غزل

بھلا کس بات کی خاطر مجھے اب آزمائے گا
فریب اور جھوٹ، مکاری سے کوئی کیا ڈرائے گا

وہ دعوی کرتا ہے دنیا کو انگلی پر نچانے کی
علاوہ اس کے اک نادان کو اور کیا سجھائے گا

بھلے چرچہ ہے اس کا مدتوں سے شہر میں لیکن
یہ شہرت، نام، عہدہ قبر میں کب کام آئے گا

سدا سے بر سرِ پیکار ہے باطل سے حق گوئی
کوئی کرب و بلا کی جنگ کو کیسے بھلائے گا

چھپائے پھرتے ہیں خنجر وہ اپنے آستینوں میں
بھلا پھر دوستوں سے ہاتھ کوئی کیا ملائے گا

فہیم اب شہر ہے ویران اور تاریک گلیاں ہیں
سو بس تو ہے جو ان بجھتے دیوں کو پھر جلائے گا

error: