غزل

یوں بے سبب ہی تو اس کے قریں ٹھہرتا ہے
پھر زمانے سے کیسا گلہ یہ کرتا ہے

کچھ ایسے دل پہ ہے قبضہ کسی پری وَش کا
دل اس کے ناز اٹھاتا ہے اس پہ مرتا ہے

چراغاں قبر پہ ہوتا ہے بس امیروں کے
کہاں غریب کے گھر میں چراغ جلتا ہے

ہر ایک شئے میں خدا ہے ہر اک جگہ ہے خدا
تو کس نے کہہ دیا مسجد میں صرف ملتا ہے

ضرور کھوٹ ہے نیت میں اے فہیم اس کی
زبان دے کے وہ ہر بار ہی مکرتا ہے

error: