غربت کے خاتمے کیلئے جامع حکمت عملی مرتب کرلی گئی، وزیر اعظم

وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے حکومت نے معاشی طور پر کمزور طبقے کو غربت سے نکالنے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کرلی ہے۔

 رپورٹ کے مطابق 'کامیاب پاکستان پروگرام' کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے بھارت اور چین کی مثال دی اور کہا کہ چین نے پچھلے 30 سالوں میں لاکھوں لوگوں کو ایسے اقدامات کے تحت غربت سے نکالا جبکہ بھارت اس میں ناکام رہا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ 'معاشرے کے غریب طبقات کو مالی اعانت فراہم کرنے کے علاوہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو معاشی طور پر خود کفیل بنانا ہے'۔

وزیر اعظم کے ایک مشیر نے میڈیا کو بتایا کہ 'حکومت مہنگائی کو ختم نہیں کرسکتی تاہم یہ عام آدمی کی قوت خرید کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کررہی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم قیمتوں کو ان کے پچھلے مقام پر نہیں لاسکتے ہیں لیکن ہم لوگوں کی قوت خرید کو بہتر بنا سکتے ہیں تاکہ مہنگائی ان پر اثر انداز نہ ہو'۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے لوگوں کی قوت خرید کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں کیونکہ کسانوں اور زراعت کے شعبے کو سبسڈی کی شکل میں 11 کھرب روپے دیے گئے ہیں جس سے ملک کی 70 فیصد آبادی جو دیہی علاقوں میں رہتی ہے، کو فائدہ ہو رہا ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزیرِ خزانہ شوکت ٓترین، معاونینِ خصوصی وقار مسعود، عثمان ڈار، چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر، چیئرمین حبیب بینک سلطان علی الانہ، صدر پنجاب بینک ظفر مسعود، متعلقہ اعلی حکام اور اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

اجلاس کو کامیاب جوان پروگرام کے تحت کامیاب کاروبار، کامیاب کسان اور کامیاب ہنرمند پروگرام، کم لاگت رہائشی اسکیموں اور کامیاب پاکستان ہاؤسنگ کے لیے قرضوں کو ایک پروگرام، کامیاب پاکستان پروگرام میں شامل کرنے پر بریفنگ دی گئی۔

وزیر اعظم کی ہدایت پر حکومت نوجوانوں سے متعلق تمام پروگرامز کو کامیاب پاکستان پروگرام کی چھت تلے لے آئی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کامیاب پاکستان پروگرام ملک میں معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے اور لوگوں کو روزگار کیلئے خود کفیل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

پروگرام کے تحت بڑے پیمانے پر نئے امید واروں کو کاروبار، کم لاگت رہائش اور زرعی قرضے فراہم کیے جائیں گے جو نہ صرف روزگار کے مواقع فراہم کریں گے بلکہ معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ غربت کے خاتمے، جی ڈی پی نمو اور بینکنگ شعبے کو مظبوط کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔

دریں اثنا وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تمام اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ معیشت میں بہتری آئی ہے اور شرح نمو کا تخمینہ تقریبا 3.94 فیصد لگایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کو 10 ارب ڈالر سے زائد سالانہ ڈیٹ سروسز حاصل ہیں جو بنیادی طور پر مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی جانب سے مختصر مدتی اور مہنگے تجارتی قرضے (17 ارب ڈالر) اور اضافی بیرونی قرضے (49 ارب 76 کروڑ ڈالر) کی وجہ سے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران حکومت کو بیرونی قرضوں، جن میں پرنسپل اور سود کی ادائیگی بھی شامل ہے، کے لیے تقریباً 10 ارب 36 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کرنا پڑی جبکہ متوقع آمدنی کا تخمینہ 14 ارب 37 کروڑ ڈالر تھا۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ 'مالی سال 21-2020 کے پہلے 10 ماہ کے دوران حکومت نے 7 ارب 52 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کی ہے جس میں بطور پرنسپل 6 ارب 31 کروڑ ڈالر اور ایک ارب 21 کروڑ ڈالر سود کی ادائیگی کے طور پر شامل ہیں'۔

احساس ون ونڈو سینٹر

وزیر اعظم عمران خان نے پہلا احساس ون ونڈو سینٹر کا افتتاح کردیا، مرکز کا مقصد ایک پلیٹ فارم پر غریبوں کو احساس پروگرام کے تمام اجزا سے متعلق سروسز فراہم کرنا ہے۔

غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ سے متعلق وزیر اعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا کہنا ہے کہ جلد ہی ملک کے تمام اضلاع میں ایسے مراکز کھولے جائیں گے۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے وزیر اعظم کو مرکز میں احساس پروگرام کے تحت 20 سروسز پیش کرنے کے بارے میں بتایا تو وزیر اعظم نے کہا کہ 'یہ ایک فلاحی ریاست کی بنیاد ہے'۔

سروسز میں احساس ہنر، احساس یوٹیلیٹی اسٹور، لنگر خانہ، وسیلہ تعلیم، احساس نشونوما، احساس کفالت سے مستفید ہونے والے افراد کو ادائیگی کے لیے اے ٹی ایم، ایک خاتون ایک اکاؤنٹ، احساس تحفظ، احساس وائی فائی کیفے، احساس اسکالرشپ، احساس سود کے بغیر قرضے اور نادرا کا دفتر برائے بائیو میٹرک تصدیق شامل ہیں۔

وزیر اعظم نے افتتاح کرنے کے بعد مرکز کا چکر لگایا اور احساس پروگرام سے فائدہ اٹھانے والوں اور عہدیداروں سے بات چیت کی۔

انہوں نے مرکز کے احاطے میں پودا بھی لگایا۔

مرکز کے اندر قائم یوٹیلیٹی اسٹور کے حوالے سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا گیا کہ اس سے ضرورت مند لوگوں کیسے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

بریفنگ کے دوران ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے وزیر اعظم کو بتایا کہ ون ونڈو سینٹر میں ایک سے زیادہ ستون ہیں جس میں احساس ڈیجیٹل، موبائل ایپلیکیشن، بیک آفس اور فائدہ اٹھانے والوں کی پالیسی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک گیر سروے 91 فیصد مکمل ہوچکا ہے جو انضمام کے بعد تمام احساس پروفرامز کی رسائی میں ہوگا تاکہ وہ کسی درخواست دہندہ کی اہلیت اور ضروریات کا پتہ لگانے کے قابل بن سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل اس عمل میں ایک تضاد پایا گیا تھا کیونکہ ایجنسیاں اہلیت کے مختلف طریقوں کا استعمال کررہی تھیں اور بااثر خاندان اس سے فائدہ اٹھا رہے تھے جبکہ مستحق افراد کو ان کے حقوق سے محروم کردیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل معذور افراد کی رجسٹریشن کا ایک مشکل اور لمبا طریقہ تھا لیکن ڈیٹا بیس اس کو آسان بنائے گا اور متعلقہ ایجنسیوں کو وہیل چیئر جیسی ضروریات جاننے کے قابل بنائے گا۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ ون ونڈو ڈیجیٹل پر لوگوں کی جانب سے اسکالر شپ، قرضوں وغیرہ سے متعلق اکثر پوچھے گئے سوالات کا جواب آسان اردو میں دیا جائے گا۔

اس کے علاوہ موبائل ایپلیکیشن سے لوگوں کو قریب ترین پناہگاہ یا لنگر خانہ تلاش کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی جانب سے پیش کردہ تعلیمی اسکالرشپ طلبہ کے مفادات کے لیے ایک ہی ڈیٹا بیس میں مستحکم کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ملک گیر سروے کی بنیاد پر تیار کیا جانے والا ڈیٹا بیس حکومت کو یہ جاننے میں مدد دے گا کہ کون زکوٰۃ وصول کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیٹا بیس حکومت کو ضرورت مند لوگوں کو براہ راست سبسڈی دینے میں مدد فراہم کرے گا تاکہ وہ یوٹیلیٹی اسٹورز کے ذریعہ کم قیمتوں پر اشیا خرید سکیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: