Site icon Dunya Pakistan

غزل

منافق سے شکستہ خاطری دیکھی نہیں جاتی

پریشاں دیکھ لیتے ہیں خوشی دیکھی نہیں جاتی

چمن یہ جان لو رہتی نہیں شادابیاں ہر پل

خزاں کی ہم سے یہ بخیہ گری دیکھی نہیں جاتی

اٹھاتے ہیں جو مجھ پر انگلیاں کچھ لوگ وہ یوں ہے

مری ان سے یہ رنگِ سادگی دیکھی نہیں جاتی

لگا کہنے غزل تو یہ جہاں حیرت زدہ کیوں ہے

زمانے سے کیا میری شاعری دیکھی نہیں جاتی

فہیم اب یوں زمانہ تیرے مجنوں پن پہ ہنستا ہے

محبت میں تری دیوانگی دیکھی نہیں جاتی

Exit mobile version