غزل

چند اشعار کہے اور خفا ہو گئے تم
یار کیا بات ہوئی ہم سے جدا ہوگئے تم

ایک دنیا تمہیں شیطان صفت مانتی ہے
چند نے کر لیا سجدہ تو خدا ہو گئے تم

قسمیں کھائی تھیں کہ باہم کبھی ہوں گے نہ جدا
اک ذرا ساتھ جو چھوٹا مرا کیا ہو گئے تم

خواہ نادانی میں رکھتے تو بھرم الفت کا
اب یہ کہتے ہو کہ کس غم میں فنا ہو گئے تم

زندگی یوں ہے پر امید فہیم اختر کی
رب سے مانگی ہوئی بے لوث دعا ہو گئے تم

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *