عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کامیاب: اس وقت پاکستان میں فیصلوں کا اختیار کس کے پاس ہے؟

گذشتہ رات پاکستان کی قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد 174 ووٹوں کے ساتھ کامیاب ہو گئی جس کے بعد وہ وزیراعظم پاکستان نہیں رہے ہیں اور ملک کے نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے پیر دن مقرر کیا گیا ہے۔ مگر اختیارات کی منتقلی کے اس دورانیے میں ملک کون چلا رہا ہے؟

یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی وزیراعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوئی ہے اور عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ان کی بنائی کابینہ بھی تحلیل ہو چکی ہے اور ملک میں کوئی کابینہ بھی نہیں ہے۔

اس صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک وزیرِاعظم کے جانے اور دوسرے کے آنے کے درمیان جو وقفہ پایا جاتا ہے اس وقفے میں پاکستان کا چیف ایگزیکٹیو کون ہے، ملک کے اہم فیصلوں کا اختیار کس کے پاس ہے اور کس قسم کے فیصلوں کا اختیار موجود ہے؟

اگرچہ کابینہ تحلیل ہو چکی ہے مگر صدرِ مملکت عارف علوی اپنے عہدے پر موجود ہیں تو کیا صدر ملک چلا رہے ہیں؟ کیا ملک کے اختیارات کسی فردِ واحد کے پاس ہیں یا ایسی صورت میں کوئی کمیٹی بنتی ہے؟

اور اس وقفے میں جب ملک میں کوئی وزیرِاعظم نہیں تو جنگ یا آفت کی صورت میں اگر ہنگامی فیصلے کرنے پڑ جائیں تو یہ فیصے کون لے گا اور اس کے اختیارات کا دائرہ کار کیا ہوتا ہے؟

بی بی سی نے پاکستان میں آئینی اور پارلیمانی اُمور کے ماہر اور پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب اور پاکستان مسلم لیگ کے گذشتہ دورِ حکومت میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور محسن شاہنواز رانجھا سے بات کرکے ان سوالات کے جوابات جاننے کی کوشش کی ہے۔

’آئین اس بارے میں بالکل خاموش ہے‘

اس وقت پاکستان کا چیف ایگزیکٹو کون ہے؟ احمد بلال محبوب کہتے ہیں ہمارا آئین اس بارے میں بالکل خاموش ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ عموماً کسی وزیرِاعظم کے استعفیٰ دینے یا مدت ختم ہونے یا اسمبلی توڑنے کی صورت میں ہمارے پاس راستے موجود ہیں اور عدم اعتماد کی صورت میں آئین کے آرٹیکل 94 میں بڑے واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ ’جب تک نیا وزیرِاعظم اپنی جگہ نہ سنبھال لے صدر وزیرِاعظم کو اس وقت تک بطور قائم مقام وزیِراعظم کام کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں‘ لیکن اگر صدر نے ایسا کوئی نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا تو پھر کیا ہو گا؟ اس بارے میں آئین میں کوئی وضاحت موجود نہیں ہے۔

( یاد رہے ابھی تک صدر کی جانب سے ایسا کوئی نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوا جس میں انھوں نے جانے والے وزیرِاعظم (عمران خان) کو کام جاری رکھنے کا کہا ہو۔۔۔ احمد بلال محبوب کے مطابق ’ہو سکتا ہے صدر نے عمران خان کو کام جاری رکھنے کا کہہ دیا ہو مگر میڈیا میں یہ بات رپورٹ نہ ہوئی ہو‘)۔

احمد بلال محبوب کے مطابق ’یہ ہمارے آئین میں ایک خلا ہے۔ ہر چیز کا جواب آئین نہیں دیتا۔ حالات پیدا ہوتے تو پھر اس کے لیے راستے ڈھونڈے جاتے ہیں۔‘

یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی وزیراعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوئی ہے، احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ اس سے پہلے کسی وزیِراعظم کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہی نہیں ہوئی اس لیے اس سے پہلے کبھی یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوا۔ اب یہ سوال پیدا ہوا ہے تو کوئی راستہ ڈھونڈا جائے گا۔‘

’قائم مقام وزیرِاعظم کا تصور ہی نہیں‘

@PTVNewsOfficial

احمد بلال محبوب کے مطابق صدر اگر کسی وجہ سے اپنے فرائض سرانجام نہ دے سکیں یا ملک سے باہر ہوں تو اس صورت میں حلف اٹھانے کے بعد چیئرمین سینیٹ کے پاس قائم مقام صدر کا اختیار ہوتا ہے لیکن چیف ایگزیکٹیو کے اختیارات نہ چیئرمین سینیٹ کے پاس ہیں نہ سپیکر کے پاس ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں قائم مقام صدر کا تصور تو ہے مگر قائم مقام وزیرِاعظم کا تصور ہی نہیں ہے۔ اگر صدر ملک سے باہر جاتے ہیں تو چیئرمین سینیٹ حلف اٹھانے کے بعد قائم مقام صدر بن جاتے ہیں لیکن وزیرِاعظم کے ملک سے باہر جانے کی صورت میں ہمارے ملک میں کوئی قائم مقام وزیرِاعظم نہیں ہوتا۔

’صدر بڑے ایگزیکٹو فیصلے نہیں کر سکتے‘

احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ فرض کریں کہ اگر ایسا نہ بھی ہوا ہو تو ہمارے ملک کے صدرِ مملکت ہی ملک کا نظام چلاتے ہیں ’لیکن وہ کوئی بڑے ایگزیکٹو فیصلے نہیں کر سکتے‘ مگر چونکہ سب کچھ ان کے نام پر ہوتا ہے لہٰذا اس وقت سربراہِ مملکت وہی ہیں۔

صدر مملکت کے بعد ملک کی مستقل انتظامیہ جس میں مختلف وزارتوں کے سیکریٹریز شامل ہیں، اپنے اپنے محکمے کے چیف ایگزیکٹیو وہی ہوتے ہیں۔

اس وقفے میں اگر جنگ چھڑ جائے تو کیا ہو گا؟

Getty Images

اس صورتحال میں جب ملک میں کوئی چیف ایگزیکٹیو نہیں اور صدر کے اختیارت محدود ہیں تو اگر کوئی آفت آ جائے یا خدانخواستہ جنگ چھڑ جائے تو ان صورت میں کیا ہوتا ہے؟

احمد بلال محبوب کے مطابق جنگ لگنے کی صورت میں کمانڈر ان چیف صدرِ مملکت ہیں اور بطورِ کمانڈر ان چیف وہ فورسز کو حکم دینے کا اختیار رکھتے ہیں اور ایسی جنگی کیفیت میں فوج خود بھی ردِعمل دینے کا اختیار رکھتی ہے۔

’ان حالات میں صدرِ مملکت متعلقہ محکموں کے عہدیداران کو بلا کر کوآرڈینیٹر کا کردار ادا کریں گے مگر ان کے پاس پالیسی کے متعلق بڑے فیصلوں کا اختیار نہیں ہے۔‘

اس کی مثال دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اگر سکیورٹی سے متعلق کوئی معاملہ ہے تو صدر مسلح افواج کے چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف دی سٹاف کمیٹی کو بلائیں گے اور اگر زلزلے جیسی کسی قدرتی آفت کی صورت میں ڈزاسٹر مینیجمنٹ کمیٹی کے سربراہ کو طلب کریں گے۔

احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ اگلے وزیِرِ اعظم کے آنے تک شاید صدر مملکت کو پالیسی کے حوالے سے کوئی بڑا فیصلہ نہیں کرنا پڑے گا مگر یہ ہمارے آئین میں ایک خلا ہے اور موجودہ صورتحال کے بعد ہمارے قانون دانوں کو مستقبل میں اس کے لیے کوئی راستہ نکال کر رکھنا ہو گا کہ ایسی صورت میں ملک کا چیف ایگزیکٹیو کون ہو گا۔

’عمران خان کو ایک دن کے لیے بھی قائم مقام وزیِر اعظم بنانے کا رسک نہیں لیا گیا‘

@PresOfPakistan

اختیارات کی منتقلی کے اس دورانیے میں ملک کون چلا رہا ہے، اس کے جواب میں پاکستان مسلم لیگ کے گذشتہ دورِ حکومت میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور محسن شاہنواز رانجھا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک صدرِ مملکت چلا رہے ہیں‘ اور اس صورتحال میں صدر کے پاس وہی اختیار ہیں جو چیف ایگزیکٹو کے پاس ہوتے ہیں اور وہ چھوٹا بڑا ہر قسم کا فیصلہ لے سکتے ہیں۔

محسن شاہنواز رانجھا اسے آئین میں خلا ماننے سے انکار کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 94 صدر کو اختیار دیتا ہے کہ وزیراعظم کی مدت پوری ہونے کے بعد اس کے جانشین کی نامزدگی تک وہ وزیِر اعظم کو کام جاری رکھنے کا کہہ سکتے ہیں تاہم وہ کہتے ہیں گذشتہ رات وزیرِ اعظم نے جس طرح کے طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا ہے اس کے بعد ایسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ صدر انھیں (عمران خان) ایک دن کا دورانیہ بھی نہیں دے سکے۔

محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ رات کے واقعات سب کے سامنے ہیں، اور اس بات کا خطرہ تھا کہ اگر انھیں اختیار مل جائے تو وہ کوئی بھی ایسا قدم اٹھا سکتے ہیں جس سے ملکی مفاد کو خطرہ لاحق ہو جائے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ چونکہ عمران خان بطورِ وزیرِاعظم اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکے، شاید یہی وجہ ہے کہ صدر نے عمران خان کو ایک دن کے لیے بھی قائم مقام وزیِر اعظم بنانے کا رسک نہیں لیا اور انھوں نے آئین کے آرٹیکل 94 کے اختیارات اپنے پاس ہی رکھے ہوئے ہیں۔

error: