عوامی مقامات پر مردوں کی نازیبا حرکتیں: ’ایسا محسوس ہوا جیسے میرا جسم سُن ہو گیا ہو‘

’میں میٹرو بس سے نکل کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئی تھی کہ میں نے دیکھا کہ نیم برہنہ حالت میں کھڑا ایک شخص مجھے دیکھتے ہوئے ماسٹربیٹ (مشت زنی) کر رہا تھا۔ اُس نے مجھے اپنے پاس بلایا۔ میں نے پاس کھڑے ایک اور شخص سے مدد مانگی اور کہا کہ آپ دیکھیں وہ کیا حرکت کر رہا ہے۔ وہ شخص اُس کے پاس گیا اور واپس آ کر مجھے کہنے لگا کہ وہ رفع حاجت کر رہا ہے۔‘

’جب یہ واقعہ ہوا تو اس وقت میں نے شلوار قمیض پہن رکھی تھی اور دوپٹہ لے رکھا تھا اور میں سوچ رہی تھی کہ میرے لباس اور حلیے میں ایسا کیا تھا کہ اُس شخص نے مجھے دیکھ کر یہ سب کیا؟‘

یہ واقعہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک لڑکی نے پوسٹ کیا اور لکھا کہ ’میں ابھی تک کانپ رہی ہوں۔‘

عوامی مقامات پر ایسا واقعہ کسی لڑکی کے ساتھ پہلی مرتبہ پیش نہیں آیا۔ پاکستان کی بیشتر خواتین ایسی ہیں جو عوامی مقامات پر اس قسم کی ہراسانی کا سامنا کر چکی ہیں۔ اب سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کے عوامی مقامات خواتین کے لیے جائے ممنوعہ بنتے جا رہے ہیں۔

’بے حیائی کپڑوں سے پھیلتی ہے تو ایک سال کی بچی کا ریپ کیوں ہوتا ہے‘

مشت زنی، جنسی ہراسانی، خواتین
،تصویر کا کیپشن’تو آپ اس راستے سے جاتی ہی کیوں ہیں؟ گھر آنے جانے کے لیے کوئی رکشہ لگوا لیں‘

لاہور سے تعلق رکھنے والی فروا وحید نے اس موضوع پر بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے کئی مرتبہ ہراساں کیا گیا ہے حالانکہ میں برقعہ پہنتی تھی۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’میں لاہور کی پنجاب یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھی اور گھر سے یونیورسٹی تک بس پر آتی جاتی تھی۔ ایک روز جب میں 15 نمبر گیٹ سے باہر نکلی تو سامنے کھڑے ایک رکشے میں ڈرائیور بس سٹاپ پر کھڑی لڑکیوں کو دیکھ کر مشت زنی کر رہا تھا۔ اس کے اس عمل پر مجھ سمیت تمام لڑکیاں چپ رہیں اور اپنا منھ ایسے چھپا رہی تھیں کہ جیسے انھوں نے کوئی گناہ کر دیا ہو۔‘

’خیر اگلے روز اسی رکشہ ڈرائیور نے دوبارہ یہی حرکت کی اور آہستہ آہستہ یہ اس کا معمول بن گیا۔ میں نے ایک دن گیٹ پر موجود گارڈ سے شکایت کی تو گارڈ بولا کہ ’تو آپ اس راستے سے جاتی ہی کیوں ہیں؟ بس سٹاپ پر مت کھڑی ہوا کریں اور گھر آنے جانے کے لیے کوئی رکشہ لگوا لیں۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’اُس دن جب میں گھر گئی تو مرا دل بہت خراب ہوا۔ ایسا گند دیکھنے کے بعد میرا سارا دن کچھ کھانے پینے کو دل نہیں کیا اور ساتھ ہی ساتھ طبعیت بھی خراب ہو گئی۔ آج بھی کبھی اس واقعے کے بارے میں سوچتی یا بات کرتی ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی بھی میرے سامنے وہ رکشہ ڈرائیور وہی حرکت کر رہا ہے۔‘

فروا کہتی ہیں کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ آپ کہیں نظر دوڑا لیں ایسے واقعات آئے روز پیش آتے ہیں جن کا وہ خود کئی بار شکار ہو چکی ہیں۔

’لڑکیوں کو ہمیشہ یہی کہا جاتا ہے چپ ہو جاؤ۔ گند میں ہاتھ ڈالنے سے انسان خود گندا ہوتا ہے۔ ایسے واقعات پر خواتین کو زیادہ تر خاموش رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے اور یہ خاموشی ایسے شخص کی مزید حوصلہ افزائی کرتی ہے۔‘

’اب میں فیلڈ میں کام کرتی ہوں لیکن آج بھی میں باہر جاتی ہوں تو یہ سننے کو ملتا ہے کہ آپ نے سر پر دوپٹہ نہیں لیا، کیسے کپڑے پہنے ہوئے ہیں، آپ جیسی لڑکیوں کی وجہ سے بے حیائی پھیلتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ مجھے کوئی یہ بتائے کہ اگر بے حیائی کپڑوں سے پھیلتی ہے تو سال کی بچی کا ریپ کیوں ہوتا ہے۔‘

’شور مت مچانا، بس خاموشی سے مجھے بلا لینا‘

مشت زنی، جنسی ہراسانی، خواتین
،تصویر کا کیپشنکامران اور ان کی اہلیہ

کامران اور ان کی اہلیہ لاہور کی ایک نجی سوسائٹی میں رہتے ہیں جہاں شام ڈھلتے ہی خواتین، بچے اور فیملیز گھروں سے باہر واک کرنے کے لیے نکلتے ہیں۔

کامران بتاتے ہیں کہ ’میری اہلیہ عموماً چھت پر واک کر لیتی ہیں۔ ایک روز جب وہ چھت پر موجود تھیں تو انھوں نے دیکھا کہ ایک لڑکا ہمارے گھر کی دیوار کے ساتھ کھڑا مشت زنی کر رہا تھا اور سامنے لڑکیاں واک کر رہی تھیں۔

’اس وقت میں گھر پر موجود نہیں تھا۔ میری اہلیہ بھی اس وقت خاموش رہیں۔ لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ ایسی نازیبا حرکتیں کرنا اس لڑکے کا معمول بن گئی ہیں اور روزانہ ہماری گھر کی دیوار کے ساتھ کھڑا ہو کر یہ کرتا ہے تو انھوں نے مجھ سے شکایت کی۔ ‘

’میں نے اپنی اہلیہ سے کہا اب جب بھی تم اسے یہ کرتے دیکھو تو شور مت مچانا، بس خاموشی سے مجھے بلا لینا۔ اگلے روز بھی ایسا ہی ہوا۔ جب میں نے جا کر لڑکے کو رنگے ہاتھوں پکڑا تو ارد گرد کے لوگ بھی جمع ہو گئے اور سب نے اسے مارنا شروع کر دیا۔ ہنگامہ دیکھ کر سوسائٹی کے گارڈ بھی آ گئے۔ میں نے کہا کہ پولیس کو فون کریں اور اسے ان کے حوالے کریں۔

’جو بات میرے لیے سب سے زیادہ حران کن تھی، وہ یہ تھی کہ وہاں موجود ہر شخص نے مجھے پولیس کو فون کرنے سے روک دیا اور کہنے لگے کہ چھوڑیں کامران صاحب بچہ لمبا پھنس جائے گا پولیس کے معاملات میں، اس لیے جانے دیں، اور اس کے باپ اور بھائی کو بلا کر ان کے حوالے کر دیا۔

’مجھے آج بھی اس بات کا افسوس ہے کہ ہم کھلے عام مشت زنی کرنے کو کسی قسم کا جرم نہیں سمجھتے اور نا ہی ایسے لوگوں کے خلاف کوئی سخت قانون موجود ہے۔‘

مشت زنی، جنسی ہراسانی، خواتین

’ایسا محسوس ہوا جیسے میرا جسم سُن ہو گیا ہے‘

لاہور ہی کے کالج کی ایک طالبہ نے اپنی کہانی کچھ اس طرح سُنائی۔

’عوامی مقامات پر اکثر لوگ نازیبا حرکتیں اور خواتین کو ہراساں کرتے ہیں چاہے وہ پڑھا لکھا مرد ہو یا پھر ان پڑھ۔ میں کالج کے آخری سال میں ہوں اور ہمارا کالج لاہور کی انار کلی کے قریب ہے۔

’مجھے یاد ہے کہ میں اور میری دوستیں روزانہ فارغ وقت میں انار کلی جایا کرتے تھے اور چند مخصوص جگہوں سے کھانا کھایا کرتے تھے۔ کچھ دن نوٹس کرنے کے بعد ہم نے دیکھا کہ دو لڑکے روزانہ ہمارا پیچھا کرتے ہیں۔ ہم نے اس بات پر زیادہ توجہ نہیں دی۔

’تاہم جب ایک دن میں اپنی دوستوں سے کچھ پیچھے رہ گئی تو میں نے دیکھا کہ ان میں سے ایک لڑکا سائیڈ پر کھڑا مجھے دیکھتے ہوئے اپنی پتلون میں ہاتھ ڈال کر ہلا رہا تھا۔ میں خاموشی سے گزر رہی تھی کہ وہ میرے پاس آیا اور میرے سینے کو ہاتھ لگا کر کہا کہ ’میرے پاس آ جاؤ۔‘

’مجھے اُس وقت کچھ سمجھ ہی نہیں آیا اور ایسا محسوس ہوا جیسے میرا جسم سُن ہو گیا ہے اور میں کسی قسم کی حرکت کرنے کے قابل نہیں رہی ہوں۔ یہ وہ مرد ہیں جن کے جذبات اور ہارمونز ان کے قابو میں نہیں ہیں۔‘

غانیہ کہتی ہیں کہ اس واقعے کی وجہ سے اُنھیں لڑکوں اور جسمانی تعلقات سے نفرت ہو گئی ہے ’کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ صرف ایک گند ہے اور یہی وجہ ہے کہ میرا دل ہی نہیں کرتا کہ میں شادی کروں۔‘

’عوامی مقامات مردوں کے علاوہ عورتوں کے لیے بھی ہیں‘

بشریٰ، فاطمہ

بشریٰ اور فاطمہ ایسے ہی معاشرتی رویوں کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ وہ دونوں مزید کچھ لڑکیوں کے ساتھ مل کر مختلف پارکس میں مل کر بیٹھتی ہیں اور سوچتی ہیں کہ وہ کس طرح عورتوں کے بارے میں معاشرے میں پائی جانے والی منفی سوچ سے لڑیں۔

وہ چاہتی ہیں کہ کم از کم خواتین عوامی مقامات پر اپنے آپ کو محفوظ محسوس کریں۔

بشریٰ کا کہنا ہے کہ ’میں ایک دن اکیلی پارک میں بیٹھی تھی تو کچھ دیر بعد گارڈ آیا اور مجھ سے پوچھنے لگا کہ بی بی یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہو؟‘

فاطمہ کے مطابق عوامی مقامات پر کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں خواتین کو ہراساں نہ کیا جاتا ہو، ہاں یہ فرق ضرور ہے کہ عورتوں کو ہراساں کرنے کے طریقے مختلف ہیں۔

’آپ بازار میں چلے جائیں تو آتے جاتے کئی مرد آپ کو چھونے کی کوشش کرتے ہیں، کوئی جاتے جاتے سینے پر ہاتھ لگا دیتا ہے تو کوئی کہیں۔ سڑک پر ہم چل نہیں سکتے دو قدم چلیں تو آوازیں کسنا شروع کر دیتے ہیں۔ عورتیں جائیں کہاں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ عورت جس بھی عوامی مقام پر ہو، وہ محفوظ ہو۔ ہم ہر جگہ آ سکیں، آرام سے جا سکیں، جو ہمارا بنیادی حق ہے۔ تاہم ہمارے معاشرے میں بیشتر مرد چاہتے ہیں کہ عورت گھر کے کسی کمرے میں بند ہو رہے۔ اور اسی سوچ کے خلاف ہماری جنگ ہے۔‘

مشت زنی، جنسی ہراسانی، خواتین
،تصویر کا کیپشنرواں سال اگست میں مینارِ پاکستان پر 400 سے زائد افراد کے ہجوم نے ایک خاتون کے ساتھ دست درازی کی تھی

پنجاب میں خواتین کے خلاف 20 ہزار سے زائد جرائم

صحافی شاہد اسلم کو بی بی سی کے لیے سینٹرل پولیس آفس پنجاب سے موصول ہونے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں برس جنوری سے ستمبر تک پنجاب بھر میں کل 20 ہزار 500 سے زائد ایسے جرائم رپورٹ ہوئے جن میں خواتین جنسی یا جسمانی طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔

خواتین کے حوالے سے درج ان مقدمات میں تقریباً 39 ہزار 500 کے قریب ملزمان ملوث تھے۔ ان میں ساڑھے 15 ہزار سے زائد وہ ملزمان ہیں جنھوں نے خواتین کو اُن کی مرضی کے خلاف شادی کرنے اور اُنھیں زبردستی جنسی تعلقات قائم کرنے کی غرض سے اغوا کیا تھا۔

اب تک درج کل مقدمات میں سے 8450 مقدمات میں پولیس نے تفتیش مکمل کر کے چالان متعلقہ عدالتوں میں جمع کروا دیا ہے جبکہ 6600 مقدمات تاحال زیر تفتیش ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسی دورانیے میں 5900 کے قریب مقدمات مختلف وجوہات کی بنیاد پر خارج ہوئے، جن میں آدھے سے زیادہ تعداد (3117) تعزیراتِ پاکستان (پی پی سی) کی دفعہ 365 B کے تحت درج مقدمات کی تھی جن میں خواتین کو ان کی مرضی کے خلاف زبردستی شادی کی غرض سے اغوا کرنا شامل ہے۔

ان مقدمات میں ملوث ملزمان میں سے اب تک صرف چھ ملزمان کو ہی سزا دی جا سکی ہے جبکہ 13 ملزمان عدالتوں سے بری ہو گئے۔ اسی طرح باقی مقدمات عدالتوں میں تاحال زیر سماعت ہیں۔

پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 354 (عورت کی شائستگی کو مجروح کرنے کے ارادے سے اس پر حملہ یا مجرمانہ طاقت کے استعمال) کے تحت جنوری سے ستمبر تک پنجاب میں خواتین کو ہراساں کرنے کے کُل چار ہزار سے زائد مقدمات رپورٹ ہوئے ہیں۔

سینٹرل پولیس آفس سے حاصل کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان چار ہزار سے زائد مقدمات میں سے 2300 سے زائد مقدمات کا چالان متعلقہ عدالتوں میں جمع کروا دیا گیا ہے جبکہ 250 سے زائد مقدمات خارج کر دیے گئے ہیں۔

عثمان مرزا
،تصویر کا کیپشنعثمان مرزا کی جانب سے اسلام آباد میں لڑکے لڑکی پر تشدد اور اُنھیں برہنہ کر کے ویڈیو بنانے کے جرم میں فرد جرم عائد کی جا چکی ہے

ایک مقدمہ ابھی تک ایسا ہے جس میں کوئی سراغ نہیں لگایا جا سکا جبکہ 1200 سے زائد مقدمات اب بھی زیر تفتیش ہیں۔

پنجاب پولیس کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان 4000 سے زائد مقدمات میں کُل 10 ہزار کے قریب ملزمان ملوث تھے جن میں سے 5700 کے قریب گرفتار کر لیے گئے جبکہ باقی تاحال مفرور ہیں۔

اسی طرح پنجاب کے ان چار مقدمات میں سے اس سال ابھی تک صرف ایک کیس میں ملزمان کو سزا ہو سکی ہے جبکہ دو مقدمات میں ملزمان بری ہو گئے۔

