Site icon Dunya Pakistan

غزل

اب کہاں پہ ایماں ہے اور کہاں مسلماں ہے
حاصلِ سکوں کوئی اور نہ کوئی درماں ہے

کوئی ہے نہ ایوبی اور نہ کوئی سلطاں ہے
لٹ رہی ہے اب عزت خاک کوئی امکاں ہے

ہاتھ میں لئے پتھر لڑرہے ہے دشمن سے
زندگی ہے اک فاقہ پاس کچھ نہ ساماں ہے

فیصل اور عثمانی تجھ کو بھول بیٹھے ہیں
ہے عرب تماشائی اس پہ کیوں تو حیراں ہے

یاں ہر ایک ہاتھوں پر ہاتھ رکھ کے بیٹھا ہے
کیا فہیم کر پائے وہ تو بے گریباں ہے

Exit mobile version