عید الاضحیٰ کے موقع پر کورونا وائرس کے دوباہ سر اٹھانے کا خدشہ

اسلام آباد: کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے عائد پابندیاں اٹھائے جانے کے محض 2 ہفتوں بعد ہی ملک میں انفیکشنز اور کیسز مثبت آنے کی شرح دوبارہ بڑھنا شروع ہوگئی ہے۔

 رپورٹ کے مطابق ماہرین صحت کو خدشہ ہے کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر وائرس کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع مل سکتا ہے۔

دریں اثنا عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بین الاقوامی سفر کے لیے ممالک کو نئی رہنما ہدایات جاری کی ہیں جس میں تجویز کیا گیا ہے کہ کسی ملک میں داخلے اور اخراج کے لیے کووڈ ویکسی نیشن کا ثبوت شرط نہیں ہونا چاہیے۔

خیال رہے کہ 9 جون کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے متعدد فیصلے کیے تھے جس میں 15 جون سے پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ بھی شامل تھا۔

این سی او سی نے سرکاری ملازمین کے ویکسین لگوانے کی حتمی تاریخ 30 جون مقرر کی تھی، 18 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے واک ان ویکسی نیشن کی سہولت 11 جون سے شروع کی گئی تھی اور ویکسی نیشن مراکز کے اوقات کار کو صبح 8 بجے سے رات 10 بجے تک کر دیا گیا تھا۔

15 جون سے ہفتے میں 2 دن کاروباری بندش کو ختم کرکے ایک روز کردیا تھا جبکہ ویکسی نیٹڈ افراد کے لیے انڈور جمز بھی کھولنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

50 فیصد ملازمین کے گھر سے کام کرنے کی پالیسی ختم کرکے دفاتر میں 100 فیصد حاضری کی اجازت دے دی گئی تھی، اسی طرح بین الصوبائی ٹرانسپورٹ پر 2 دن کی پابندی اٹھاتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ میں 50 فیصد کے بجائے 70 فیصد مسافروں کو بٹھانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

27 جون کو دنیا اور ملک میں کووِڈ کی صورتحال مزید بہتر ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی پروازوں کی آمد کو مرحلہ وار معمول پر لانے کا فیصلہ کیا گیا، ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ والے افراد کے لیے گھروں میں قرنطینہ کی شرط ختم کردی گئی تھی اور ایئرپورٹ پر کورونا مثبت آنے والے افراد کو حکومتی ہسپتالوں کے بجائے گھروں میں قرنطینہ کی اجازت دے دی گئی تھی۔

این سی او سی کی ویب سائٹ کے مطابق 25 جون کو کورونا کے نئے کیسز کی تعداد 4 ہندسوں سے کم ہو کر 3 ہندسوں تک رہ گئی تھی اور 27 جون کو تقریباً 900 جبکہ 28 جون کو کیسز کی تعداد کم ہو کر 735 تک ہوگئی تھی۔

تاہم کیسز کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہونا شروع ہوا اور صرف ایک ہفتے میں دوبارہ دگنے ہوئے، جون میں کیسز مثبت آنے کی شرح 2 فیصد ہوگئی تھی لیکن اب یہ 3 فیصد ہوگئی ہے۔

ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ وزارت کو معلوم تھا کہ تمام پابندیاں ختم کیے جانے سے صورتحال خراب ہونا شروع ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ 'اب کاروبار کھل چکے، ہفتے کے اختتام پر شہروں کے درمیان ٹرانسپورٹ پر سے پابندیاں ختم اور تعلیمی اداروں میں کلاسز بحال کردی گئیں، لوگ بند شادی ہالز میں تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں، عید کی خریداری کر رہے ہیں، یہ سب وائرس پھیلنے کی وجوہات بن رہی ہیں اور ہمیں خدشہ ہے کہ عید کے بعد دوبارہ وائرس پھیل سکتا ہے۔

ایک دوسرے عہدیدار کا کہنا تھا کہ دنیا سنگین عالمی وبا کی زد میں ہے اور پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔

وزارت قومی صحت کے ترجمان ساجد شاہ نے ڈان کو بتایا کہ اب تک ملک میں کورونا سے بچاؤ کی ویکسین کی ایک کروڑ 67 لاکھ خوراکیں لگائی جاچکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سائنوفارم کی 20 لاکھ خوراکیں چین سے اسلام آباد پہنچنے والی ہیں۔

ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کو سفر کیلئے شرط نہ بنایا جائے، عالمی ادارہ صحت

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے کووِڈ 19 کے تناظر میں ممالک کو نئی رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔

ان ہدایات کے اہم نکات یہ ہیں کہ عالمی وبا کے دوران بین الاقوامی سفر کو ضروری مقاصد کے لیے ترجیح دی جائے جس میں ہنگامی انسانی امدادی مشنز، اہم افراد کے سفر، وطن واپسی اور ضروری اشیا کا کارگو ٹرانسپورٹ شامل ہے۔

اس حوالے سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ کسی ملک میں داخلے یا اخراج کے لیے کووِڈ ویکسی نیشن کا ثبوت شرط نہیں ہونی چاہیے۔

ساتھ ہی کہا گیا کہ بین الاقوامی سفر کے لیے ٹیسٹنگ یا قرنطینہ کو شرط بنانے والے حکام ویکسی نیشن یا پہلے وائرس کا شکار ہونے سے حاصل ہونے والی قوت مدافعت کی بنیاد پر ان اقدامات سے استثنیٰ دینے کے انفرادی طریقوں پر غور کر سکتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا تھا کہ جہاز میں سوار ہوتے ہوئے اور پرواز کے دوران ذاتی حفاظتی اقدامات مثلاً ماسک کا استعمال اور سماجی فاصلے کے اقدامات تمام بین الاقوامی مسافروں کو جاری رکھنے چاہیے۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ بین الاقوامی مسافروں کو پہلے سے کووِڈ 19 کا مشتبہ کیس یا رابطے میں آنے والا فرد یا ٹیسٹنگ کے لیے ترجیحی گروہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

عالمی ادارہ صحت نے اپنی ہدایات میں مزید کہا کہ جب سفر سے متعلق بین الاقوامی اقدامات کا فیصلہ اور ان پر عمل درآمد کیا جائے تو کمیونٹیز کی مجموعی صحت اور دیکھ بھال کو مدِنظر رکھا جائے اور ان اقدامات سے بروقت عوام کو آگاہ کیا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *