غائب شدہ لوگ

ڈی ایس پی محمد عظیم کے لئے یہ منظر نیا نہیں تھا۔
وہ جب سے Missing persons انویسٹی گیشن سیل کا انچارج بنا تھا وہ یہی مناظر دیکھ رہا تھا۔ روتے بلکتے بچے، آہیں بھرتی بیوی، دہائی دیتی ہوئی بوڑھی ماں، واسطے دیتے ہوئے ضعیف باپ، کہیں یہ سب موجود ہوتے تھے اور کہیں ان میں چند۔مگر منظر یہی تھے۔ روتے ہوئے منظر، آہوں سے بھرے منظر یا دہائیاں دیتے منظر۔
پہلے پہل تو اسے نیند کے لئے Xanax کا سہارا لینا پڑتا تھا مگر اب اس کی بھی ضرورت نہیں رہی تھی۔ اب وہ دن بھر یہ منظر دیکھ کرے بھی سو جانے کا عادی ہو چکا تھا۔ اس پوسٹ پر آئے اسے تین برس بھی تو بیت چکے تھے۔
آج کہانی وہی تھی۔ ایک صحافی جو نوکری سے برخاستگی کروا کے بھی چبھتی ہوئی ٹویٹس کرنے سے باز نہیں آیا تھا۔ دن ہاڑے۔۔سب کے سامنے اغوا ء ہو گیا تھا۔ ”یار عصمت اللہ، یہ اچھے بھلے سمجھ دار لوگ ہوتے ہیں۔ پھر یہ ٹویٹس کرنے سے باز کیوں نہیں آتے“اس نے جائے وقوعہ کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے ماتحت انسپکٹر عصمت اللہ سے سرگوشی میں پوچھا اور اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا۔ اس نے نہلے پہ دہلا مارا، ”یار یہ ٹویٹس بھی کیا ہوتی ہیں۔ مجھے تو لگتا ہے جب کسی سے زیادتی کی جارہی ہو تب اس کے بند ہوئے منہ سے جو گھٹی گھٹی چیخیں نکلتی ہیں۔۔۔وہ ٹویٹس ہی تو ہوتی ہیں۔
جائے وقوعہ بالکل واضح تھا۔ اغواء ہونے والے صحافی کی CCTV فوٹیج بھی موجود تھی۔ ٹویوٹا ویگو کا نمبر تک نظر آرہا تھا۔ اغواء کرنے والوں نے چہروں پر ڈھاٹے باندھنے کا بھی تکلف نہیں کیا تھا۔ ان کے چہرے بھی واضح نظر آرہے تھے۔اس نے حسبِ معمول اہلِ خانہ کو تسّلی دی۔بالکل بازیاب ہوجائے گا جی۔ انشاء اللہ ہم پوری کوشش کریں گے جی۔ آپ فکر نہ کریں۔ اب تو اسے اپنے ڈائیلاگ ازبر ہو گئے تھے۔لیکن ایک مشکل تھی۔ باہر اس صحافی کے چند دوست صحافی بھی جمع ہو گئے تھے اور یہ شیرہ خوار بھی نہیں تھے۔دیکھا جائے گا، اس نے اپنے آپ کو تسلی دی۔
جیسے ہی وہ باہر آیا۔ وہ صحافی اس پر ٹوٹ پڑے۔۔سوالوں کی برسات ایسی تھی کہ کوئی بھی سوال سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔آخر جب شور تھما تو اس نے رٹے رٹائے وہی تسلی کے کلمات دہرائے جو وہ گھر والوں کو بول کر آیا تھا۔پھر کسی نے کہا آپ نے ایف آئی آر درج کر لی ہے؟یوں اسے چھکا لگانے کا موقع ملا۔ کیوں نہیں جی۔۔ابھی جا کے درج کریں گے۔ ابھی آدھے گھنٹے میں آپ کو مل جائے گی آپ کے واٹس ایپ پر۔۔ہم پوری قانونی کاروائی کریں گے جی۔ پھر آخری سوال ہوا، آپ پر کوئی دباؤ ہے جی؟ آپ کے افسرانِ بالا پر؟ اس نے نہایت اطمینان سے جواب دیا،بالکل نہیں جی۔۔کوئی دباؤ نہیں ہے نہ ہی افسرانِ بالا پر ہے۔ہم میرٹ پر تفتیش کریں گے جی۔ یہ کہہ کر وہ اپنے گاڑی میں آبیٹھا۔
وہ سچ بول رہا تھا۔اسے آج تین سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا تھا، مگر اسے کبھی کوئی دباؤ والا فون نہیں آیا تھا۔ افسرانِ بالا کا معلوم نہیں تھا، لیکن اسے 27 سال نوکری کرتے ہوئے ہوئے ایڑیاں رگڑ کر اے ایس آئی سے ڈی ایس پی بنتے ہوئے اچھی طرح سمجھ آچکی تھی کہ اسے کس معاملے پر کیا کرنا ہے، کہاں گرجنا ہے، کہاں برسنا ہے اور کہاں بالکل لیٹ جانا ہے۔
اس کے فرائض منصبی کا سب سے اہم فریضہ تکینکی بہانہ بنانا تھااس طرح کہ غائب شدہ افراد اور اغواء کرنے والے کے درمیان تمام کڑیاں توڑ دی جاتی تھیں۔ ایسا بہانہ کہ عدالت بھی چکرا کہ رہ جائے، اور وہ اسی کام کا ماہر تھا۔عموماً تواغواء کرنے والے خود ہی ایسا سامان کر جاتے تھے کہ اسے ایک چھوڑ، دو تین بہانے مل جاتے تھے مگر آج اس کے لئے مشکل پیدا ہو گئی تھی۔ سب روزِ روشن کی طرح صاف تھا۔سوشل میڈیا پر اغواء کی فوٹیج چل چکی تھی۔ اندھے آدمی کو بھی سب نظر آرہا تھا۔ سارے ملک میں شور مچا ہوا تھا۔
”ہاں عصمت اللہ، آج تو بڑی مشکل پڑ گئی ہے۔۔کیا کریں؟اس نے گاڑی میں بیٹھے اپنے ماتحت سے پوچھا۔ یہ تو ہے سرجی! عصمت اللہ داڑھی کھجاتے ہوئے بولا۔یہ بندہ پٹھان یا بلوچ ہوتاتو ہم کہہ دیتے کہ طالبان اغواء کر کے لے گئے ہیں۔مجھے اپنے تخلیقی ذہن سے کام لینا پڑے گا جی!
او بس کر۔۔یار تم کون سا آئن سٹائن لگے ہوتے ہو۔ ایویں نا اپنی تعریفیں کرتا رہا کر۔جلدی سے سوچو۔۔۔کل ہائی کورٹ میں پیشی ہے۔


٭٭٭٭٭٭


اگلے روز عدالت میں جج صاحب بہت غصے میں تھے۔۔”یہ دارلحکومت میں کیا ہو رہا ہے؟ سرِ عام بندے اغواء ہو رہے ہیں۔۔آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟
ڈی ایس پی عظیم نے نہایت ادب سے تعظیم پیش کی۔ سر ہم پوری کوشش کر رہے ہیں۔ اب تک آپ نے کیا تفتیش کی ہے؟
سر ہم نے ایف آئی آر درج کر لی ہے، گھر والوں کے بیانات لے لئے ہیں۔۔
”بس“ جج صاحب نے طنزاً پوچھا
”نہیں سر، ہم نے تفتیش کا دائرہ کار بڑھایا ہے“
”اوہ! ویری گڈ۔۔کیا اغواء کاروں کی شناخت ہوئی“
سر ہم نے نادرا کو خط لکھ دیا ہے۔
کیا مطلب؟ یعنی اس جدید دور میں بھی آپ خط لکھ رہے ہیں، جائیں اور 24 گھنٹوں میں اغواء کاروں کی تلاش کریں۔
”گویا آپ کو جیسے معلوم نہیں کہ اغواء کار کون ہیں؟ ڈی ایس پی محمد عظیم نے اپنے دل میں سوچا۔۔اس دوران اس کی بے عزتی جاری تھی مگر وہ اس کا عادی تھا۔ جج صاحب بہت طیش میں تھے مگر اس نے بہانے بنا کر 5 دن کی سماعت ملتوی کرالی۔یہ اس کی پہلی کامیابی تھی۔ باقی کامیابیاں بھی ایسے ہی ملنا تھیں۔ وہ اب تک 91 کیس کھوہ کھاتے ڈال چکا تھا۔
وہ عدالت سے نکلا تو اغواء ہونے والی صحافی کی بوڑھی ماں وہیل چیئر پر اس کے سامنے رو رہی تھی۔ کچھ صحافی اس کے گرد جمع تھے۔ بوڑھی ماں کے چہرے پر غم کی لاتعداد لکیریں تھیں۔اس نے یہ آہیں، بد دعائیں بہت سنی تھیں۔ اس لئے اس کے دل پر اثر نہیں ہوتا تھا مگر اس بوڑھی ماں کے پورنور چہرے کو دیکھتے ہی وہ دہل گیا۔ فائل گرتے گرتے بچی، اس نے صرف یہ کہا تھا، ”پتر توں لبھ لیائے گا نا؟ اسے دل میں خیال آیا میں ماں جی کو کسی بتاؤں کہ میری ذمہ داری ڈھونڈنے کی نہیں۔۔کھرے ضائع کرنے کی ہے۔اس کا دل ذرا پسیچ گیاتھا۔وہ اپنے خیالوں میں واپس اپنی گاڑی میں آن بیٹھا اور گاڑی چل پڑی۔ایسا نہیں کہ وہ بڑا شقی القلب انسان تھا۔۔کرپٹ بھی نہیں تھا۔۔ہاں کبھی کبھی آسان مال لے لیا کرتا تھا۔ جمعے کی نماز پڑھ کر ان تمام گناہوں کی معافی مانگنا اس کا معمول تھا۔ کبھی کبھار دوستوں میں بیٹھ کر وہسکی بھی چڑھالیتا تھا۔اسی سمے دل کے پھپھولے پھوڑ لیاکرتے تھا تاکہ ذہن ہلکا ہو جائے۔ آج رات بھی ایسی ہی محفل برپا ہونے والی تھی۔


٭٭٭٭٭٭


”یا رعظیم تم کسے اس قدر سنگدلی کر لیتے ہو، تمہارا ضمیر بالکل ہی مرگیا ہے؟ اس کے پرانے دوست اشرف نے وہسکی کا جام اسے ٹکراتے ہوئے کہا۔ وہ اس کا لنگوٹیا دوست تھا، اس لئے چھیڑخانی کی جرأت کر لیتا تھا۔
”یار اشرف، اس ملک میں وزیرِ اعظم سے لیکر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے لے کر ایک عام آدمی تک سب کو پتا ہے کہ غائب ہونے والے غائب کیوں ہوتے ہیں؟غائب کرنے والا کون ہے؟ تو پھر مجھ سے ایک عام ڈی ایس پی سے ہی تقاضا کیوں کہ میں شہید بنوں۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں یار۔ برا مت ماننا لیکن آج کل دوست بھی دوستوں کے بچے نہیں سنبھالتے۔ لیکن اشرف اس بات کا برا مان گیا تھا۔ دونوں کی نوک جھوک جاری تھی کہ عظیم کے موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ اس نے اٹھا کر دیکھا تو سکرین پر کوئی نمبر نہیں آرہا تھا۔ وہ فوراً سمجھ گیا کہ طاقتوروں کا فون ہے۔ فوراً اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
”جی سرجی سر“
ہاں بھئی، کام ٹھیک چل رہا ہے؟
جی سر جی سر، بس چھوٹا سا پرابلم ہے سر۔
معلوم نہیں بوڑھی ماں کے امید بھرے چہرے کا اثر تھا یا وہسکی کے سرورکا یا دوست کے طعنے کا اثر تھا، وہ کہہ بیٹھا!
”سر جی، اس بار پریشر بہت ہے۔ کنٹرول کرنا مشکل ہو رہا ہے۔سر جی اگر وہ بندہ گھر پہنچ جائے تو۔۔۔
جواب میں ایک لمبی سی ہنکار آئی اور لائن کٹ گئی۔


٭٭٭٭٭٭


اگلے روز وہ اپنے دفتر پہنچا اور عصمت اللہ کے ساتھ مل کر اغواء کی فوٹیج بار بار دیکھتا رہا کہ شاید کوئی بہانہ مل جائے۔ کوئی نکتہ۔۔کوئی ٹیکنکل نکتہ۔۔کوئی بیانات میں تضاد۔۔۔ اسی عالم میں دوپہر ہو گئی۔ وہ چائے پی رہا تھا کہ موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ اس کی بیگم چیخ رہی تھی۔ ریلیکس جانم۔۔۔ پولیس کی ملازمت میں اس کو بیگم کی ملازمت بھی خوب سمجھ میں آگئی تھی۔ آرام سے بتاؤ۔۔کیا طوفان آیا ہے؟
”طوفان نہیں آیا، بلکہ ہماری بیٹی عبیرہ ابھی تک گھر نہیں پہنچی۔ ڈرائیور سکول کے باہر ابھی تک انتظار کر رہا ہے۔ یہ سنتے ہی اس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔یوں لگا جیسے ہارٹ اٹیک کی کیفیت ہو رہی ہو۔ مگر وہ تو مرد تھا اسے ہی حالات کا سامنا کرنا تھا۔ اس نے یہ کہہ کر اپنے آپ کو سنبھالا۔ اپنی سرکاری گاڑی منگوائی اور سکول کی طرف دوڑا۔ راستے میں کون کون سے وسوسے تھے جو اس کا دل چیر نہیں رہے تھے۔اس کی عبیرہ ابھی 14 سال کی ہی تو تھی۔ سکول گیٹ کی طرف جاتے پیر من من بھر کے ہو گئے تھے۔ اسے دیکھتے ہی گھر کا ڈرائیور اس کی طرف لپکا۔سرجی اتنا ہی معلوم ہوا ہے کہ کوئی ویگو ڈالے والے لے کے گئے ہیں۔ یہ سنتے ہی اسے غش آیا اور وہ وہیں گر پڑا۔ دونوں ڈرائیوروں نے اسے سنبھالا۔ سر جی سر جی۔۔ایک نیسلے کی بوتل گاڑی سے نکال لایا۔ اتنی دیر میں وہ بھی کچھ سنبھل گیا تھا۔ میں ڈی ایس پی ہوں۔ دیکھنے والے کیا سوچیں گے۔ ویسے بھی بات تو ساری سمجھ آ گئی تھی، پانی کی بوتل وہی پھینکی، ڈرائیور کی جگہ گاڑی میں خود بیٹھا اور گاڑی دوڑاتا ہوا شہر کے بیچوں بیچ اس دفتر تک جا پہنچا جہاں جانا ہر ایک کو منع تھا۔ ابھی وہ مین گیٹ کے سیکیورٹی بیرئیرز تک ہی پہنچا تھا کہ اس کے موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ سکرین پر کوئی نمبر نہیں تھا۔ اس نے فوراً فون اٹینڈ کیا، فون پر غرانے والی آواز آئی۔۔۔
”ہاں توکنٹرول مشکل ہو رہا ہے؟
اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا
غلطی ہو گئی سر، غلطی ہو گئی
گاڑی کا دروازہ کھولا اور وہیں گھٹنے ٹیک بیٹھ گیا۔ اسے یقین تھا کہ سامنے کیمرے سے اسے دیکھا جا رہا ہو گا۔
”تو پریشر بہت ہے“ پھنکارنے والی آواز پھر آئی۔
اب تو وہ ڈھ ہی گیا، ”غلطی ہو گئی سر، معاف کر دیں سر، غلطی ہو گئی سر کی گردان کرنے لگا۔ 27 سال کی نوکری نے اسے سکھایا تھا کہ طاقتوروں سے بات کرنے کا سلیقہ کیا ہے۔
اس ٹریفک سگنل پر آنے والی سینکڑوں گاڑیوں میں سوار لوگوں نے دیکھا کہ ایک پولیس جیپ اس پراسرار دفتر کے بیرئیرز کے سامنے کھڑی ہے اور اس جیپ کے ساتھ ایک پولیس افسر گھٹنے ٹیک کر بیٹھا ہاتھوں کو جوڑے بے چارگی کے عالم معلوم نہیں دعا مانگ رہا تھا کہ معافی۔۔۔ پھر سگنل کھلا اور گاڑیاں آگے بڑھ گئیں۔
تب سے اب تک اور معلوم نہیں کب تک۔۔۔۔ لوگ غائب ہو جاتے ہیں۔۔۔ قسمت اچھی ہو تو دو چار لوٹ آتے ہیں مگر بتا نہیں پاتے کہ جانے کس دیس میں گئے تھے۔ڈی ایس پی محمد عظیم اپنے عہدے پر قائم ہے۔

٭٭٭٭٭٭

غائب شدہ لوگ” پر ایک تبصرہ

  • August 3, 2021 at 1:44 am
    Permalink

    اجمل شاہ دین آپ نے تلوار کی دھار پر چلنے کی کوشش کی ہے۔ اللہ آپ کاحامی و ناصر ہو۔ لیکن بصد معذرت یہ لوگ " گم شدہ" نہیں "گم کردہ" ہیں کوٸ ہرج نہ ہو تو تصحیح کرلیں۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *