غزل

عزتوں کو سنبھال رکھا ہے
اس نے میرا خیال رکھا ہے

ایک ہی جان ہے اسے تم نے
کس مصیبت میں ڈال رکھا ہے

کس سے مانگیں صلہ وفاؤں کا
ہائے کیسا سوال رکھا ہے

اس کا کوئی نہیں علاج میاں
تم نے جو روگ پال رکھا ہے

خدمت خلق کو نہیں کچھ بھی
جیب میں ہاتھ ڈال رکھا ہے

حالِ دل کہہ کے بر سرِ محفل
اس نے دھڑکن بحال رکھا ہے

پوچھتے ہیں وہ یہ ہی مجھ سے فہیم
تم نے کس درجہ مال رکھا ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: