غزل

صرف تجھ سے ہی لگن دل کی لگانی ہے مجھے
ما سوا اس کے بھلا کیا پریشانی ہے مجھے

راج کرتی ہے مرے دل پہ وہ ملکہ کی طرح
تاش کے پتوں میں وہ حکم کی رانی ہے مجھے

اپنی قسمت میں لکھا ہی نہ گیا پیار اس کا
اب جہاں جاؤں فقط چوٹ ہی کھانی ہے مجھے

روٹی مل جائے مگر جس جگہ عزت نہ ملے
اس سے بہتر تو مرے در کا ہی پانی ہے مجھے

ڈھونڈتا رہتا ہے دل شام و سحر اب بھی اسے
منزلیں ہوں نہ ہوں پر راہ نے ٹھانی ہے مجھے

دے دیا دل بنا سمجھے ہی اسے میں نے فہیم
جو بھی ہونا تھا ہوا، کیوں پشیمانی ہے مجھے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: