عید الفطر اور مصر کی مختلف روایات

عید الفطر خوشی اور مسرت کے اظہار کا دن ہوتا ہے۔ یہ روزے کی تکمیل کا جشن ہے اور مسلمانوں کا ایک مذہبی تہوار ہے جسے پوری دنیا میں بسنے والے مسلمان ماہ رمضان کا مہینہ ختم ہونے پر مناتے ہیں۔ عید الفطر میں دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمانوں کی روایات ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں۔ کیونکہ یہ روایات مذہب اسلام سے تعلق رکھتی ہیں اس لئے دنیا بھر میں عید یکجہتی کی ایک عمدہ مثال ہے۔ دنیا بھر میں مسلمان عید کے موقع پر ایک ساتھ مل کر عید کی نماز ادا کرتے ہیں اور گلے مل کر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ اپنے کنبے، لواحقین، دوستوں اور پروسی سے ملتے ہیں اور مہمانوں کا اپنے گھر استقبال کرتے ہیں۔ زکواة اسلام کے پانچ اہم رکن میں ایک اہم رکن ہے جسے ہر مسلمان ادا کرتے ہیں اور غریبوں میں کپڑوں سے لے کر اناج باغ کر ان کے ساتھ ہمدردی کرتے ہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود پھر بھی پوری دنیا میں عید الفطر کی روایتوں کے متعلق مختلف ممالک کے مسلمانوں کے انداز میں فرق پایا جاتا ہے۔
اسی طرح مصر میں عید الفطر سے کچھ خاص روایات جڑی ہوتی ہیں۔ یہاں ماہ رمضان کے آخری دس دنوں میں عید کا جشن منانا شروع ہوتا ہے۔ چنانچہ لوگ خاص طور پر بچوں کے لئے نئے لباس خریدتے ہیں عید کے استقبال کا ایک لازمی حصہ ہے۔ جس کی وجہ سے رمضان کے آخری دنوں میں کپڑوں کی دکانوں میں کافی بھیڑ بھاڑ ہوتی ہے۔ نئے لباس اور جوتوں کی مانگ میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ سڑکوں پر لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عید کے موقع پر مصر کے بازاروں میں کافی فروغ پذیر ہوتا ہے۔ رمضان کے آخری ہفتے میں خاص طور پر عوامی جگہوں پر عید الفطر کا خاص کھانا تیار کرنے کے لئے گھریلو خواتین جمع ہوتی ہیں جبکہ کچھ خاندان اس کھانے کو خریدنے کا سہارا بنتی ہیں۔ مصر میں عید الفطر میں سب سے مشہور خاص کھانا (کحک) ہے۔ کحک آٹا، دودھ، گھی، خشک کھجور اور خمیر کو ملا کر بنایا جاتا ہے۔ یہ سب چیزیں ایک ساتھ موزون مقداروں میں ملا کحک کو تیار کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کحک بنانا فراعنہ کے دور میں شروع ہوا تھا۔ اس وقت فراعین کے دربار میں بیکرز سفید شہد، گھی اور گندم کے آٹے سے مختلف قسم کا کحک بناتے تھے۔ جو گول، حلزونی، مخروطی اور مستطیل اشکال کے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بیکرز کحک پر سورج کی تصویر ڈرائنگ کرتے ہیں۔ اور فراعنہ کے بادشاہوں کی بیویاں خوفو کے ہرم کے نگہبانوں کو کحک پیش کی جاتی تھیں۔ پھر آنے والے دیگر حکومتیں نے بھی کحک بنانے کی روایت کو برقرار رکھا اور اسے مزید آگے بڑھایا۔ اس طرح یہ کافی مقبول ہوا ایک روایت بن گئی اور عید الفطر منانے کا ایک مظہر بن گیا۔ قاہرہ کے میوزیم آف اسلامک آرٹ میں کحک کی تصویریں آج بھی موجود ہیں جس پر لکھا ہوتا ہے کہ (کل واشکر) اس کا مطلب کھا اور خدا کا شکر ادا کر۔ مصر میں کحک کے علاوہ عید الفطر کے کھانوں میں بسکٹ، بیٹی فور، اور غریبہ بھی ہیں۔ ان کا ذائقہ تھوڑا میٹھا ہے اور جو آٹے سے بنائے جاتے ہیں۔ مصر میں عید سے قبل تمام بیکروں پر لوگوں کا ہجوم نظر آتا ہے۔ بہترین کحک اور بسکٹ بنانے کے لئے بے شمار بڑی کمپنیوں اور بیکریوں کے پھیلاؤ کے باوجود گھروں میں کحک بنانا عورتوں کا پسندیدہ مشغلہ۔ عام طور پر مصری خواتین دعوی کرتی ہیں کہ یہ ایک روایت ہے اور وہ اس پر عمل پیرا ہیں۔ یہاں تک کہ اس کو تیار کرنے کے لئے انھیں محنت، وقت اور اخراجات درکار ہوتے ہیں۔ اور جو لوگ دکانوں سے کحک خریدنا پسند کرتے ہیں وہ کحک بنانے میں مہارت حاصل نہیں کرتے یا وقت اور محنت کو بچاتے ہیں۔ بالآخر عید الفطر میں مہمانوں کو کحک پیش کرنا ایک لازمی اور روایتی بات ہے۔ خواہ وہ گھر میں بنا ہوا ہو یا دکان سے خریدا ہوا ہو۔ تاہم اب بھی عوامی جگہوں پر گھروں میں بہت سی عورتیں کحک بناتی ہیں۔ اس وقت بچوں کی خوشی کی کوئی حد نہیں ہوتی اس لئے کہ وہ کحک بنانے میں اپنی ماں اور نانی کی خوب مدد کرتے ہیں۔ اور اپنی مرضی کے مطابق کحک کی مختلف شکلیں بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ دلہنوں اور گھوڑوں کی شکل میں بھی کحک بنائے جاتے ہیں۔ مصر میں عید الفطر کی مناسبت سے کھانا بنانے کے علاوہ عید سے دو تین دن پہلے گھر کی صفائی عید کے استقبال کی ایک روایت ہے۔
مصر میں عید سے قبل دن کو (الوقفہ) کہا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ نام (وقفہ عرفہ) سے ماخوذ ہوا تھا جو عید الاضحی حج کرنے والے پہاڑ عرفات پر کھڑے ہونے والوں سے ہیں۔ اس لئے جو دن عید سے پہلے ہوتا اس کا نام (الوقفہ) ہے۔ اس دن بال کاٹنے کے لئے مردوں سے سیلون بھر جاتے ہیں۔ اسی طرح عورتیں بھی بیوٹی پارلز جاتی ہیں۔ الوقفہ کی رات میں ماحول نعرہء تکبیر کے نعروں سے گونج اٹھتا ہے۔ فجر کی نماز کے بعد سے عید کی نماز شروع ہونے تک مساجد سے تکبیرات کی آوازیں نکلتی ہیں۔ یہ تکبیر ہر جگہ پر عام ہوتا ہے۔ یہ مساجد، گھروں، سڑکوں اور بازاروں میں ہوتا ہے۔ تکبیر کا اس طرح ہے: (اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ ۔۔۔ اللہ اکبر کبیرا والحمد للّٰہ کثیرا و سبحان اللہ بکرہ واصیلا لا الہ الا اللہ)۔ الوقفہ کی رات میں بھی زیادہ تر لوگ صبح تک جاگتے رہتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ فیملی کے ساتھ گھروں میں رہتے ہیں تو وہی بہت سارے اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ سڑکوں پر لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ پھر صبح کو طلوع آفتاب کے فورا بعد ہی مسجدوں کا رخ کرتے ہیں تاکہ عید کی نماز ادا کریں۔ لوگ اپنے بہترین لباس میں ملبوس مساجد کی طرف جاتے ہیں۔ بڑے چوکوں اور قدیم مساجد میں عید الفطر کی نماز ادا کرتے ہیں۔ نماز ختم کرنے کے بعد عید کی آمد پر مبارکباد کا تبادلہ ہوتا ہے۔ رشتہ داروں اور دوستوں کے مابین زیارتیں شروع ہوتی ہیں۔ بہت سارے لوگ پارکوں، باغوں اور سینما گھروں میں وقت گزارتے ہیں۔ اس دن بچے زیادہ خوش ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس عید کا مطلب نئے کپڑے، جھولے پر سوار ہونا، تفریحی مقامات کا سیر کرنا، باغات اور سینما جانا اور سب سے اہم بات عیدی لینا ہے۔ چنانچہ عید کے موقع پر بچوں کو بڑوں کی جانب سے عیدی دی جاتی ہے جو مصری پونڈ کی شکل میں ہوتی ہے۔ یہ عید الفطر کی سب سے خوبصورت روایت ہے۔ والدین اور رشتہ داروں کی طرف سے عید کے پہلے دن سے ہی بچے عیدی کا انتظار کرتے ہیں۔ بچوں کی عمر کے مطابق عیدی کی قدر میں فرق ہوتا ہے۔ اور اکثر بچے والدین، نانا، نانی، چچا، خالہ اور ماموں سے عیدی لیتے ہیں جو کہ مصر میں عید الفطر کی اہم روایات ہیں۔ عید کا تہوار پیار ومحبت کا پیغام ہے جو معاشرت یکجہتی اور دوسروں کے لئے خوشی اور مسرت کا احساس دلاتا ہے۔ مصر کی ان روایتوں کی وجہ سے عید الفطر کی رونقیں دوبالا ہو جایا کرتی ہیں۔ عید کے موقع پر گھروں کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں تاکہ رشتہ دار، ہمسائے اور مہمان آ جا سکیں۔ مصر میں عید الفطر کی تقریبات صرف ایک دن کے لئے نہیں ہوتی بلکہ چار دن تک جاری رہتی ہے۔
مصر اب کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے احتیاطی اقدامات کے ساتھ ساتھ ۲۰۲۱ میں عید الفطر منانے کی تیاری کر رہا ہے۔ اور کورونا کی وبا سے افراد کی صحت کی حفاظت کے لئے ایک احتیاطی منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ اس نے عید الفطر کی تعطیل قریب آنے کی وجہ سے اس وبا کے پھیلنے سے نمٹنے کے سلسلے میں احتیاطی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا، عید الفطر المبارک کے ایام میں اور دو ہفتوں کے دوران حکومت نے شام کے نو بجے شہریوں کے سامنے تمام تجارتی مراکز اور تفریحی اداروں، ریستوراں، کیفے، پارکس، باغات اور شہریوں کے لئے جمع ہونے والے دیگر مقامات کو بند کرنا طے کی ہیں۔ مقررہ وقت کے بعد، ریستوراں اور کھانے پینے کی دکانوں کی سرگرمی گھر کی ترسیل تک ہی محدود ہوگی۔ اس کے علاوہ، مساجد میں عید کی نماز کے انعقاد کے بارے میں مصری دار الافتاء نے کہا کہ عید الفطر کی نماز اس سال جمعہ کی نماز کی طرح ہوگی، اور اس کی اجازت صرف ان مساجد میں ہوگی جہاں نماز جمعہ پڑھنی جاتی ہے۔ لوگ اپنے بچے ساتھ لینا منع ہے۔ اس نے کہا بھی کہ عید کی نماز ایک تصدیق شدہ سنت ہے اور یہ امام کے ساتھ کسی گروہ میں ہونا ضروری ہے، اور اب، مہلک وبا کے پھیلاؤ سے اگر لوگوں کی جمع کرنے اور گروہوں کے قیام پر اعتراض ہو، جیسا کہ معاملہ ہے تو کسی مسلمان کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ گھر میں یا اپنے اہل خانہ کے ساتھ عید کی نماز پڑھے، اور عید کی تکبیریں عام انداز میں ادا کی جا سکتی ہیں۔ گویا عید کی نماز مساجد میں ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *