عورت مارچ اسلام آباد کی منتظمین کے خلاف پشاور سیشن کورٹ کے فیصلے کی مذمت

عورت آزادی مارچ اسلام آباد نے پشاور کی ایک سیشن عدالت کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے جس میں عورت آزادی مارچ اسلام آباد کی منتظمین کے خلاف مبینہ طور ہر ’فحش پوسٹر‘ اٹھانے اور ضابطہ فوجداری کے سیکشن 22 اے کے تحت الزام کے مطابق مذہبی طور پر 'گستاخانہ کلمات' کہنے پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

مقامی وکلاء کی جانب سے دائر درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ آٹھ مارچ کو اسلام آباد میں ہونے والی عورت مارچ کے دوران غیر اسلامی حرکات کی گئیں اور اس دوران فحش بینر لہرائے گئے اور گستاخانہ کلمات ادا کیے گئے جس سے متعدد افراد سمیت ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔

عدالت نے ان الزامات کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے سیکشن 22 اے ک تحت پشاور کے تھانے ایسٹ کینٹ کو ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔

ادھر عورت آزادی مارچ اسلام آباد نے پشاور سیشن کورٹ کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ جن جھوٹی ویڈیوز اور تصاویر کی بنیاد پر یہ مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ دیا گیا ہے ان کی وضاحت ہم اس سے قبل بھی کئی مرتبہ کر چکے ہیں۔

خیال رہے کہ عورت مارچ کے ایک پوسٹر اور ویڈیو کو بنیاد بنا کر توہین مذہب کے الزامات پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں تاہم عورت مارچ کے منتظمین بارہا یہ واضح کر چکی ہیں کہ جس وڈیو کو شیئر کیا جا رہا ہے وہ اصل نہیں ہے اور ان کی ایک وڈیو کو ایڈٹ کر کے بنائی گئی ہے۔

عورت مارچ اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عدالت کی جانب سے ایسی درخواست پر مقدمہ درج کروانا عورت مارچ کے منتظمین کو شدید خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

اس حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ اس سے قبل وفاقی وزیر فواد چوہدری اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے مذہبی امور طاہر اشرفی بھی ان جھوٹے الزامات اور ایڈٹڈ ویڈیوز کے حوالے سے انکوائری کرنے اور ذمہ داران کو سزا دینے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

اعلامیے میں وزیرِ اعظم اور چیف جسٹس سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس دوران مداخلت کرتے ہوئے عورت مارچ اسلام آباد کے خلاف اس نفرت آمیز مہم کا خاتمہ کریں۔

اس کے علاوہ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بھی پشاور کی مقامی عدالت کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس فیصلے نے منتظمین کی زندگی خطرے میں ڈال دی ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عورت مارچ کے شرکا ایک میدان میں بیٹھے ہیں اور ایک خاتون عورت کی آزادی سے متعلق نعرے لگا رہی ہیں۔ اس ویڈیو میں سکرین پر وہ الفاظ لکھے ہوئے نظر آ رہے ہیں جو خواتین نے اپنے نعروں میں نہیں کہے اور دیکھنے والوں کو دھوکہ ہوتا ہے کہ شاید خواتین بھی وہ کہہ رہی ہیں جو سکرین پر لکھا نظر آ رہا ہے۔

عورت آزادی مارچ کراچی کے ٹوئٹر ہینڈل کی جانب سے اس نعرے بازی کی اصل ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں لیے جانے والے ناموں کو واضح طور پر سنا جا سکتا ہے اور اس حوالے سے عورت مارچ کی جانب سے متعدد مرتبہ وضاحت بھی دی جا چکی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *