غزل‎‎

میں تجھکو دیکھ کے بے اختیار ہوتا ہوں
تری اداؤں پہ ہر پل نثار ہوتا ہوں

نظر اُٹھاؤں جِدھر ،تو دِکھائی دے مجھکو
میں ہم کلام بھی تو بار بار ہوتا ہوں

تمہاری یاد تسلّی کا ہاتھ رکھتی ہے
میں جب اکیلے کبھی بیقرار ہوتا ہوں

تری گلی میں کبھی جھانک نیم شب جاناں
میں شب کو کرتے ستارے شمار ہوتا ہوں

قطار اُن سے ملاقات کی لگے جب بھی
فہیم میں بھی دُرونِ قطار ہوتا ہوں