غزل

منافق سے شکستہ خاطری دیکھی نہیں جاتی

پریشاں دیکھ لیتے ہیں خوشی دیکھی نہیں جاتی

چمن یہ جان لو رہتی نہیں شادابیاں ہر پل

خزاں کی ہم سے یہ بخیہ گری دیکھی نہیں جاتی

اٹھاتے ہیں جو مجھ پر انگلیاں کچھ لوگ وہ یوں ہے

مری ان سے یہ رنگِ سادگی دیکھی نہیں جاتی

لگا کہنے غزل تو یہ جہاں حیرت زدہ کیوں ہے

زمانے سے کیا میری شاعری دیکھی نہیں جاتی

فہیم اب یوں زمانہ تیرے مجنوں پن پہ ہنستا ہے

محبت میں تری دیوانگی دیکھی نہیں جاتی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *