ہیں کہ ان کو سازش کر کے وزرات عظمیٰ سے اس لیے ہٹایا گیا کیونکہ قائد اعظم کے بعد وہ واحد رہنما تھے جو پاکستان سے مخلص تھے۔

جنھوں نے ایک پیسے کی کرپشن نہیں کی، مغرب کو للکارا، امریکہ کو ایبسولوٹلی ناٹ کہا۔ اپنے کسے بیٹے بھتیجے کو کوئی عہدہ نہیں دیا۔ (فرح گوگی کا نام بھی میرے خیال میں اس لیے لیا جاتا ہے تاکہ ہمارے تجزیہ نگاروں کے خشک تجزیوں میں تھوڑا رنگ بھرا جا سکے)

عمران خان کے ساتھ وہ ہی کیا گیا جو 13-14 سال کی عمر میں ان کے ساتھ کیا جاتا تھا کہ تو سب سے اچھا ہے اس لیے تو میچ سے باہر چل، بنچ پر بیٹھ کر میچ دیکھ۔

میرا نہیں خیال کہ عمران خان نے کبھی باہر بنچ پر بیٹھ کر پورا میچ دیکھا ہو گا۔

عمران خان اپنی ناکامی کا ایک واقعہ خود بھی سناتے ہیں کہ وہ پروفیشنل کرکٹر کے طور پر اپنے ہی شہر لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں بیٹنگ کرنے کے لیے اترے اور اس پہلے ہی میچ میں صفر پر آؤٹ ہو گئے۔

عمران خان

وہ فرماتے ہیں کہ وکٹ سے واپس پویلین تک کا سفر ان کی زندگی کی سب سے لمبی واک تھی۔ لیکن کیا انھوں نے بقول ان کے اتنی بڑی شرمندگی کے بعد کرکٹ چھوڑ دی؟ انھوں نے کرکٹ کی دنیا کا سپر سٹار بن کر دم لیا۔

وہ حضرت علی کے اس قول کی زندہ مثال ہیں جس میں فرمایا گیا ہے کہ میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کی ناکامی سے پہچانا۔

جب عمران خان سیاست کے بیابانوں کے مسافر تھے تو ہر ٹی وی شو میں، ہر اس مجلس میں پہنچ جاتے تھے جہاں وہ اپنی بات کر سکتے تھے۔ خود بھی سیاست کے پرانے اور گمنام گرگوں کے پاس جاتے تھے۔

کبھی کامریڈ معراج محمد خان کے گھر، کبھی ٹریڈ یونین لیڈر طفیل عباس کے فلیٹ پر۔ ہمارے جیسا ہر دو ٹکے کا صحافی ان کے گلیمر کی وجہ سے ان سے ملتا تھا لیکن اندر سے یہی سمجھتا تھا کہ اس بندے کو بس کرکٹ آتی ہے، سیاست اسے ہم سمجھاتے ہیں۔

اور عمران خان صبر سے بیٹھ کر سنا بھی کرتے تھے۔ سیاست میں جیسے جیسے ان کا عروج شروع ہوا تو انھیں سیاست سکھانے والے بھی بڑھتے گئے۔

باجوہ

ایک دفعہ میں نے انھیں یہ کہتے سنا کہ مجھے ہر وقت کوئی نہ کوئی مشورہ دیتا رہتا ہے، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جس نے مشورہ دینا ہے وہ پہلے پارٹی کو چندہ دے۔

پھر ملک کے سب سے بڑے سیٹھ چندہ دینے کے لیے قطار میں لگ گئے، عمران خان کو مشورے دینے والے بھی وہ آ گئے جو ملک کے اصلی وارث ہیں اور خالی مشورے ہی نہیں دیتے الیکشن وغیرہ کا بندوبست بھی کر لیتے ہیں۔

ساڑھے تین سال تک ایک پیج کا وزیر اعظم رہنے کے بعد اب عمران خان کے پھر برے دن آ گئے ہیں۔ ہمت نہ انھوں نے ہاری تھی نہ ہاریں گے لیکن کبھی کبھی ان کے چہرے پر مایوسی کا سایہ سا آ کر گزر جاتا ہے، خاص طور پر جب وہ فرماتے ہیں کہ مجھے یقین نہیں تھا کہ مجھے نکال کر ان چوروں کو پھر لے آئیں گے۔

انسان کے برے دن اسی وقت آتے ہیں جب ہماری صحافی برادری کے ستارے آپ کو بٹھا کر ایک بار پھر لیکچر دینا شروع کر دیں۔ بیچ میں تعریف بھی کرتے ہیں جس پر وہ تھوڑا سا شرما جاتے ہیں۔

ہمارے فخر اوکاڑہ اور کامیڈی اور اپنے ہاتھ سے لکھی تاریخ کے بے تاج بادشاہ محترم آفتاب اقبال نے اپنے عمران خان والے انٹرویو میں ایک تو سکوپ یہ نکالا کہ یہ کیا بادشاہ بنے جسے بادشاہوں والی گیم شطرنج میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

پھر انھیں بتایا کہ وہ اس وقت ذوالفقار علی بھٹو سے زیادہ مقبول لیڈر ہیں۔ تھوڑا ڈر سا لگا کہ بھٹو کو ہٹانے سے کام نہیں چلا تھا تو اس کو لٹکانا پڑا تھا۔ اور ظاہر ہے جیسا کہ آفتاب اقبال نے فرمایا کہ عمران خان سے اسی طرح چھوٹی چھوٹی غلطیاں ہوئی ہیں جیسی اکبر بادشاہ اور سکندر اعظم سے ہوئی تھیں۔

لیکن ہماری حالیہ تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ لاہور کی جم پل والے لیڈروں کو میچ سے باہر بنچ پر تو بٹھایا جا سکتا ہے، لٹکایا نہیں جا سکتا۔

error: