عمر شریف چلے گئے، جائے استاد خالی است

کافی دنوں سے شدید علالت کا شکار چلے آرہے کامیڈی کنگ کہلانے والے منفرد مزاحیہ فنکار نے 2 اکتوبر کی دوپہر داعی اجل کو لبیک کہا اور یوں نصف صدی کی مسکراہٹؤں کا سفر آنسؤں کے موڑ پہ پہنچ کے ختم ہوگیا - انہوں نے عمر کی 66 بہاریں دیکھیں مگر لگتا یہ ہے جیسے 266 برس کا کام کرگزرے ہیں کیونکہ اسٹیج فلم اور ٹی وی کے حوالے سے انکے کریڈٹ پہ بہت زیادہ کام ریکارڈ پہ ہے - آخری چند برسوں میں انہیں چند ایسے ذاتی صدمات کا سمانا کرنا پڑا کہ جنہوں نے انکی طبیعت اور صحت کو بری طرح سے متاثر کیا پہلے ماں کا انتقال ہوا اور پھر جوان بیٹی کا ۔۔۔ ماں سے انکی محبت مثالی تھی اور انہی کی یاد میں انہوں نے ایک رفاہی ہسپتال ' ماں' کے نام سے بنایا تھا جسکا انتظام انکی جوانسال مرحومہ بیٹی ہی سنبھالتی تھی ۔۔۔ ان دونوں کے انتقال کے بعد ان کا اپنی تیسری بیوی زریں غزل سے جائیداد کے حوالے سے ہونے والا تنازع عدالت تک جاپہنچا تو اس نے بھی ان پہ برے اثرات مرتب کیئے کیونکہ وہیل چیئر پہ بیٹھ کر عدالت میں گئے ہوئے عمر شریف کی اداس تصاویر اور اس سے متعلق خبروں نے بھی انہیں بہت نڈھال اور دل شکستہ کردیا تھا ۔۔۔ یوں شگفتہ مزاجی کا یہ استعارہ اور اسٹیج کی دنیا کا یہ بانکا تاجدار جو پہلے ہی بہت سے عوارض کا شکار تھا ، دن بدن صحت کی خرابی کے مراحل طے کرتا چلا گیا جس کا آخری موڑ یوں آیا کہ وہ علاج کے لیئے بذریعہ ایئر ایمبولینس امریکا لے جائے جارہے تھے کہ بیماری میں شدت کے باعث اثنائے راہ جرمنی پہنچائے گئے اور وہیں انہوں نے اپنی آخری سانس لی

یہاں میں یہ بھی عرض کردوں کہ میرا ان سے 1990 میں انکےاسٹیج ڈراموں کے حوالے سے چند معاملات پہ اختلاف بھی ہوا تھا اور میں نے اس حوالے سے روزنامہ جنگ کے مڈویک میگزین میں ایک مضمون بھی لکھا تھا کیونکہ مجھے یہ خدشہ تھا کہ پرمزاح اسٹیج ڈرامہ گر گھر جاپہنچے گا اور اس کا لب و لہجہ کہیں اہل شہر نہ اپنالیں سو اس پہ خصوصی تؤجہ اور احتیاط لازم ہے ( اور پھر ہوا بھی یہی ۔۔۔) میری اس تحریر کے جواب میں انہوں نے بھی اک مضمون لکھا تھا اور پھر قارئین کے اصرار پہ میرے لکھے گئے جواب الجواب کے بعد انہوں نے دوسری تحریر بھی لکھی تھی اور ان سب مضامین کوبہت شہرت و پزیرائی ملی تھی لیکن ان اختلافی مضامین میں کسی فریق نے بھی نہ تو حد کو پھلانگا تھا اور نہ ہی ذاتی دلآزاری کی کوشش کی تھی - وہ اس وقت بھی سلیبیریٹی تھے اور بہت زیادہ برا بھی مان سکتے تھے اور ذاتیات پہ اتر سکتے تھے لیکن انہوں نے اس سے قطعی گریز کیا تھا اور یقیناً یہ انکا بڑا پن تھا

درحقیقت اسٹیج کو انہوں نے جس عروج تک پہنچایا ، وہ کسی اور کے بس کی بات نہ تھی تاہم وہ لاہور کے اسٹیج پہ مقبول نہ ہوسکے جس کی وجہ وہاں کے سٹیج کا قطعی مختلف مزاج تھا کیونکہ لاہور اسٹیج پہ بالعموم کہانی کا جھنجھٹ کم ہی پالا جاتا ہے اور اسٹیج پہ وہ کچھ کردکھانے کی جسارتیں معمول ہیں کہ جو بیک اسٹیج بھی قابل دست اندازیء۔۔۔۔۔ خیر لیکن وہ فلموں میں بھی شروع کی چند فلموں تک ہی چل پائے کیونکہ ہماری اکثر فلمیں بھی عموماؐ آتشیں گرم مسالے کے فارمولے پہ ہی مبنی ہوتی ہیں ۔۔۔ وہ کچھ عرصہ سیاست میں بھی سرگرم ہوئے مگر یہ ان کا شعبہ نہ تھا مگر غلطی سے ایسی مافیائی تنظیم کے چنگل میں جکڑے گئے تھے کہ جہاں واپسی کی راہیں یکسر بند کردی جاتی ہیں اور ایسی کوششیں کرنے والوں کے لواحقین توانکی تصویروں پہ ہار بھی نہیں لٹکانے جوگے رکھے جاتے۔۔۔ وہ تو انکے نصیب اچھے تھے کہ ماں کی دعا کام آئی اور اس تنظیم پہ آسمان سے بھیجی نہیں بلکہ خود بلائی شامت آئی اور یوں ان سمیت بہتیروں کے لیئے زندہ واپسی کی راہ کھل گئی

بلا خوف تردید عرض ہے کہ عمر شریف جیسا عمدہ شاندار حاضر جواب شاید ہی کسی اسٹیج نے دیکھا ہو ۔۔ وہ نہایت فقرہ سنج اور منفرد مزاحیہ فنکار ہونے کے علاوہ دوسروں کو کاپی کرنے یا نقل کرنے کے فن میں بیحد مہارت رکھتے تھے اور سب سے زیادہ بہتر نقل بھی اس فنکار کی اتارتے تھے کی کہ جس کے وہ بیحد بڑے مداح تھے یعنی اداکار محمد علی اور وہ بھی انکی اس نقل والی پرفارمینس کو بہت پسند کرتے تھے اور عجب اتفاق ہے کہ دونوں میں حیرت انگیز مماثلت یہ بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ دونوں‌ ہی آخر میں روحانیت کی طرف مائل ہوئے اور دونوں نے اپنی قبر کے لیئے اللہ کے معروف ولیوں کے آستانوں کی قربت پانے کی وصیت کی ۔۔۔ محمدعلی لاہور میں حضرت میاں میر کے آستاں کے احاطے میں آسودہء خاک ہوئے اور اب عمر شریف کو کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازی کے مرقد مبارک کے قریبی احاطے میں آسودہء خاک ہونے کی سعادت مل رہی ہے کہ جہاں انہیں روحانی تجلیات بھی نصیب ہونگی اور ہمہ وقت انکی قبر پہ بیشمار زائرین کی طرف سے ایصال ثواب اور فاتحہ کی سوغات بھی پیہم ملتی رہے گی - اللہ کریم انکی مغفرت فرمائے