غزل

ستا کے مجھ کو منانے کی بات کرتے ہیں
جلا کے دل کو بجھانے کی بات کرتے ہیں

اجاڑ دیتے ہیں پل بھر میں گلشنِ ہستی
نیا جو شہر بسانے کی بات کرتے ہیں

نہ آ سکیں گے پتنگے تمہاری محفل میں
سو کیوں یہ شمع جلانے کی بات کرتے ہیں

تھکی ہے آنکھ، تھکا ہے نہ حوصلہ میرا
ابھی تو آئے ہیں، جانے کی بات کرتے ہیں

ذرا سی بات پہ دیوار اٹھانے والے فہیم
ہمیشہ رشتے نبھانے کی بات کرتے ہیں

error: