عمر عطا بندیال: ’دھیما مزاج‘ رکھنے والے پاکستان کے نئے چیف جسٹس کون ہیں؟

جسٹس عمر عطا بندیال نے بدھ کے روز پاکستان کے 28ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے۔ ایوان صدر میں ہونے والی ایک تقریب میں صدر مملکت عارف علوی نے اُن سے اس عہدے کا حلف لیا۔

’دھیما مزاج‘ رکھنے والے جسٹس عمر عطا بندیال نے منگل کو ہونے والے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی ساکھ متاثر کرنے کے طرز عمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس بارے میں کچھ نہ کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم سب کے دلوں میں ایک دوسرے کا بہت احترام ہے اور قانون سے متعلق اختلافِ رائے ہمارے ذاتی تشخص سے بالاتر ہے۔۔۔ ’مگر کچھ مبصرین جو کہ میڈیا میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، انھوں نے بالخصوص سوشل میڈیا پر عدالتی فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ججز کو ’سکینڈلائز‘ کرنے کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس طرح کا طرز عمل ناصرف غیر پیشہ وارانہ اور غیر مہذب ہے بلکہ یہ ’غیر آئینی‘ بھی ہے اور اس حوالے سے کچھ نہ کچھ ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا تھا کہ کل (ماضی) ایک اقلیت میں دیا جانے والہ فیصلہ آنے والے کل (مستقبل) میں اکثریتی فیصلے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

عدالتی سفر

جسٹس عمر عطا بندیال چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر آئندہ ایک سال، آٹھ ماہ تک براجمان رہنے کے بعد اگلے سال ستمبر میں ریٹائر ہو جائیں گے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کو سنہ 2004 میں لاہور ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔ وہ ان ججز میں شامل تھے جنھوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے سنہ2007 میں دوسرے عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف لینے سے انکار کر دیا تھا اور اس کے بعد جب سپریم کورٹ نے جولائی 2009 میں تین نومبر 2007 کو لگائی گئی ایمرجنسی کو کالعدم قرار دیا تو وہ اپنے عہدے پر بحال ہو گئے۔

جسٹس عمر عطا بندیال دو سال تک لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے اور اس کے بعد انھیں سنہ 2014 میں سپریم کورٹ کا جج تعینات کیا گیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال ایک ’دھیما مزاج‘ رکھنے والے جج تصور کیے جاتے ہیں اور بینکنگ، ٹیکس اور جائیداد کے اُمور کے معاملات پر مہارت رکھتے ہیں۔ وہ لاہور ہائی کورٹ کا جج بننے سے پہلے وکالت کرنے کے ساتھ ساتھ پنجاب یونیورسٹی لا کالج میں تدریس کے کام سے بھی منسلک رہے ہیں۔

سپریم کورٹ میں بطور جج کارکردگی

عمر عطا بندیال، سپریم کورٹ، پاکستان
،تصویر کا کیپشن’کل (ماضی) ایک اقلیت میں دیا جانے والہ فیصلہ آنے والے کل (مستقبل) میں اکثریتی فیصلے میں تبدیل ہو سکتا ہے‘

سپریم کورٹ میں بطور جج جسٹس عمر عطا بندیال نے مختلف مقدمات کی سماعت کی اور وہ اس بینچ کا بھی حصہ تھے جنھوں نے وزیرِ اعظم عمران خان کو ’صادق‘ اور ’امین‘ قرار دیا تھا۔

اس کے علاوہ انھوں نے اپنی سنیارٹی کے مطابق بہت سے بینچز کی سربراہی کی تاہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرنے والے پہلے سات رکنی بینچ اور پھر اس سات رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی کی اپیلوں کی سماعت کے لیے 10 رکنی بینچ کی سربراہی بھی کی۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی نرمی اور دھیمے مزاج کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان درخواستوں کی سماعت کے دوران اس وقت کے اٹارنی جنرل انور منصور نے بینچ کے ججز پر الزام لگایا کہ وہ اس معاملے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی معاونت کر رہے ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے پہلے تو اس بارے میں ردعمل نہیں دیا لیکن وقفے کے دوران جب بینچ میں موجود دیگر ججز نے اس وقت کے اٹارنی جنرل کے الزام پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تو جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے ان ججز کا نام لینے کا کہا جنھوں نے ان کے بقول قاضی فائز عیسیٰ کی مبینہ مدد کی ہے۔

انور منصور اس کا جواب نہ دے سکے اور اسی معاملے پر انھیں اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے بعد کا فیصلہ جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا اور اس فیصلے میں انھوں نے جہاں ایک طرف صدارتی ریفرنس کو مسترد کیا وہیں 200 صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں انھوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جائیدادوں سے متعلق اکٹھی کی گئی تفصیلات کو بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔

تاہم اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت کرنے والے 10 رکنی بینچ کی سربراہی اگرچہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کی تھی تاہم نظرثانی کی درخواستوں پر فیصلہ چار کے مقابلے میں چھ کے تناسب سے آیا اور اس اکثریتی فیصلے میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کی طرف سے دیے گئے ان احکامات کو کالعدم قرار دے دیا گیا جو انھوں نے ایف بی آر کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور ان کے بچوں کی جائیداد سے متعلق تحقیقات کے لیے دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ کا 35 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب جسٹس عمر عطا بندیال کے چیف جسٹس بننے میں چند روز باقی تھے۔

اس تفصیلی فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر سات رکنی بینچ کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا جس کا اظہار جسٹس عمر عطا بندیال نے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے سے دو روز قبل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے دیے گئے عشائیے میں بھی کیا اور انھوں نے کہا کہ ’فیصلوں پر تنقید کریں منصف پر نہیں۔‘

از خود نوٹس کون لے سکتا ہے؟

وکلا کا ایک دھڑا جسٹس عمر عطا بندیال کے اس فیصلے سے بھی ناخوش ہے جو انھوں نے قائم مقام چیف جسٹس کی حیثیت سے از خود نوٹس لینے کے بارے میں دیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ از خود نوٹس لینے کا اختیار صرف چیف جسٹس کے پاس ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے قائم مقام چیف جسٹس کی حیثیت سے یہ معاملہ اس وقت اٹھایا تھا جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صحافیوں کے اغوا اور ان پر تشدد کے معاملے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے کو طلب کیا تھا۔

سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آئین میں کسی بھی معاملے کا ازخود نوٹس لینے کے اختیار کے بارے میں چیف جسٹس کا نہیں بلکہ سپریم کورٹ کا ذکر کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے چیف جسٹس سارے اختیارات اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جسٹس عمر عطا بندیال کے بعد سپریم کورٹ کے سب سے سینیئر جج ہیں اور ان کی عدم موجودگی میں وہ پاکستان کے قائم مقام چیف جسٹس ہوں گے۔

گذشتہ روز سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے جب سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس گلزار احمد اور نامزد چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے اعزاز میں عشائیہ دیا تھا تو اس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شرکت نہیں کی تھی۔

قاضی فائز عیسیٰ، سپریم کورٹ، پاکستان

پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین عابد ساقی کا کہنا ہے کہ اختلاف رائے ہونا تو الگ بات ہے لیکن اعلیٰ عدلیہ کے ججز میں تفریق کا تاثر کافی مضبوط ہے اور اس کی جھلک متعدد بار مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران ججز کی حرکات و سکنات سے مل چکی ہے۔

پاکستان بار کونسل نے سابق چیف جسٹس گلزار احمد کی ریٹائرمنٹ پر منعقد ہونے والے فل کورٹ ریفرنس میں جہاں اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی میں سنیارٹی کو مدنظر نہ رکھنے پر جسٹس گلزار احمد پر تنقید کی تو وہیں آنے والے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے یہ امید بھی لگائی کہ وہ اس معاملے پر وکلا تنظیموں کے مطالبے پر عمل درآمد کریں گے۔

تاہم عابد ساقی کے مطابق پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سمیت وکلا تنظیموں کے اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی میں سنیارٹی کو مدنظر رکھنے کے مطالبے پر شاید جسٹس عمر عطا بندیال کے چیف جسٹس بننے پر بھی عمل درآمد نہ ہو سکے۔

واضح رہے کہ اس سال سپریم کورٹ کے پانچ جج صاحبان اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے اور جوڈیشل کمیشن خالی ہونے والی ان سیٹوں پر ججز کی تعیناتی کی سفارش کرے گا۔ جوڈیشل کمیشن کی سربراہی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کریں گے۔

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے لے کر اب تک جتنے بھی چیف جسٹس گزرے ہیں ان میں سے متعدد پر وکلا کی طرف سے یہ تنقید کی جاتی رہی ہے کہ وہ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی میں سنیارٹی کو مدنظر رکھنے کے بجائے ذاتی پسند اور ناپسند کو اہمیت دیتے ہیں۔