اس کے علاوہ خواتین کے حوالے سے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 376, 506, 509 اور ٹیلی گراف ایکٹ کی دفعہ 25 D کے تحت کل 766 مقدمات درج ہوئے جن میں سے 80 کے قریب خارج ہو گئے جبکہ 550 سے زائد مقدمات میں چالان جمع کروایا جا چکا ہے۔

ان مقدمات میں کُل 1100 کے قریب ملزمان ملوث تھے جن میں سے 800 کے قریب گرفتار کر لیے گئے جبکہ باقی تاحال مفرور ہیں اور ان مقدمات میں ابھی تک کسی بھی ملزم کو سزا نہیں مل سکی اور مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

اسی طرح خواتین کے حوالے سے جنسی تشدد (سیکشوئل وائلنس) کے کل 2900 سے زائد مقدمات رپورٹ ہوئے جن میں صرف ریپ اور گینگ ریپ کے مقدمات کی تعداد 2830 کے لگ بھگ تھی۔

ان 2900 مقدمات میں تقریباً 4300 کے لگ بھگ ملزمان ملوث تھے جن میں سے تقریباً 2500 کے قریب گرفتار ہوئے اور اب تک تقریباً 1650 کے قریب کیسیز کا چالان بھی جمع کروایا جا چکا ہے لیکن تاحال کسی ملزم کو سزا نہیں مل سکی۔

اس طرح پنجاب پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب بھر میں جنوری سے ستمبر تک تقریباً 750 کے قریب خواتین قتل کر دی گئیں جن میں 300 کے قریب کا قتل گھریلو تشدد جبکہ 150 کے قریب خواتین کا قتل غیرت کے نام پر ہوا۔

ان 750 خواتین کے قتل میں ملوث ملزمان کی کُل تعداد 3200 سے زائد تھی جن میں سے 2000 کے قریب ملزمان گرفتار بھی ہوئے لیکن ان میں سے کسی ایک ملزم کو بھی ابھی تک سزا نہیں مل سکی اور ان کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

اسی طرح ابھی تک پنجاب میں اس سال خواتین کے قتل کی کوشش کے کل 250سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 760 کے قریب ملوث ملزمان میں سے کسی ایک کو بھی سزا نہیں مل سکی۔

پنجاب میں خواتین پر تشدد کے کُل 1260 سے زائد مقدمات رپورٹ ہوئے جن میں 3800 سے زائد ملوث ملزمان میں سے کسی ایک کو بھی سزا نہیں مل سکی۔

مشت زنی، جنسی ہراسانی، خواتین
،تصویر کا کیپشنرواں سال جولائی میں نور مقدم نامی خاتون قتل ہوئیں تھیں، جس کے الزام میں ظاہر جعفر گرفتار ہیں

پنجاب پولیس کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے ستمبر تک پنجاب میں خواتین کے اغواء کے کُل 10 ہزار 200 کے قریب مقدمات درج ہوئے جن میں 16 ہزار سے زائد ملوث ملزمان میں سے اب تک پانچ کو سزا مل سکی ہے۔

خواتین پر تیزاب پھینکے کے کُل 24 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں کُل 40 کے قریب ملزمان میں سے بھی کسی ایک کو سزا نہیں مل سکی۔ونی کے ایک مقدمے میں ملوث 10 ملزمان کو بھی تاحال سزا نہیں مل سکی۔

سی سی پی او لاہور ایڈیشنل آئی جی غلام محمود ڈوگر کے مطابق لاہور میں صرف اگست کے مہینے کے دوران خواتین کو ہراساں کرنے کے 400 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ اس سال لاہور شہر میں خواتین کو ہراساں کرنے کے اب تک 1060 سے زائد مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔

اس کے علاوہ لاہور شہر میں جنوری سے ستمبر تک تقریباً خواتین کے حوالے سے کل 3300 کے قریب مقدمات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں 140 کے قریب خواتین کے قتل، 50 کے قریب خواتین کے قتل کی کوشش، 120 سے زائد خواتین سے مار پیٹ ،320 سے زائد مقدمات خواتین پر جنسی تشدد (ریپ و گینگ ریپ) کے اور 1980 سے زائد مقدمات خواتین کے اغوا کے متعلق رپورٹ ہوئے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: