غزل

اب کہاں پہ ایماں ہے اور کہاں مسلماں ہے
حاصلِ سکوں کوئی اور نہ کوئی درماں ہے

کوئی ہے نہ ایوبی اور نہ کوئی سلطاں ہے
لٹ رہی ہے اب عزت خاک کوئی امکاں ہے

ہاتھ میں لئے پتھر لڑرہے ہے دشمن سے
زندگی ہے اک فاقہ پاس کچھ نہ ساماں ہے

فیصل اور عثمانی تجھ کو بھول بیٹھے ہیں
ہے عرب تماشائی اس پہ کیوں تو حیراں ہے

یاں ہر ایک ہاتھوں پر ہاتھ رکھ کے بیٹھا ہے
کیا فہیم کر پائے وہ تو بے گریباں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: